پاکستان ڈائری - چائلڈ لیبر اور رفیوجی ڈے

جون کے مہینے میں یوں تو بہت سے عالمی دن منائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے دو بہت اہمیت کے حامل ہیں۔پہلا عالمی دن بچوں سے جبری مشقت کے خلاف ہے اور دوسرا عالمی دن رفیوجی ڈے ہے

2154378
پاکستان ڈائری -  چائلڈ لیبر اور رفیوجی ڈے

پاکستان ڈائری-2024-25

جون کے مہینے میں یوں تو بہت سے عالمی دن منائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے دو بہت اہمیت کے حامل ہیں۔پہلا عالمی دن بچوں سے جبری مشقت کے خلاف ہے اور دوسرا عالمی دن رفیوجی ڈے ہے۔ ان دونوں صورتحال میں بچے اور خواتین بچے استحصال کا شکار ہوتے ہیں چاہیے انکو جبری مشقت کرنی پڑے جائے یا چاہیے انکو جنگ کی صورت میں دربدر ہونا پڑے۔ ان دونوں حالات میں بچے اور عورتیں بہت تکلیف اور استحصال سہتے ہیں۔ غربت اور جنگ یکدم انسان کے لیے حالات کو بدل دیتے ہیں ۔ معاملہ چاہے چائلڈ لیبر کا ہو یا جنگ کی صورت میں مہاجر بننے کا انسان وہ وہ تکالیف سہتے ہیں جو بیان سے باہر ہیں۔

اگر جبری مشقت کرنے والے بچوں کی بات کریں تو اسکی بہت سی اقسام ہیں۔ یہ بچے کن کنی کرتے ہیں،قالین بناتے ہیں، بھٹوں میں اینٹیں بناتے ہیں، یہ بچے سڑکوں پر غبارے بیچتے ہیں،گلیوں میں نمکوپاپڑ لچھے گرم انڈے قلفیاں بھٹے بیچتے ہیں، بازاروں میں گاڑیاں دھوتے ہیں جوتے پالش کرتے ہیں ۔کوڑا ردی جمع کرتے ہیں،کھیتوں کارخانوں میں کام کرتے ہیں، صنعتوں میں ان بچوں کو غلام بناکر کام لیا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ایک بہت بڑی تعداد گھروں میں ملازم کے طور پر کام کررہی ہے۔یہ بہت عام اور چائلڈ لیبر کی سنگین قسم ہے۔

گھروں میں ملازم بچوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوتا ہے کتنے معصوم بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔مارپیٹ کے علاوہ بچے بچیوں کو جنسی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔بچوں کو بہت بار دہشتگردی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔انہیں سمگلنگ چوری اور دیگر جرائم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس ہی طرح جب بچے رفیوجی بن جاتے ہیں تو انکو نفرت تشدد بھوک موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کی صورت میں بہت کم ممالک اپنے دروازے جنگ زدہ ملک کے شہریوں کے لیے کھولتے ہیں۔ ان لوگوں کو خیموں میں اپنی زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ ان کے پاس صحت کی سہولیات کا فقدان ہوتا ہے اور کھانے پینے کی بھی شدید کمی ہوتی ہے۔ جنگ سے رفیوجی کیمپ تک کا سفر بہت پرخطر ہے۔ بارودی سرنگوں سے سمندر کی لہروں کا سامنا کرکے جنگ زدہ لوگ ان کیمپس تک آتے ہیں۔ بہت بار نکو باڈر پر گولیاں ماردی جاتی ہیں۔ پناہ گزین کے کمیپس میں بھی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس وقت ترکی اور پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین موجود ہیں اور یہ دونوں ملک ان کو پناہ دئے ہوئے ہیں۔دنیا کے اور ممالک کو بھی جنگ سے متاثرہ افراد کو پناہ دینی چاہیے تاکہ جنگ متاثرہ افراد اپنی زندگی پھر سے شروع کرسکیں۔ان کو پیار ہمدردی اور اچھے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو کہ انکو کم ہی ملتا ہے رنگ نسل قومیت کی بنا پر امتیاز عام ہے۔

ہمیں جبری مشقت کا شکار بچوں اور رفیوجیز کے لئے آواز بلند کرنا ہوگی۔ انکے لئے کام کرنا ہوگا ان کے لئے تعلیم صحت رہائش اور اچھی زندگی پر کام کرنا ہوگا۔ اگر کوئی بچہ غربت کی وجہ سے آپ کے گھر آجائے تو اس سے کام کروانے کے بجائے اس کو اپنے بچے کی طرح پال لیں۔اسکی تعلیم خوراک رہائش اپنے ذمہ لے لیں یا اس کو والدین کے ساتھ واپس بھیج کر اسکا وظیفہ مقرر کردیں۔اس طرح ہم کتنے بچوں کو جبری مشقت کے دلدل سے نکال لیں گے۔

دنیا بھر کو مہاجرین کی بحالی پر یکسوئی سے کام کرنا چاہیے۔ ان کی بحالی ، خوارک اور رہائش پر مناسب کام کریں۔میرے نزدیک جو پناہ گزین پڑھے لکھے ہوتے ہیں انکو تو فوری طور پر شہریت دے دی جائے تاکہ وہ بھی اپنے میزبان ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں اور باعزت روزگار کماسکیں۔اقوام متحدہ کے مطابق ہرمنٹ تقریبا بیس افراد جنگ کی وجہ اپنا گھر بار چھوڑ کر دربدر ہوجاتے ہیں۔کچھ مارے جاتے ہیں کچھ خوش قسمت پناہ گزینوں کے کیمپس تک پہنچ جاتے ہیں تو کچھ اسائلم لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم ان سب کو ایک اچھی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے جس کے تحت یہ اپنی مذہبی سرگرمیاں کرسکیں ، کام کرسکیں ، تعلیم حاصل کرسکیں اور اپنے بچوں کو اچھا مستقبل دے سکیں۔اس وقت دنیا بھر میں ۳۰ ملین ریفوجی موجود ہیں جن میں آدھے بچے شامل ہیں۔۔اے کاش کہ جنگیں اس دنیا سے ختم ہوجائیں ہر طرف امن ہو بچے اپنا بچپن بھرپور گزارسکیں۔انکو تعلیم صحت اور اچھی رہائش ملے۔ان کے پاس بم اور راکٹ کے خول نہیں اچھے کھلونے ہو اور وہ پڑھائی مکمل کرکے ایک اچھی زندگئ بسر کریں۔



متعللقہ خبریں