ترک لوک کہانیاں۔02

میرے کہانی گھر میں آمد کا بہت بہت شکریہ اور بہت بہت خوش آمدید، آج کی کہانی کے "جادوئی انار"

2161383
ترک لوک کہانیاں۔02

میرے کہانی گھر میں آمد کا بہت بہت شکریہ اور بہت بہت خوش آمدید۔ میں نے بہت سوچ بچار کے بعد آج آپ کے لئے "جادوئی انار" کی کہانی منتخب کی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس کہانی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے۔

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اس عالمِ رنگ و بُو کے ایک خطّے پر ایک پُر جلال بادشاہ  حکمران تھا۔ اس بادشاہ کے تین بیٹے تھے۔ شہزادہ مہمت، شہزادہ سلیم اور شہزاد مراد۔ تینوں میں سے ہر  ایک دلیری، وجاہت اور  ذہانت میں اپنی مثال آپ  تھا۔ بادشاہ جب بھی اپنے بیٹوں پر نگاہ ڈالتا اس کا دِل خوشی و مسّرت سے لبریز ہو جاتا لیکن ہر چیز کے باوجود اسے کچھ کمی محسوس ہوتی تھی۔ وہ سوچتاکہ ٹھیک ہے میرے شہزادے بہت دلیر، خوش شکل اور ذہین ہیں لیکن اس کا کوئی ثبوت بھی ہونا چاہیے۔ بہت سوچ بچار اور  وزیروں سے مشورے  کے بعد بادشاہ نے اپنے تینوں بیٹوں کو بُلایا اور کہا کہ اے شہزادو میں چاہتا ہوں کہ تم تینوں میں سے ہر ایک دنیا کے کسی ملک کا رُخ کرے اور اس ملک سے تحفے میں میرے لئے کوئی حیرت انگیز چیز یا ایجاد لے کر آئے۔

 

بادشاہ سلامت کا حکم سُنتے ہی شہزادوں نے رخت سفر باندھا اور روانہ ہو گئے۔  شہزادہ مہمت ایران کے شہر شیراز پہنچتا ہے۔ وہاں کے کاروان سراوں اور بازاروں  کی سیر کرتا ہے۔ ایک دن بازار میں وہ ایک قالین فروش کی دکان میں داخل ہوتا ۔ دکان میں اسے ایک جادوئی قالین ملتا ہے ۔  قالین کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ  اپنے اوپر بیٹھنے والے کو پلک جھپکتے ہی کسی بھی ملک پہنچا دیتا ہے۔

 

دوسرا شہزادہ سلیم ہندوستان پہنچتا ہے۔ یہاں اسے طرح طرح کے بازار، مدرّسے اور سُناروں کی دکانیں نظر آتی ہیں۔ گھومتے پھرتے  وہ ایک ہدیہ فروش کی دکان پر پہنچتا اور کوئی غیر معمولی چیز دکھانے کی فرمائش کرتا ہے ۔ تاجر اسے ایک آئینہ دیتا ہے۔ یہ آئینہ دُور دراز کے حالات دِکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شہزادہ اسے خرید کر بے حد خوش ہوتا اور دِل ہی دِل میں سوچتا ہے کہ اس کے بھائی کبھی بھی ایسی حیرت انگیز چیز نہیں ڈھونڈ سکتے۔

 

تیسرا شہزادہ مراد بخارہ  شہر میں جاتا اور ایک عالم سے ملتا ہے ۔ یہ عالم اسے ایک انار کا درخت دِکھاتا اور کہتا ہے کہ اس درخت کے اناروں میں قدرت نے ایسا کرشمہ رکھا ہے کہ جو بھی مریض اسے کھائے خواہ وہ کیسے ہی موذی مرض میں کیوں نہ مبتلا ہو صحت یاب ہو جاتا ہے۔  شہزادہ سلیم یہ انار لیتا اور وطن واپسی کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔ تینوں بھائی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق وطن جانے سے پہلے ایک جگہ جمع ہوتے اور ایک دوسرے کو اپنا اپنا تحفہ دِکھاتے ہیں۔

 

بڑا بھائی یعنی شہزادہ سلیم آئینے میں  گلناز سلطانہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔  جب تینوں بھائی آئینے میں اُبھرنے والا منظر دیکھتے ہیں تو بہت آزردہ ہو جاتے ہیں کیونکہ گلناز سلطانہ بےحد علیل دِکھائی دیتی ہے۔ وہ ایک ایسے مرض میں مبتلا ہے جس کا طبیبوں کے پاس  کوئی علاج نہیں۔  شہزادہ مہمت فوراً قالین بچھاتا  ہے تینوں بھائی اس پر بیٹھتے اور اسے اپنے ملک جانے کی حکم دیتے ہیں۔  تھوڑی ہی دیر میں وہ خود کو  اپنے محل میں  پاتے ہیں۔ وقت ضائع کئے بغیر گلناز سلطانہ کے کمرے میں جاتے ہیں اور شہزادہ مراد فوراً اپنے شفاء بخش انار کا ایک حصہ سلطانہ کو کھِلاتا ہے۔ انار کھاتے ہی شہزادی کے چہرے پر زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

 

اصل میں تینوں شہزادے اس شہزادی کو پسند کرتے اور اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔  آخر کار یہ فیصلہ وہ شہزادی پر چھوڑ دیتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ وہ کس شہزادے سے شادی کرنا چاہتی ہے۔

گلناز سلطانہ شہزادے مہمت سے پوچھتی ہے " شہزادے جب سے آپ واپس لوٹے ہیں کیا آپ کے قالین میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟"

شہزادہ مہمت کہتا ہے کہ" نہیں قالین جوں کا توں موجود ہے"۔

اس کے بعد گلناز  سلطانہ شہزادے سلیم سے یہی سوال پوچھتی ہے۔

شہزادہ سلیم کہتا ہے کہ نہیں ، میرا آئینہ بھی ویسا کا ویسا ہے۔

گلناز سلطانہ یہی سوال شہزادے مراد سے بھی پوچھتی ہے

شہزادہ مراد کہتا ہے کہ اے خوبصورت اور ذہین شہزادی میرا انار تبدیل ہو گیا ہے۔ اب یہ پہلے کی طرح ایک مکمل پھل نہیں ہے بلکہ اس کا ایک حصّہ میں نے آپ کی شفاء کے لئے استعمال کر لیا ہے۔

 

گلناز سلطانہ اپنے بزرگوں کو مخاطب کر کے کہتی ہے  اے میرے بزرگو آپ نے دیکھا کہ شہزادے مراد کا تحفہ کس قدر بے نظیر قدر و قیمت والا تحفہ ہے۔ اس کی بدولت میں صحت یاب  ہو کر دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئی ہوں۔ اگر شہزادہ مراد چاہتا تو مجھے اس انار کا ایک دانہ بھی نہ دیتا لیکن اس نے میری صحت کے لئے ایک بہت بڑے ایثار کا مظاہرہ کیا اور انار کو اپنے لئے محفوظ کرنے کی بجائے مجھے دے دیا ہے۔ یہ بہت بڑی قربانی ہے۔ میں شہزادے مراد کو اپنی زندگی کا ہمسفر منتخب کرتی ہوں۔

گلناز سلطانہ کے اس عقلمندانہ انتخاب نے سب کو خوش کر دیا اور بادشاہ نے ایک شاندار تقریب کے ساتھ شہزادے مراد اور شہزادی گلناز کی شادی کر دی۔

 

سامعین اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ وہی چیز اصل قدرو قیمت والی ہے جو بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائے اور جس سے ہمارے ارد گرد خوشیاں پھیلیں ۔

 



متعللقہ خبریں