تجزیہ 27

اسرائیل۔ حزب اللہ باقاعدہ جنگ کے خطرات اور ایران کے ممکنہ اقدامات پر ایک جائزہ

2159821
تجزیہ 27

اسرائیل-حزب اللہ تنازعہ نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو صحیح معنوں میں جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا  ہے۔اسرائیل۔ فلسطین تصادم کے دوبارہ زور پکڑنے والے  اکتوبر 2023 سے ابتک ، اسرائیل اور لبنان کی درمیانی سرحد عسکری جھڑپوں کا مرکز بن  چکی ہے۔ حزب اللہ نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے جواب میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں، اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے توپوں  کے اور  ہوائی حملے شروع کیے۔ جس کے باعث جھڑپوں کے علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں  اسرائیلی اور لبنانی  شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

سیتا سیکیورٹی ریسرچ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔

ایران کا کردار

ممکنہ  تصادم  کا پہلا اور سب سے اہم اسٹریٹجک عنصر ایران کا  اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف جنگ کے خلاف  نقطہ نظر ہے۔ حزب اللہ کے بارے میں ایران کا نقطہ نظر حماس سے مختلف ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کسی بھی  قسم کے تناؤ کے،  ایران اسرائیل فوجی کشیدگی پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران نے حالیہ برسوں میں حزب اللہ کو مالی امداد، جدید ہتھیار اور تربیت فراہم کرتے ہوئے اس کی فوجی صلاحیت میں نمایاں سطح کی مضبوطی لائی  ہے۔ ایران ،حزب اللہ کو مشرق وسطیٰ میں "محورِ مزاحمت" کے ایک اہم عنصر کے طور پر  تصور کرتاہے۔

ایران کاحزب اللہ سے تعاون خطے میں امریکی اور اسرائیلی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک علاقائی اداکار کے طور پر تہران کی پوزیشن کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ ایران جس عمل سے گزر رہا ہے اور ممکنہ جنگ میں حزب اللہ کے کمزور پڑنے کا خدشہ تہران کو اسرائیل کے خلاف مزید سخت کارروائی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

حزب اللہ کی فوجی استعداد

حزب اللہ کی فوجی صلاحیت ایک اور عنصر ہے جسے اسرائیل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ حزب اللہ نے شام کی خانہ جنگی میں شرکت کے بعد اپنی فوجی صلاحیت میں نمایاں  سطح کا اضافہ کیا ہے۔ اس شمولیت نے حزب اللہ کو میدان جنگ کا تجربہ اور جدید ہتھیاروں کے حصول کے ساتھ خطے میں ایک مضبوط  ادا کار  کی حیثیت دلائی ہے۔

حزب اللہ نے شام کی جنگ کے دوران اور بعدازاں  اپنے ہتھیاروں اور اسلحہ میں قابل ذکر حد تک جدت لائی  ہے۔  اس گروہ کی عمومی طور پر ایران کی جانب سے فراہم کردہ جدید ہتھیاروں تک رسائی نے اس کی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق حزب اللہ کے پاس شارٹ رینج، میڈیم رینج اور لانگ رینج سسٹم  کے حامل دسیوں ہزار راکٹ اور میزائل ہیں۔ حزب اللہ کے ہتھیاروں میں جدید ترین طیارہ شکن نظام اور گائیڈڈ اینٹی ٹینک میزائل بھی شامل ہیں۔ اس نے پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹم اور کورنیٹ جیسے جدید  ٹینک شکن سسٹمز حاصل کر کے اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں اور لڑاکا طیاروں  کا مقابلہ کرسکنے کی صلاحیت کو نمایاں حد تک فروغ دیا ہے۔ اس سے بھی اہم یہ ہے کہ حزب اللہ نے  گشت اور حملوں کے لیے استعمال کردہ  مختلف قسم کی بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑیاں کی بدولت  طاقتور ڈراونز کی صلاحیت کو بڑھایا ہے۔ اس صلاحیت میں  نگرانی اور درست حملے کر سکنے والے مقامی  طور پر تیار کردہ  ڈراونز ماڈلز بھی شامل ہیں جنہیں ایران نے تیار کیا ہے۔

حزب اللہ کی فوجی قابلیت  پر 7 اکتوبر سے ابتک ایران  کے حزب اللہ کو فوجی تعاون  میں اضافے کی روشنی میں نظر ثانی کی جانی چاہیے۔  ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق  ایران  نے فتح۔110 شارٹ رینج بالسکٹ میزائل اورشام میں موجود ایم۔600، فلک راکٹوں، روسی کورنیٹ ٹینک شکن نظام اور  حال ہی میں تیار کردہ برقان راکٹوں پر  مشتمل  فوجی سازو سامان حزب اللہ کو روانہ کیا ہے۔

جنگی حکمت عملی کے لحاظ سے، حزب اللہ نے ہائبرڈ جنگی حکمت عملی تیار کی ہے جو روایتی فوجی کارروائیوں کو گوریلا جنگ اور بے قاعدہ حکمت عملیوں کے ساتھ یکجا کرتی ہے۔ یہ نقطہ نظر تنظیم کو اسرائیل جیسی روایتی فوج کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے اور طویل مدت تک جنگ کو جاری رکھ سکنے کا موقع فراہم کرتا  ہے۔

علاقائی و عالمی محرکات

اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف جنگ علاقائی تنازعات کو ہوا دے  سکتی ہے،  جس کے  اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر بھاری نتائج ہو سکتے ہیں۔ لہذا اسرائیل-حزب اللہ تنازعہ کا تسلسل مختلف طریقوں سے سامنے آ سکتا ہے، جن میں سے ہر ایک کے اہم جغرافیائی سیاسی نتائج ہو سکتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک خطے میں کسی  انتشار کے  ماحول کو جنم دے سکتا ہے۔

سب سے پہلے اگر یہ تصادم کسی جنگ کی ماہیت اختیار کرتے ہیں ، تو لبنان کو تباہ کن نتائج اور مزید اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران کی شمولیت وسیع تر علاقائی تنازعات کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر رئیسی کے بعد کے دور میں ایرانی سیاست میں غیر یقینی کی صورتحال کے پیش نظر۔ شام اور عراق جیسے پہلے ہی نازک ممالک کو مزید انتشار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بحیرہ روم میں استحکام بھی خطرے میں ہے۔ حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے کہا  ہے کہ "دشمن جانتا ہے کہ بحیرہ روم میں اس کی  منتظر چیز بہت اہم ہے۔" انہوں نے کہا کہ "قبرصی یونانی انتظامیہ کی حکومت کو خبردار کیا جانا چاہیے کہ لبنان کو نشانہ بنانے کے لیے دشمن کے لیے ہوائی اڈےکھولنا،  اس کے بھی جنگ کا حصہ بننے کا مفہوم رکھے  گا۔"

جزیرہ قبرص کی اہمیت،  وزیر خارجہ  حاقان فیدان  کی طرف سے اسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں پر تنقید  کی بنا پر ترکیہ کے لیے بھی وسیع پیمانے کے سیکیورٹی خدشات کی حامل ہے۔  لہذا اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف جنگ،  خطے کے ممالک کے لیے باعث تشویش ہوگی اور یورپی یونین بھی ان جھڑپوں کی فریق بنے گی۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جنگ حزب اللہ کی فوجی صلاحیت کی وجہ سے خطے میں  سمندری سلامتی  کو کمزور کر دے گی۔  جب ہم حوثیوں کے  اکتوبر 2023 سے  ابتک سمندری سیکیورٹی کو کس طرح غیر مستحکم کرنے کو بالائے طاق رکھتے ہیں تو کہنا ممکن ہے  کہ حزب اللہ بحیرہ روم کو غیر مستحکم کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ مشرقی بحیرہ روم میں  انرجی جیوپولیٹکس کےمحرکات کو مدنظر رکھنے پر  حزب اللہ پر  وسیع  پیمانے پر اسرائیلی حملہ نئے تناؤ کو جنم دے  گا، یہ خاصکرتوانائی کی سپلائی بالخصوص توانائی کی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔

اسرائیل-حزب اللہ جنگ کا ایک اور ہرجانہ بین الاقوامی نظام کے قواعد پر مبنی ڈھانچے کا مکمل طور پر خاتمے کا امکان ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی  پر مبنی جنگ  سے ہونے والی  تباہیوں کے پیش نظر، ایک نئی جنگ اس بات کی تصدیق کرے گی کہ بین الاقوامی طرز حکمرانی کا طریقہ کار اب مکمل طور پر کام  کرنے سے قاصر  ہے۔یہ دوسری جارح ریاستوں کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے اور مزید وسیع پیمانے کے تصادم کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ جیسا کہ ترکیہ اکتوبر 2023 سے کئی بار کہہ چکا ہے کہ اگر غزہ  میں  اسرائیل کی جنگ بند نہ کی گئی تو خطے میں ایک بڑی اور وسیع جنگ ناگزیر بن جائیگی۔

اسرائیل،  غزہ میں نسل کشی اور اس بحران پر قابو نہ پانے کی وجہ سے پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ تشکیل دینے والا ایک فریق   بن چکاہے۔ اگر مغربی اداکار، خاص طور پر بائیڈن انتظامیہ، اس خطرے کو نظر انداز کر دیتے ہیں، تو یہ جامع  تصادم  کے پھوٹنے  کا باعث بن سکتا ہے جس کا سد باب کرنا انتہائی کٹھن  ہو گا۔ اسرائیل کو روکنے کا واحد راستہ  یہ ہے کہ اسے ریاست کی عقلی ذمہ داری کی  زمین کو واپس لایا جائے اور غزہ میں اس کی کرتوتوں کا جوابدہ ٹھہرایا جائے۔



متعللقہ خبریں