انقرہ پاکستان انٹرنیشنل اسکول میں دنیا کے مختلف ممالک کے طلباء کی گریجویشن پر رنگا رنگ تقریب

سفارتخانہ پاکستان کی نگرانی میں چلنے والا یہ اسکول یونیورسٹی آف کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن (CAIE) سے منسلک ہے اور  یہ  پری اسکول سے شروع ہو کر  گریڈ 12 (ہائی اسکول) تک CAIE پروگرام کی کے تحت کام کرتا ہے

1845810
انقرہ پاکستان انٹرنیشنل اسکول میں دنیا کے مختلف ممالک کے طلباء کی گریجویشن پر رنگا رنگ تقریب

 

 

ترکی کے دارالحکومت  انقرہ میں پاکستان ایمبیسی  انٹرنیشنل  اسٹڈی گروپ (PEISG) جو   ایک اسکول سے زیادہ   اقوام ِ متحدہ جیسے ادارے کا منظر پیش کرتا ہے میں اس وقت 65 ممالک کے  طلبا ء و  طالبات پاکستان کے پرچم  تلے   زیر تعلیم ہیں میں گزشتہ ہفتے     کرونا وائرس کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد پہلی بار گریجویشن  اور ایوارڈ کی تقریب  منعقد  ہوئی۔

 

 

سفارتخانہ پاکستان کی نگرانی میں چلنے والا یہ اسکول یونیورسٹی آف کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن (CAIE) سے منسلک ہے اور  یہ  پری اسکول سے شروع ہو کر  گریڈ 12 (ہائی اسکول) تک CAIE پروگرام کے تحت  یعنی چار  مراحل  میں ہر بچے کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مختلف پہلوؤں کو پورا کرتا ہے۔پاکستانی اسکول  کے سربراہ یا  ڈائریکٹر  کی حیثیت سے  غالب گیلانی  خدمات سر انجام دے رہے ہیں جو ایک پیشہ ور ماہر تعلیم ہیں اور غیر ممالک میں پاکستان کے مختلف اسکولوں میں اس قبل مختلف  حیثیتوں سے اپنے فرائض سر انجام  دیتے چلے آئے ہیں۔

 

 

پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسٹڈی گروپ (PEISG) ایک غیر منافع بخش، نیم سرکاری ادارہ  ہے  جس کے تمام پروگراموں کی   توثیق   یونیورسٹی آف کیمبرج کی نگرانی  میں کی جاتی ہے۔ اس اسکول میں موجودہ دور میں 65 مختلف ممالک کے    360 طلباء   زیر تعلیم ہیں جو اسے  صحیح معنوں میں  ایک بین  الاقوامی ادارے کا روپ عطا کیے ہوئے ہے۔ اس اسکول میں 39 اساتذہ جن کا تعلق دس مختلف ممالک سے ہے،  اسے پاکستان کے قومی پرچم تلے جمع کیے ہوئے ہے،   پاکستان کے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں۔ اس اسکول  سے فارغ التحصیل  طلباء کی  بین الاقوامی  شہرت یافتہ یونیورسٹیوں خاص طور پر   انجنئیرنگ، میڈیسن  اور  کمپیوٹر  سائنس  فیکلٹیز    میں   میں داخلے کی شرح  100 فیصد  کے لگ بھگ ہے۔

 

دنیا کے مختلف ممالک کی طرح ترکی میں بھی  گزشتہ تین سالوں سے  کرونا وائرس کویڈ -19 کے نتیجے  میں  لاگو اجتماعات  پر   پابندیوں کے خاتمے کے بعد  پہلی بار   گریجویشن  اور ایوارڈ کی  تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس تقریب میں بڑی تعداد میں  پاکستانی، ترکی اور غیر ممالک کے طلبا اور ان کے  والدین نے شرکت کی۔

 

 

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور اس کے انگریزی ترجمے سے ہوا۔

تلاوتِ کلام  پاک کے بعد اسکول کے سربراہ اور ڈائریکٹر  غالب گیلانی  نے اپنے  افتتاحی خطاب  میں   کہا کہ  یہ ایسا بین الاقوامی اسکول ہے  جس میں داخلہ لینے کے لیے والدین قطاروں میں لگے ہوئے دکھائی دیتے  ہیں  جس کی وجہ اس اسکول کا بین اقوامی سطح پر بہترین  معیار  کا حامل  ہونا ہے، یہ ایک ایسا اسکول ہے جسے  کامیابیوں کا  سو فیصد وسیلہ  سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ  اسکول کے تمام اساتذہ  پوری محنت اور لگن سے  ان بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے اپنی انتھک  محنت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اس موقع پر اس اسکول سے فارغ التحصیل  ہو کر دنیا کی اعلیٰ ترین  یونیورسٹیوں  میں اسکالر شپ حاصل کرنے اور  داخلہ لینے والے  طلبا  ء کے ناموں کا بھی اعلان کیا۔ 

ڈائریکٹر اسکول  غالب گیلانی  کے خطاب کے بعد   اسکول  کی مختلف کلاسوں سے تعلق رکھنے والے  طلباء و طالبات  نے   ثقافتی شو پیش کیا ۔

 اس تقریب میں  پاکستان کے مقامی  لوگ رقص کے علاوہ انٹرنیشنل  سطح پر مشہور مختلف ادوار  یا دہائیوں  کے نغموں کو بڑے دلکش انداز میں    پیش کرتے ہوئے  حاضرین کے دل موہ  لیے گئے ۔

 

 

علاوہ ازیں غیر ملکی طلبا اور طالبات  نے  پاکستان  کے مشہور قومی نغمے " سوہنی دھرتی" کی دھن بجا کر  حاضرین  سے خوب داد وصول کی۔

 

 

 طلبا اور طالبات نے جوڈے کراٹے کا  بھی بہترین  مظاہرہ کیا۔ ترک لوک رقص کو بھی اس تقریب میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی ۔

 

 

بعد ازاں پرائمری اسکول کی طالبہ اور طالبِ علم  کے   لاطینی ڈانس  نے تقریب میں موجود تمام  حاضرین کو اپنی طرف نہ صرف متوجہ کیا بلکہ تمام حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔

 

 

پروگرام کے آخر میں جب   امسال  اسکول سے فارغ التحصیل  تمام طلباء و  طالبات گریجویشن  گاون پہنے  اسٹیج پر مدعو کیا گیا  تو انہوں نے اپنی کیپ ہوا میں اچھال کر اپنی خوشی میں حاضرین کو بھی شامل کرلیا۔

 

 

اس تقریب کےمہمان خصوصی ، سفیر ِ پاکستان  جناب  محمد سائرس سجاد قاضی  نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ " یہ ہمارے لیے خوشی کا باعث ہے   کہ پاکستانی اسکول ترکی اور پاکستان کے درمیان ہی نہیں بلکہ غیر ممالک کے ساتھ بھی ایک دوستانہ   پل قائم کرنے میں بڑا نمایا ں  کردار ادا کررہا ہے،  انہوں نے بچوں کے والدین کا پاکستانی اسکول پر اعتماد کرنے پر  شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستانی  اسکول انقرہ میں   تمام پاکستانیوں ، ترکوں اور غیر ملکیوں کے درمیان  دوستی کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے  کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

 

 

بعد میں سفیر پاکستان نے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و  طالبات میں سرٹیفیکیٹ اور نمایاں  کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر   ایوارڈ  تقسیم کیے اور یوں یہ تقر یب   چائے کی تواضع سے اپنے اختتام کو  پہنچی۔

 



متعللقہ خبریں