پاکستان ڈائری - عید الضحٰی

سورت الصفت میں ارشاد باری تعالی ہے  اے ابراہیم آپ نے خواب کو سچا کردیا بے شک ہم نیک افراد کو ایسا بدلہ دیا کرتے ہیں یقینا یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی

2152534
پاکستان ڈائری - عید الضحٰی

پاکستان ڈائری-2024 -24

عید الضحٰی ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ راستے میں شیطان نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کو بہکانے کی کوشش کی لیکن خلیل اللہ نے اسکو سات کنکریاں مار کر بھگا دیا۔ اللہ تعالی کو اپنے بندے کی یہ ادا اتنی پسند آیی کہ قربانی کی جگہ وہاں ایک مینڈھا آگیا۔

سورت الصفت میں ارشاد باری تعالی ہے  اے ابراہیم آپ نے خواب کو سچا کردیا بے شک ہم نیک افراد کو ایسا بدلہ دیا کرتے ہیں یقینا یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔

سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے ہر سال لاکھوں فرزاند توحید قربانی کرتے ہیں۔اس عظیم قربانی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دی۔ دونوں باپ بیٹے کی اللہ سے محبت اور اس قربانی کو تاقیامت یاد رکھا جائے گا۔

قربانی حج کے ارکان میں شامل ہے اور صاحب ثروت افراد پر عید پر یہ فرض کی گئ ہے۔ہم سب میں جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں ان پر یہ فرض ہے ۔ الحمدللہ میرے اردگرد تمام لوگ قربانی کرتے ہیں لیکن وہ خواتین بشمول میرے بھی قربانی کرتی ہیں جو خود کمارہی ہیں۔خواتین کو بھی چاہئے اگر وہ افورڈ کرسکتی ہیں تو قربانی ضرور کریں۔

 گوشت کا بڑا حصہ غریبوں کو دیں اسکے بعد ان رشتہ داروں کو دیں جنہوں نے قربانی نہیں کی۔غربیوں مسکینوں ملازمین کو دینے کے بعد اپنے دوست احباب محلہ داروں میں گوشت تقسیم کریں۔اسکے بعد اپنے لئے بھی گوشت رکھیں۔قربانی کا گوشت تقسیم کرنا اور کھانا سنت ہے۔

 کچھ لوگ کیا کرتے ہیں سارا اچھا گوشت خود رکھ لیتے ہیں اور غریبوں کو صرف چھیچڑے اوجھڑی پکڑا دیتے ہیں۔یہ بھی انتہائی غلط بات ہے جانور کے اچھے گوشت کے حصوں کو غریبوں اور مساکین کو دینا چاہیے۔

اس ہی طرح یہ بات بھی آپ کے فرایض میں شامل ہے کہ جس وقت قربانی ہورہی ہو تو گلی محلے میں گندگی مت پھیلائیں ۔خون کو مت کھڑا ہونے دیں۔آلائشیں سڑکوں اور علاقے میں مت پھینکیں۔اس سے تعفن پھیلے گا اور بیماریاں ہونے کا بھی خدشہ ہے۔اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ جانوروں کو تکلیف مت دیں اور انکو لے لے کر گلی میں مت بھاگیں۔جانوروں کو بارش کے پانی کرنٹ اور ٹریفک سے بچائیں۔

جب قربانی ہوجائے تو خون کو گٹر میں بہائیں اگر ایسا ممکن نہیں تو خون پر چونا ڈال دیں۔ کھال جماعت اسلامی کے الخدمت فاونڈیشن یا شوکت خانم ہسپتال کودے دیں۔ عوام کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ خود جہاں بڑے کچرا دان موجود ہوں وہاں جاکر آلائشوں کو کچرا دان  میں ڈال کر آئیں۔

اگر جانوروں کی باقیات کو کھلا پھینک دیا جائے تو یہ ماحول کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔آلائشوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں پرندے انکو کھانے کے لئے آجاتے ہیں اور یہ پرندے کمرشل فلائٹس اور پاک فضائیہ کے طیاروں کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔گدھ چیلیں طیاروں کی لینڈنگ ٹیک آف اور پرواز کے دوران حادثے کا باعث بن سکتے ہیں۔یہ پرندے ایک گولی اور میزائل کی مانند جہاز کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔اس لئے کچرا مت پھیلائیں آلائشوں اور خون کو مناسب طریقے سے تلف کریں۔اگر کچرا اٹھانے کا ٹھیک بندوبست نہیں ہے تو آلائش اور باقیات کو زمین میں دبا دیں۔

آج کل ایک اور فیشن آگیا ہے کہ لوگ اپنے قربانی کے جانوروں کے ساتھ سیلفز اپ لوڈ کرتے ہیں انکی قیمتیں لکھتے ہیں لوگوں کے جانوروں کا مذاق بناتے ہیں اور اپنے لاکھوں جانوروں پر فخر تکبر کرتے ہیں۔ان کے ٹک ٹاک بناتے ہیں۔

عید قربان ہم سنت ابراہیمی کی یاد میں مناتے ہیں۔اس میں کسی قسم کی بدعت شامل کرنا گناہ ہے۔قربانی کریں سادگی سے کریں نمود و نمائش سے پرہیز کریں۔ مستحق کو اسکا حق دیں اور شہر میں گندگی مت پھیلائیں، عید پر ان لوگو کو نا بھولیں جو مصائب پریشانیوں کا شکار ہیں۔

 



متعللقہ خبریں