یورپی پارلیمنٹ کا فیصلہ جانبدارانہ اور گمراہ کن ہے

یورپی پارلیمنٹ میں جانبدارانہ نقطہ نظر سے کئے جانے والے فیصلے میں 126 قبرصی سول ترکوں کے قتل کا بالکل ذکر نہ کیا جانا فیصلے کے جانبدارانہ اور گمراہ کن ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے: ایراولو

244301
یورپی پارلیمنٹ کا فیصلہ جانبدارانہ اور گمراہ کن ہے

یورپی پارلیمنٹ کے لاپتہ افراد سے متعلق ترکی کی مذمت کا فیصلہ کرنے پر شمالی قبرصی ترک جمہوریہ میں ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔۔۔
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے صدر درویش ایراولو نے اس فیصلے اور فیصلے سے متعلق اخبارات میں شائع ہونے والے بیانات کے بارے میں تحریری ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایراولو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی جنرل کمیٹی کی 12 فروری 2015 کی نشست میں جو فیصلہ کیا گیا ہے اُس میں اور اس سے متعلق نشریاتی اداروں میں شائع ہونے والی خبروں میں جمہوریہ ترکی کے بارے میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے والی، نامکمل اور جانبدارانہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
صدر ایر اولو نے کہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں جانبدارانہ نقطہ نظر سے کیا جانے والے فیصلے میں زیادہ تر عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں پر مشتمل 126 قبرصی سول ترکوں کو یونانیوں کی طرف سے قتل کئے جانے کا ، مرادآغا، آتھ لی لار، ساندال لار اور تیرازی ۔تاتلی سو۔ تاشقنت میں کئے گئے قتل عاموں کا بالکل ذکر نہ کیا جانا فیصلے کے جانبدارانہ اور گمراہ کن ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔
ایر اولو نے کہا کہ لاپتہ افراد کی کمیٹی نے دونوں معاشروں سے متعلقہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے متعین کردہ ایک تیسرے رکن پر مشتمل ایک خودمختار کمیٹی کی شکل میں کام کیا اور کمیٹی کے تعلقات جزیرے کے ترک حکام کے ساتھ نہایت ہم آہنگی اور تعاون کی فضاء میں جاری ہیں۔
درویش ایر اولو نے کہا کہ بعض کھدائیوں کے بارے میں کاروائیاں جاری ہیں اور اس کام کے مکمل ہونے سے پہلے جزیرے کے فوجی حکام کو قصوروار ٹھہرایا جانا غلط، غیر منصفانہ اور انسانی حقوق کے منافی رویہ ہے۔


ٹیگز:

متعللقہ خبریں