تجزیہ 47

صدر رجب طیب ایردوان کے خلیجی ممالک کے دورے اور طے پانے والے معاہدوں پر ایک تجزیہ

2014467
تجزیہ 47

صدر ایردوان نے  انتخابات میں کامیابی کے بعد  کے  ابتدائی ایام میں خارجہ پالیسی میں نیٹو پر توجہ مرکوز کی ہے  تو آخر کار انہوں نے طویل عرصے  انتظار ہونے والے ترکیہ کی اقتصادی اور سیاسی  حیثیت کے تناظر میں  انتہائی اہم  اثرات مرتب ہونے کی توقع ہونے والے خلیج کے دورے  کیے۔  سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے دورے  کرنے والے صدر ایردوان نے  اپنے ہمراہ  ایک وسیع  وفدکے ساتھ حد درجے اہمیت کے حامل معاہدے طے کیے ہیں۔ یہ کہنا ممکن ہے کہ  اس دورے اور طے پانے والے معاہدوں کی بدولت ترکیہ کی حکمت عملی اور اقتصادی گہرائی کو وسعت دینے کا ایک اہم سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

سیتا خارجہ پالیسی محقق جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔

صدر ایردوان نے تین  دنوں پر محیط خلیجی ممالک کے دوروں کے دائرہ عمل میں تین ممالک میں ملاقاتیں سر انجام دیں۔  ان دوروں کا مرکزی ایجنڈہ علاقائی پیش رفت کے ساتھ ساتھ عسکری، سیاسی اور اقتصادی تعلقات  پر مبنی تھا۔ ترک صدر اولین طور پر سعودی عرب تشریف لے گئے۔ جہاں پر انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد پرنس محمد بن سلمان سے  مذاکرات کیے۔ سعودی  عرب۔ ترکیہ بزنس فورم میں شرکت کرنے والے ایردوان نے    اہم سطح کے عسکری، سیاسی اور اقتصادی    معاہدوں پر دستخط کیے۔ خاص طور پر ترکیہ  کے اہم ترین   ڈراونز تیار کرنے والی فرم بائکار اور سعودی عرب کے مابین،  نئی نسل کے مسلح ڈراونز آکنجی   سمیت اس کی خرید، تربیت اور مشترکہ پیداوار سے متعلق  معاہدے  طے پائے۔ بائکار کے سی ای او خالق بائراکتار  کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ترک دفاعی صنعت  کا  ایک ہی وقت میں کیا جانے والا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔  جناب ایردوان کے وفد میں شامل  وزرا نے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اہم منصوبوں پر دستخط کیے۔

بعد ازاں قطر تشریف لیجانے والے صدر ایردوان نے امیر قطر سے ملاقات کی۔ انہوں نے دوحہ میں منعقد ہونے والے  قطر۔ ترکیہ بزنس فورم میں شرکت کرتے ہوئے  خطاب کیا۔ اس دوران قطر کے ساتھ بھی بعض نئے معاہدے طے پائے۔

ایردوان  کے دوروں کی آخری کڑی  متحدہ عرب امارات  تھا۔ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زائد  سے ملاقات کرنے والے ایردوان نے ابو ظہبی میں منعقد ہونے والے یو اے ای۔ ترکیہ بزنس فورم میں شرکت کی۔  ان دوروں کے حوالے سے پریس میں آنے والی خبروں کے مطابق  سب سے بڑے حجم کے حامل معاہدے یو اے ای میں سر انجام پائے ہیں۔ جاری کردہ سرکاری بیانات  میں واضح کیا گیا ہے کہ ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 50.7 ارب ڈالر کے معاہدے  ایجنڈے میں آئے ہیں۔  متحدہ عرب امارات سے ملنے والی رقوم کو ترکیہ میں زلزلوں کےبعد از سر نو شاط کی سرگرمیوں   کے لیے   بروئے کار لائے جانے سمیت ، دفاعی صنعت، مواصلات، حفظان صحت، بنیادی ڈھانچے، ٹورزم جیسے متعدد  عنوانات کے ما تحت   استعمال کیا جا ئیگا۔  علاوہ ازیں اس بات کا بھی مشاہدہ ہو رہا ہے کہ  متحدہ عرب امارات کی  ترکیہ میں نمایاں سطح کی سرمایہ کاری کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بائکار سمیت   ترکیہ سے  بھاری مقدار میں اسلحہ کی خرید  کے لیے سمجھوتے  طے پائے ہیں۔

صدر ایردوان نے ان تمام دوروں کے دوران ترکیہ  کی اعلی ساکھ کی  پیداوار ٹوگ الیکڑک گاڑیوں کو  ممالک  کے سربراہان کو بطور تحفہ دیتے ہوئے  ایک طرح کی پبلک ڈپلومیسی بھی کی ہے۔

عمومی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جناب ایردوان  کا خلیجی ممالک کا دورہ   کافی کامیاب رہا ہے ، متعلقہ ممالک کے ساتھ قابل ذکر سٹریٹیجک شراکت داری کی نشاط شروع ہونے کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ قطر کے ساتھ ایک طویل عرصے سے جاری حکمت عملی شراکت داری  میں مضبوطی آئی ہے تو خاصکر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ  بھی اسی عمل کا آغاز ہونے کا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔  ہم اس چیز کا بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ علاقائی معمولات کی بحالی سے بھی ہٹ کر  اتحادی و شراکت داری تعلقات کی جانب  پیش قدمی  ہوئی ہے۔  ایک جانب  طرفین  نے  مفادات کونئے نظریے کی بنیادوں پر وضع کیا ہے تو دوسری جانب  مشترکہ خطرات اور چیلنجز  بھی اس سانجھے داری  کی حوصلہ افزائی کرنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔



متعللقہ خبریں