ترکیہ اور توانائی 28

روس ۔ یوکرین جنگ چھڑنے کے بعد گیس کا بحران اور اس کا حل

2161417
ترکیہ اور توانائی 28

فروری 2022 میں شروع ہونے والی روس-یوکرین جنگ،  قدرتی گیس کا زیادہ تر حصہ روس سے  لینے والے یورپ میں شدید تشویش کا باعث بنی۔

روس نے اعلان کیا کہ وہ یورپی یونین کی  اس پر پابندیوں کے بعد قدرتی گیس صرف روبل میں فروخت کرے گا۔

اور اس نے یورپ کو برآمد کی جانے والی گیس کی مقدار کو محدود کر دیا۔یہ صورتحال خاصکر 2022 کے دوسرے عشرے میں  گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا موجب بنی۔

اسی اثناء بحیرہ بالٹک کے راستے جرمنی  کو روسی قدرتی گیس کی ترسیل کرنے والی  نارڈ سٹریم پائپ لائن حملے کے باعث ناکارہ بن گئی۔

بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ قدرتی گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوا۔ اس صورتحال نے پوری دنیا بالخصوص یورپ کو متاثر کیا۔

یورپی یونین کے ممالک، جو اپنی قدرتی گیس کا تقریباً نصف حصہ روس سے خریدتے تھے، نے  مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یورپی یونین کی ایل این جی کی درآمدات 2019 سے 2023 تک دگنی ہوگئیں۔ اس عرصے کے دوران ناروے 53.4 فیصد کے ساتھ یورپ کو سب سے زیادہ قدرتی گیس فراہم کرنے والا ملک بن گیا۔ الجزائر 15.9 فیصد کے ساتھ ناروے کے بعددوسرے نمبر پر رہا۔

تاہم، بحران نے یورپ کو گہرائی سے متاثر کیا۔ 2022 کے دوسرے نصف حصے میں، جرمنی اور فرانس نے بچت پیکجز کو نافذ کیا۔ سرکاری دفاتر میں ہیٹنگ اور روشنیوں میں کافی حد بندی لائی گئی۔

جنگ چھٰڑے تین سال بیت چکے ہیں تو یورپی یونین کے ممالک  کی مائع قدرتی گیس کی مانگ جاری ہے۔

انادولو ایجنسی کی یورپی یونین ریگولیٹری کوآپریشن ایجنسی کی طرف سےجاری کردہ  رپورٹ  سے متعلق خبر کے مطابق ،  عالمی سطح پر ایل این جی کی کھپت جنگ چھڑنے کے بعد سے ابتک ریکارڈ سطح تک بڑھ گئی ہے ۔یہ 40  بلین کیوبک میٹر  کے اضافے سے 557 بلین کیوبک میٹر تک پہنچ گئی ہے۔

یورپ ، 2021 کے مقابلے میں 57 بلین کیوبک میٹر کے اضافے کے ساتھ، طلب میں سب سے زیادہ اضافہ ہونے والا خطہ ہے۔جو کہ  ایل این جی کی مجموعی  تجارت کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ تھا۔

وہ ممالک جو روس یوکرین جنگ کے بعد یورپ میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کو ایل این جی اور سٹوریج کی طرف رخ کر کے حل چارہ تلاش کرنے کے متمنی  تھے میں سے ، جرمنی نے ایل این جی کی درآمدات میں سب سے زیادہ اضافہ اپنی تنصیبات کے ساتھ سر انجام دیا۔

یورپی یونین کے ممالک نے 134 بلین کیوبک میٹر ایل این جی درآمد کی، جس میں سے تقریباً 18 بلین مکعب میٹر روس سے خریدی گئی۔

فرانس نے 30 بلین کیوبک میٹر اور اسپین نے 25 بلین کیوبک میٹر ایل این جی درآمد کی۔ ہالینڈ، اٹلی اور بیلجیئم نے بھی اسی چیز پر عمل درآمد کیا۔

گیس برآ مد کرنے والے ممالک کے فورم کی طرف سے شائع کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے ممالک نے مارچ میں پائپ لائنوں کے ذریعے مجموعی طور پر 14 بلین کیوبک میٹر قدرتی گیس درآمد کی۔

یہ حجم گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ تھا۔

2023 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں  امسال کی پہلی سہ ماہی میں روس کی جانب سے یورپی یونین کوپائپ لائن کے ذریعے برآمد کردہ  قدرتی گیس کی مقدار 23 فیصد اضافے کے ساتھ 7 بلین کیوبک میٹر سے تجاوز کر گئی۔ روس سے یورپی یونین کو ترسیل کردہ گیس کا 53 فیصدبراستہ  ترکیہ سر انجام دیا گیا۔

یورپی یونین کی جانب سے مارچ میں پائپ لائنوں کے ذریعے خریدی جانے والی قدرتی گیس کی مقدار میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ ہوا۔ مارچ میں گیس کی درآمدات  دسمبر 2022 کے بعد سے یورپی یونین کوپائپ لائن کے ذریعے برآمد کردہ  ماہانہ طور پر  بلند ترین سطح  پرتھی۔

اس سال کے پہلے تین مہینوں میں پائپ لائن کے ذریعے یورپی یونین کو سب سے زیادہ گیس برآمد کرنے والا ملک ناروے تھا جس کا حصہ 57 فیصد تھا، اس کے بعد روس 18 فیصد اور الجزائر 17 فیصدکے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے ۔

روس یوکرین جنگ کی وجہ سے، یورپی یونین نے اپنی قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کو تیز کر دیا۔ یورپی یونین نے 2023 میں اپنی 44 فیصد بجلی گرین انرجی ذرائع سے پیدا کی جو کہ ایک ریکارڈ تھا۔ اس کا  27 فیصد ونڈ  اور شمسی توانائی پر مشتمل تھا۔

کئی ممالک نے اپنے نیوکلیئر پاور پلانٹس کو بند کرنے کے منصوبوں کو موخر کر دیا۔ جرمنی اور فرانس کے شدید دباؤ کے باعث  نیوکلیئر پاور پلانٹس کی "گرین انرجی" کے طور پر درجہ بندی کر دی گئی۔

جنگ نے امریکہ کو بھی یورپی توانائی کی منڈی میں داخل کردیا۔ یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان 2022 میں ایل این جی کا معاہدہ  طے ہوا ۔ جس کے مطابق یورپی یونین کے ممالک امریکہ سے سالانہ 50 بلین کیوبک میٹر ایل این جی خرید سکتے ہیں۔



متعللقہ خبریں