تجزیہ 24

شمالی شام میں دہشت گرد تنظیم پی کے کے۔ وائے پی جی کی بلدیاتی انتخابات کرانے کی کوشش کو ترکیہ نے ناکام بنا ڈالا

2153182
تجزیہ 24

دہشت گرد تنظیم PKK/YPG، جو کہ امریکہ کی سرپرستی میں شام میں اس کے زیر قبضہ علاقوں میں نام نہاد بلدیاتی انتخابات کرانے کا منصوبہ بنا رہی تھی، کو ترکیہ کی سخت مخالفت کے بعد نام نہاد انتخابات کو ملتوی کرنا پڑا۔ پہلے 11 جون کو کرانے کا اعلان کردہ بلدیاتی انتخابات کو ا، 18 اگست تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔ دہشت گرد تنظیم راقعہ، دیر الزور، حلب اور حاصیکہ، قامشلی ، عین العرب، منبج،  عفرین الشہبہ اور طبقہ علاقوں میں انتخابات کے ذریعے قانونی حیثیت کی بنیاد قائم کرکے بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے درپے تھی۔

سیتا خارجہ پالیسی محقق جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ  ۔۔۔

شام میں PKK کی شاخ پی وائے ڈی۔وائے پی جی  اس وقت ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں تقریباً 50 ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر قابض ہے۔ تنظیم نے زرخیز زرعی زمینوں اور آبی گزرگاہوں بالخصوص توانائی کے وسائل پر تسلط قائم کر رکھا ہے۔ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جنگ  کی آڑ میں 2014 سے امریکہ کی طرف سے اس تنظیم  کو  حمایت اور تحفظ حاصل  ہے۔ اس وقت تقریباً ایک ہزار امریکی فوجی اور کئی نجی کرائے کے فوجی میدان میں PKK کی حفاظت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ تنظیم قدم بہ قدم سیاسی شناخت  حاصل  کرنے  کی کوشش  میں ہے اور خود کو بین الاقوامی  سطح  پر  ایک خود مختار ڈھانچے کے طور پر پیش کرنے کے پیچھے  ہے۔اس وجہ سے اس نے اپنا تازہ ترین بلدیاتی الیکشن کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیریئن ڈیموکریٹک کونسل، جو تنظیم کا نام نہاد قانون ساز ادارہ ہے، نے اپریل میں ایک نئے انتخابی قانون کی منظوری دی تھی، جس کے بعد ہائی الیکشن کمیشن  تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کے بعد بلدیاتی انتخابات کے لیے پہلے 30 مئی کی تاریخ تجویز کی گئی ، جسے  ملتوی کر کے 11 جون کر دیا گیا۔ تنظیم کی منصوبہ بندی کے مطابق بیلٹ بکس 6 میٹروپولیٹن شہروں، 40  چھوٹے شہروں اور 105  موضعات  میں  قائم کیے جائیں گے۔ ان انتخابات میں  30 سیاسی جماعتیں جن میں سے بعض نے اتحاد بنا لیا ہے حصہ لیں گی۔ان علاقوں میں جزیرے، دیر الزور، راقعہ، فرات، منبج، عفرین شہبہ اورطبقہ   وغیرہ شامل تھے۔ تاہم کوئی جمہوری جواز  موجود نہ ہونے والے  اور PKK  کی طرف سے جبری طور پر کرائے جانےو الے  انتخابات   میں  مخالف کرد گروپSMDK نے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو عرب قبائل نے بھی بیانات دیتے ہوئے ان نام نہاد انتخابات کو تسلیم  نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے، PKK کے زیر کنٹرول علاقوں کا  80 فیصد عربوں پر مشتمل ہے تو ایک حصے میں  ترکمان  باشندے آباد ہیں۔ جبکہ کرد ی باشندوں کی تعداد کافی کم ہے  اور  ان کا ایک اہم حصہ PKK کی شدید مخالفت کرتا ہے۔

ترکیہ کا مخالف حربہ

اگرچہ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے کوآرڈینیٹر بریٹ میک گرک اور امریکی سینٹرل کمانڈکی سرپرستی میں PKK منصوبے کے خلاف ترکیہ کی سرحد پار فوجی کارروائیوں نے اس ڈھانچے کے ریاستی ماہیت اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی ہے تو  بھی ترکیہ  لحاظ سے  متعلقہ جدوجہد جاری ہے۔ ترکی کی جانب سے نام نہاد الیکشن کھیل  کے حوالے سے انتہائی سخت موقف اختیار کرنے اور امریکہ کے سامنے دو ٹوک موقف کا اظہار کرنے کے بعد اس پیش رفت کا مشاہدہ ہوا ہے کہ  PKK نے امریکہ کے دباؤ پر پیچھے قدم ہٹاتے ہوئے انتخابات کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے30 مئی کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شام میں ہونے والے تمام انتخابات جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254   میں وضع کیا گیا ہے، منصفانہ، آزادانہ، شفاف اور جامع ہونے چاہئیں، شمال مشرقی شام کی موجودہ صورتحال انتخابات  کے اس طریقے سے منعقد کیے جانے  کے لیے موزوں نہیں ہے جس کا اشتراک اس نے خطے کے دیگر ممالک سے بھی کیا ہے ۔  بعد ازاں  انتخابات کے  ملتوی  ہونے کا  فیصلہ سامنے  آیا ہے۔

30 مئی کو صدر رجب طیب ایردوان نےایفس۔  2024 جنگی مشقوں  کے دوران  اپنے بیان میں کہا تھا کہ  "ہم ریفرنڈم کے بہانے اپنے ملک اور شام کی ارضی سالمیت کے خلاف دہشت گرد تنظیم کے جارحانہ اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے  ایک  دوسرے بیان میں فریقین کو واضح پیغام دیا  تھا کہ "ترکیہ علیحدگی پسند تنظیم کو شام اور عراق کے شمال میں اپنی جنوبی سرحدوں سے باہر دہشتستان قائم  کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ہم نے اس کے پیش نظر  جو کچھ بھی کرنا وقت پر کیا ہے ، اگر ہمیں ایسی ہی صورتحال کا  دوبارہ سامنا کرنا پڑا تو ہم دوبارہ کارروائی کرنے  میں  ہچکچاہٹ سے کام  نہیں لیں گے۔"

دہشت گرد تنظیم کا  ریاست  بننے  کا خواب

کچھ عرصہ قبل دہشت گرد تنظیم PKK/YPG  کی جانب سے  نئے سماجی معاہدے (آئین) کے ساتھ، شمالی اور مشرقی شام کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ کا نام تبدیل کر کے 'شمالی اور مشرقی شام کی جمہوری خود مختار انتظامیہ' کر دیا گیا تھا۔ نئے سماجی معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی، شامی جمہوری کونسل کے امریکی نمائندہ دفتر نے امریکہ کی مشہور اور موثر لابنگ کمپنی 'Brownstein Hyatt Farber Schreck' کے ساتھ معاہدہ طے  کیا۔ معاہدے کی پہلی شق  امریکہ کی طرف سے 'شمالی اور مشرقی شامی جمہوری خود مختار انتظامیہ' کو سرکاری طور پر تسلیم کرنا ہے۔ یہ تنظیم ایک طرف آئین کے اعلان کی بدولت عملی طور پر  قائم کردہ اس  ریاست کے لیے آئینی زمین ہموار کرنے اور دوسری جانب  امریکہ کے ذریعے بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے درپے ہے۔ مزید  برآں یہ تنظیم اس  دو رُخی  ڈھانچے سے مطمئن نہیں ہے اور اپنی پہچان اور قانونی حیثیت کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی عمل سے گزر نا چاہتی ہے۔ تاہم، ان کوششوں سے آگاہی کے ساتھ، ترکیہ شام کی  زمینی سالمیت کے تحفظ اور اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے اپنے پرعزم موقف  پر قائم دائم ہے۔  جو کہ ہر قسم کے سیاسی اور فوجی ذرائع سے مداخلت کرنے کے لیے مضبوط ارادے کا مظہر ہے۔



متعللقہ خبریں