کیونکہ۔ 28

ہر انسان حُر اور مساوی ہے کیونکہ۔۔۔

2160409
کیونکہ۔ 28

آج ہم آپ کے ساتھ 1948 میں قبول کئے گئے " حقوقِ انسانی  کے آفاقی منشور" کی پہلی شق کے بارے میں بات کریں گے۔ تو آئیے اپنے مخصوص جملے کے ساتھ بات شروع کرتے ہیں۔ "ہر انسان  حُر اور مساوی ہے کیونکہ۔۔۔"

 

دوسری جنگِ عظیم کے بعد، دنیا کو دوبارہ اس قسم کی تباہی و بربادی سے بچانے کی خاطر ،اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس تنظیم کا مقصد ،بین الاقوامی و ملکی حکومتوں سے بالا رہتے ہوئے، اسلحہ کنٹرول، تعلیم، صحت، خوراک اور ماحولیاتی مسائل سمیت ایسے تمام موضوعات پر کنٹرول کو یقینی بنانا تھا جنہیں انسانی حیات میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ 10 دسمبر 1948 کو پیرس میں منعقدہ اقوام متحدہ  جنرل کمیٹی اجلاس میں" حقوقِ انسانی  کا آفاقی منشور" منظور کیا گیا۔ یہ منشور،  فریق ممالک کی اس موضوع سے متعلقہ، آئینی شقوں کی حدود کا تعین کرتا ہے۔

 

حقوقِ انسانی  کا آفاقی منشور ان الفاظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے "تمام انسان آزادی، وقار اور حقوق کے حوالے سے مساوی ہیں۔ تمام انسان عقل اور ضمیر کے مالک ہیں اور تمام انسانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ برتاو برادرانہ نقطہ نظر پر استوار ہونا چاہیے"۔ منشور کی اس شق کو پوری انسانیت کے لئےبحیثیت ایک بنیادی اُصول کے قبول کیا گیا اور انسانی حقوق کی عالمگیریت پر زور دیا گیا ہے۔ اس شق کی رُو سے انسانوں کو کسی بھی وجہ سے کسی بھی جنسی، نسلی، دینی، لسانی یا دیگر کسی بھی فرق کے باعث امتیازیت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔

 

منشور کے مطابق شخصی وقار اور شخصی قدروقیمت کا اعتراف ہر فردِ واحد کا پیدائشی حق ہے اور انسانی حقوق کی بنیاد ہے۔ انسانی وقار کااحترام اس طرزِ فکر کے مرکزے کی حیثیت رکھتا ہے کہ تمام انسان حُر ہیں اور ایک دوسرے کے برابر پیدا ہوتے ہیں ۔ ہر انسان، اپنے افکار، اعتقادات اور طرزِ حیات کے انتخاب  میں آزاد ہے۔  شخصی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہر فردِ واحد کو اپنی سوچ بیان کر نے اور اپنی زندگی کو اپنی ترجیحات کے مطابق شکل دینے کا اختیار ہے۔ مساوات کا مطلب ہے کہ ہر انسان مساوی حقوق  اور مساوی مواقع کا مالک ہے۔ مساوات کا تصّور   ،قانون کے سامنے تمام انسانوں  کی برابری اور   مساوی تعلیمی و اقتصادی مواقع سمیت متعدد شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔

 

اگرچہ انسانی آفاقی منشور  کی 'مساوات و آزادی' کی شق کے اطلاق میں دنیا بھر میں مختلف مسائل کا سامنا ہوتا رہا ہے لیکن 1960 کی دہائی میں متعدد ممالک میں جنسی و نسلی تفریق  سے متعلقہ قوانین منظور کئے گئے۔  یہ چیز  ،انسانی فکر و دانش کے موجودہ درجے کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

 


ٹیگز: #کیونکہ

متعللقہ خبریں