پاکستان ڈائری - موسمِ سرما

اب سردی کا اصل زور جنوری میں شروع ہوتا اور اس وقت چھٹیاں ختم ہوجاتی ہیں اور بچے بڑے سخت سردی میں باہر جاتے ہیں اور معمولات زندگی انجام دیتے ہیں

1935088
پاکستان ڈائری - موسمِ سرما

پاکستان ڈائری-3/2023

موسم بہت سرد ہے ملک کے بالائی علاقوں میں سخت سردی کے ساتھ برف باری ہورہی ہے اور ملک کے میدانی علاقوں میں خشک سردی پڑ رہی ہے بارش اور برف باری تو نہیں ہورہی یہاں لیکن سردی نے پھربھی سب کا برا حال کردیا۔ جب ہم چھوٹے تھے تب سخت سردی دسمبر میں پڑا کرتی تھی اور ہم تعطیلات سے لطف اندوز ہوتے تھے اور سردی کی سختی سے بھی بچ جاتے تھے۔پر اب سردی کا اصل زور جنوری میں شروع ہوتا اور اس وقت چھٹیاں ختم ہوجاتی ہیں اور بچے بڑے سخت سردی میں باہر جاتے ہیں اور معمولات زندگی انجام دیتے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ بجلی گیس ایندھن دونوں کی کمی ہے تو عوام سردی سے مزید پریشان ہوتے ہیں۔

کچھ بچوں کو سکول کالج کے لئے صبح چھ بجے نکلنا پڑتا ہے۔اس وقت دھند کا راج ہوتا ہے اور سورج بھی نظر نہیں آرہا ہوتا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جس وقت سورج مکمل طور پر نکل آئے اس وقت تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہو تاکہ سردی کی شدت تھوڑی کم محسوس ہو۔ اکثر تعلیمی اداروں میں ہیٹر موجود نہیں نا ہی گیس بجلی ہوتی ہے طالب علم موسم کی شدت میں ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں اور سرد ہواوں کا کلاس میں روم میں گزر ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح بچے بیمار ہوجائیں تو والدین پر مزید خرچہ آجاتا ہے وہ ہے علاج معالجہ اور پاکستان میں علاج ادویات بہت مہنگی ہیں۔

اس  لئے سکولز میں بھی ہیٹرز ہونا چاہیں اور اس کے ساتھ تعلیمی اوقات اور دفتری اوقات میں لائٹ نہیں جانی چاہیے۔اگر صبح کے وقت لائٹ چلی جائے تو تیار ہونے میں دقت ہوتی ہے اور بہت سے کام تاخیر میں چلے جاتے ہیں۔ انسان غصے کا شکار ہوجاتا ہے۔ اکثر لوگ سردی سے بچنے کے لئے ایندھن کوئلے مٹی کے تیل لکڑی کا استعمال کرتے ہیں جوکہ حادثے کا باعث بن جاتے ہیں۔

 اس وقت ملک سخت سردی کی لپیٹ میں ہے بچوں کی چھٹیاں ختم ہوچکی ہیں اور وہ سردی کے موسم میں تعلیمی سلسلے کو لے کر آگے چل رہے ہیں۔ اس وقت بھی جب میں یہ سطور لکھ رہی ہوں لائٹ نہیں ہے حیرت کی بات ہے پہلے گیس غائب ہوتی تھی اب سردیوں میں ہرکوئی بجلی کی بندش کی شکایت کررہا ہے۔ آلودگی ٹھنڈ بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ بیماریاں پھیل رہی ہیں کوئی نزلہ زکام کی شکایت کررہا ہے کوئی بخار سینے کا انفیکشن کا بتا رہا ہے تو کوئی جسم میں درد کا گلہ کررہا ہے بڑے بزرگ نمونیا کاشکار ہوریے ہیں۔

اس سب کا حل کیا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو موسم کی سختی سے بچایا جائے گرم کپڑے پہنے جائیں اور گرم زیر جامے پہنے جائیں۔ پاکستانی عوام سینٹرلی ہیٹڈ گھر تو افورڈ نہیں کرسکتے نا ہی گرم سوپ میوے کھاسکتے تو اس سردی سے بچنے کا واحد حل گرم کپڑے ہیں وہ بھی اگر لنڈے کے کپڑے حکومت نے مہنگے کردئے تو عوام کا کیا ہوگا۔ اس موقع پر مخیر لوگوں کو غریب عوام میں لحاف کمبل اور گرم کپڑے مفت تقسیم کرنا چایے۔ دیوار مہربانی پر یہ چیزیں رکھ جائیں تاکہ غریب عوام کی عزت نفس بھی مجروح نا ہو۔ اس کے ساتھ عوام کو بجلی گیس کی فراہمی مسلسل دی جائے تاکہ وہ اپنے زندگی کے فرائض آرام سے انجام دے سکیں۔ تاہم بندش کے باوجود عوام پراور بلنگ ایک سوالیہ نشان ہے۔

 



متعللقہ خبریں