روس کی شام میں نسلی صفایے کی پالیسی

روس کی شام میں نسلی صفایے کی پالیسی

428903
روس کی شام میں نسلی صفایے کی پالیسی

وزیر اعظم احمد داؤد اولو نے قازقستان کے دورے سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ماردن میں اعلان کردہ دہشت گردی کیخلاف جدوجہد کاروائی منصوبہ فوری طور پر تیار نہیں ہوا ہے بلکہ اسے ایک عمل کے نتیجے میں تیار کیا گیا ہے ۔

اس منصوبے کے ایک اہم حصے کو سول سوسائیٹیز کےساتھ مل کر تیار کیا گیا ہے اور اس منصوبے کے بارے میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔اق پارٹی کے ہر دور میں جمہوری بننے کی راہ میں اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور ایک نئے پیکیج کا بھی عنقریب ہی اعلان کر دیا جائے گا ۔ انھوں نے روس کی حمایت حاصل ہونے والی اسد انتظامیہ کے قتل عام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روس کے شام میں نسلی صفایے کی پالیسی سے متعلق ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ دہشت گرد تنظیم پی وائے ڈی اور انتظامیہ کے لیے راہیں ہموار کرنے کےلیے اور داعش کو تحفظ دینے کے لیے عربوں ،ترکمینوں ،کردوں اور سنیوں کو در بدر کیا ہےکیونکہ اگر ملک میں صرف داعش باقی رہ گئی تو جنیوا کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے کو ئی اعتدال پسند مخالف موجود نہیں رہے گا ۔ مخالفین نے شامی فوج ،بمباری ،کیمیائی ہتھیاروں اور بیرل بموں کا طویل عرصے تک ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن اب ایران اور روس بھی میدان میں آ گئے ہیں ۔اس کے باوجود حلب مزاحمت کو جاری رکھے ہوئے ہے اور پوری دنیا کے سامنے اپنی بہادری کی داستانیں لکھ رہا ہے ۔



متعللقہ خبریں