چشمہ شفاء ۔ 21

آج ہم آپ کے ساتھ جس موضوع پر بات کریں گے وہ ہے بچوں میں قبض کی شکایت اور اس کا گھریلو علاج

1936528
چشمہ شفاء ۔ 21

ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں پر مبنی پروگرام چشمہ شفاء کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

آج ہم آپ کے ساتھ جس موضوع پر بات کریں گے وہ ہے بچوں میں قبض کی شکایت اور اس کا گھریلو علاج۔

تو آئیے دیکھتے ہیں کہ بچوں کو قبض کی شکایت ہو تو  کون سی جڑی بوٹیاں مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

 

1۔ زیتون کا تیل اور لیموں

بچوں کو قبض  ہو جائے تو زیتون کے تیل میں لیموں کا رس ملا کر انہیں پلایا جا سکتا ہے۔ ایک میٹھے کا چمچ زیتون کا تیل لیں اور اس میں ایک میٹھے کا چمچ لیموں کا تازہ رس ملا کر صبح خالی پیٹ بچے کو پِلائیں۔  یہ نسخہ بچے کی انتڑیوں کو نرم کر کے پاخانے کے اخراج میں آسانی پیدا کرے گا۔

زیتون کے تیل کے استعمال کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ایک کھانے کے چمچ زیتون کے تیل میں ایک کھانے کا چمچ مالٹے کا رس ملا کر بچے کو پِلائیں۔

 

2۔ انجیر، خوبانی اور آلو بخارہ

ایک خشک انجیر، 2 خشک خوبانیاں اور 2 خشک آلو بخارے لے کر انہیں چھوٹا چھوٹا کاٹ لیں۔ ان کٹے ہوئے خشک میووں کو ڈیڑھ کپ اُبلے ہوئی پانی میں ڈالیں اور جب پانی پینے کی حد تک ٹھنڈا ہو جائے تو اس میں ایک کھانے کا چمچ زیتون کا تیل مِلا کر بچے کو پِلائیں۔

 

3۔ ہربل چائے

سونف اور ڈیزی کے پھولوں سمیت متعدد جڑی بوٹیاں ایسی ہیں کہ جن کی چائے مختصر مدت میں قبض کے مسئلے سے نجات دِلا دیتی ہے۔

 

4۔ سونف

2 کپ پانی لیں اور اس میں ایک میٹھے کا چمچ سونف ملا کر اُبالیں۔  اُبال آنے پر دیگچی چولہے سے اتار کر 10 منٹ کے لئے دم دے دیں۔  دم کے بعد اسے چھان لیں اور ٹھنڈا ہونے پر بچے کو پِلائیں۔

 

5۔ کشمش

مٹھی بھر کشمش لیں اور اسے پانی میں بھگو کر رات بھر کے لئے چھوڑ دیں۔ صبح پانی نتھار کر  کشمش بچے کو کھِلائیں۔

 

6۔ پھل

ناشپاتی، انگور، آلو بخارہ، خربوزہ، خوبانی، کھجور   اور انجیر  جیسے پھل دن میں کم از کم 2 دفعہ بچے کو کھِلائیں۔ پھل کی قسم کے مطابق تازہ یا خشک شکل میں کھِلایا جا سکتا ہے۔ ان پھلوں کو بچے کی پسند کے مطابق جوس کی شکل میں یا پھر پیسٹ کی شکل میں بھی استعمال کروایا جا سکتا ہے۔

سیب کے چھلکے میں پوسے کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے چھلکے سمیت کھانا چاہیے۔ اسی طرح ناشپاتی نظام ہضم میں تیزی لاتی ہے اسے بھی سیب کی طرح چھلکے سمیت کھانا چاہیے۔

اگر بچے کی عمر 6 ماہ سے زیادہ ہو تو اسے ناشپاتی، آڑو اور خوبانی  جیسے پھلوں کا تازہ رس فیڈر کے ذریعے پلایا جا سکتا ہے۔

 

7۔ سبزیاں

بند گوبھی،  سیلری، لیک، بھنڈی،  آرٹیچوک، پھول گوبھی، تازہ پھلیاں اور کدو جیسی سبزیاں  بچے کو کھِلائی جا سکتی ہیں۔ جو بچے سبزیاں نہ کھائیں انہیں کھیرا یا پھر مکئی کے بھُٹے کھِلائے جا سکتے ہیں۔

 

8۔ چنے، دالیں اور خشک پھلیاں

لوبیا، خشک پھلیاں، دالیں اور چنے پوسے سے مالا مال غذائیں ہیں لہٰذا بچے کی خوراک میں انہیں شامل کرنا نظام ہضم کے لئے نہایت مفید ہے۔

 

9۔ السی

السی کا آٹا دہی میں شامل کر کے دن میں 2 دفعہ بچے کو کھِلائیں ۔ یہ طریقہ قبض سے نجات کا موئثر ترین طریقہ ہے۔

 

۔۔۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ کون سی احتیاطیں ہیں جو آپ کے بچے کو قبض میں مبتلا ہونے سے بچا سکتی ہیں۔

  • گائے کے دودھ کا استعمال کم کر دیں اور بکری کے دودھ کا استعمال بڑھا دیں۔
  • میدے یا پھر سفید آٹے کی روٹی کی بجائے ہول ویٹ آٹے کی روٹی استعمال کروائیں۔
  • میٹھی مصنوعات کے استعمال سے پرہیز کریں۔
  • چاول کے پلاو  اور نولڈلز کی جگہ گندم کے پلاو کو ترجیح دیں۔
  • انتڑیوں  کو صحت مند رکھنے کے لئے گھر کے جمَے ہوئے دہی، کیفر اور دہی کے سُوپ جیسی غذاوں کو ترجیح دیں۔
  • پوسے کی وافر مقدار والے پھلوں اور سبزیوں کو بچے کے غذائی پروگرام میں شامل کریں۔
  • خشک میوہ جات اور ان سے تیار شدہ غذاوں کا استعمال کریں۔
  • ایسڈ والے مشروبات ، کافی اور چائے جیسے مشروبات بچے کو پِلانے سے پرہیز کریں۔
  • بچوں کی دوڑ بھاگ کے لئے گھر میں جگہ بنائیں اور انہیں متواتر ورزش کروائیں۔
  •  

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ شیر خوار بچوں کو قبض سے بچانے کے لئے کس قسم کی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔

  • بچے کو نیم گرم پانی سے نہلائیں اور اسے 5 سے 10 منٹ تک نیم گرم پانی میں رکھیں۔ یہ طریقہ بچے کے پٹھوں میں نرمی پیدا کرے گا اور نظام ہضم میں سہولت لائے گا۔
  • آسانی سے پاخانے کے اخراج کے لئے اخراج کی جگہ پر گلیسرین یا  پھر ویزلین لگائی جا سکتی ہے۔
  • اگر 4 ماہ سے زائد عمر کے بچے میں قبض کی شکایت ہو تو اسے آلو بخارے، سیب ، ناشپاتی یا پھر آڑو کا جوس پِلایا جا سکتا ہے۔
  • بچے کو ورزش کروانے سے بھی اس کا نظامِ ہضم بہتر ہو گا اور فُضلے کے اخراج میں آسانی ہو گی۔
  • شیر خوار بچے کے نظام ہضم کو پُر سکون رکھنے کا ایک طریقہ مالش ہے۔  ہاتھوں  کی مدد سے بچے کے پیٹ کی مالش  انتڑیوں کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
  •  

سب سے اہم بات یہ کہ ہر بچے کی ساخت مختلف ہونے کی وجہ سے کوئی طریقہ اختیار کرنے سے قبل اپنے معالج سے ضرور  مشورہ کر لیں۔

 



متعللقہ خبریں