تجزیہ 13

دہشت گرد تنظیم پی کے کے۔ وائے پی جی کے خلاف ترک مسلح فواج کی ممکنہ بری کاروائی

1911025
تجزیہ 13

دہشت گرد تنظیم پی کے کے   کی شام میں ذیلی شاخ  وائے پی جی  کواستعمال کرتے ہوئے  استنبول میں   کیے گئے دہشت گرد حملے کے بعد  ترکیہ   نے متوقع سزا دینے کی کاروائی کی ہے۔ وزارت قومی دفاع کے بیان کے مطابق، ترک مسلح افواج نے  پنجہ شمشیر فضائی آپریشن شروع کرتے ہوئے  شام اور عراق میں PKK/YPG کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ جب کہ اب تک تقریباً پانچ سو اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، اعلان کیا گیا ہے کہ تنظیم کے 250 کے قریب کارندوں کو غیر فعال بنا دیا گیا ہے۔جب کہ آپریشن 1200 کلومیٹر سرحدی لائن پر 150 کلومیٹر کی گہرائی میں ایک بہت بڑے علاقے کا احاطہ کر رہا ہے۔یہ دیکھا جا رہا ہے کہ PKK/YPG  میں افراتفری  کا ماحول پیدا ہوا ہے۔

سیتا خارجہ پالیسی محقق جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔

دہشت گردتنظیم PKK عراق اور شام میں ترک فوج کی کارروائیوں  اور  ترک خفیہ سروس کے براہ راست اس کے سرغنوں  کو نشانہ  والی ایک مساوات میں  پھنستی  چلی جا رہی ہے اور خاص طور پر  شمالی عراق میں زاپ  کے علاقے میں بھاری نقصان اٹھا کر اس نے اپنے لیے ایک اسٹریٹجک علاقہ کھو دیا تھا۔ اس صورتحال کو ہضم نہ کرسکنے والی دہشت گرد تنظیم انتقام کی تلاش میں بالخصوص ترکیہ کے بڑے  شہروں میں کسی کارروائی کے درپے  تھی۔ اگرچہ دہشت گردانہ حملوں کی بہت سی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا تھا، لیکن آخر کار انہوں نے استنبول کے علاقے تقسیم  میں ایک دہشت گردانہ بم حملہ کیا، جس میں بہت سے شہری جان بحق ہوئے۔

ترکیہ نے اس حملے کے خلاف شدید رد عمل کا مظاہرہ  کیا اور پنجہ شمشیر فضائی کاروائی کے نام سے  سزا دینے کی کاروائی  کو شروع کیا۔  عراق و شام میں بیک وقت شروع کردہ اس عسکری کاروائی کے  دائرہ عمل میں 1200 کلو میٹر طویل فرنٹ لائن پر اور 150 کلو میٹر  اندر تک  کے ایک وسیع رقبے پر  بمباری کی گئی۔ وزارت دفاع سے جاری کردہ  بیان کے مطابق  کاروائی کے پہلے تین ایام میں  500 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے  اور اس دوران  قریب اڑھائی سو دہشت گرد بے اثر کر دیے گئے ہیں۔ شام میں تل رفعت ، منبج، عین العرب، عین عیسیٰ، قامشلی اور مالکیہ  اور عراق میں خاکرک، قندیل اور آسوس   تک کے وسیع رقبے پر اہداف کو  نشانہ  بنایا گا۔ اس بات کا مشاہدہ ہو رہا ہے کہ PKK۔ وائے پی جی  اس قدر وسیع پیمانے کی سزا  عسکری کاروائی کی توقع   نہیں کر رہی تھی اور  بھاری  نقصان اٹھانے کے باعث  اس کے اندر  افراتفری   اور مایوسی کی فضا  پیدا ہوئی ہے۔

بیسیویوں  لڑاکا  طیاروں اور مسلح ڈراونز  سے  دہشت گردوں کے کمانڈ مراکز، فوجی اڈوں، تربیتی کیمپوں،  فوجی سازو سامان کے  گوداموں اور سرنگوں کو ہدف بنایا  گیا ہے تو  ترک مسلح افواج نے پہلی بار  PKK۔ وائے پی جی  سے تعلق رکھنے والے   انرجی انفرا سٹرکچر اور متعلقہ تنصیبات کو  بھی  نشانہ  بنانا شروع کر دیا ہے۔ خاصکر  مالیکیہ ۔ قامشلی   میں موجود  تیل کے کنووں، ریفائنریوں اور گیس   فیلڈز کو تباہ کر دیا گیا  ہے۔ 75 کلو میٹر  اندر تک دیر الزور علاقے  پر بمباری کی گئی  ہے،   PKK۔ وائے پی جی   کے یات نامی ہیڈ کوارٹر  کہ جہاں پر امریکی فوجیوں کی جانب سے تربیت  یافتہ عناصر  موجود تھے کو ڈراونز کے ذریعے  نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترکیہ PKK/YPG کے خلاف فضا اور زمین سے اپنی جامع تعزیری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن دہشت گرد تنظیم شہریوں کو نشانہ بنا کران کا  جواب دینے کی درپے ہے۔ انہوں نے عین العرب کے علاقے سے لیکر قار قامش میں   شہریوں کے خلاف حملے کیے اورطعز شہر کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔

یہ تنظیم جس کی  ترک مسلح افواج کے خلاف ایک  بھی نہیں چل رہی ، عام شہریوں کو نشانہ بنا کر  اپنے وجود کو منوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم شہریوں پریہ  حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکیہ کے عزم کو مزید پختہ بنا رہے ہیں۔ صدر رجب طیب ایردوان نے حال ہی میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے  خطے میں بری کاروائی  کو دوبارہ سے شروع کرنے کا اشارہ دیا ہے۔  جناب ایردوان نے کچھ مدت پیشتر  بھی بری کاروائی کرنے کا اعلان  کیا تھا مگر  پوتن   کی   اسد انتظامیہ کے ساتھ  بات چیت کرنے کی تجویز کو  قبول کرتے ہوئے اس کاروائی کو وقتی طور پر  منجمد کر دیا تھا۔  اس کے بعد کے  ایام  میں  ملکی  انتظامیہ کے  ساتھ کسی قسم کی  پیش رفت حاصل نہ ہو سکی تھی۔ اب   تازہ فضائی کاروائی میں PKK سمیت اس کے شانہ بشانہ  ہونے والے بھاری تعداد میں  اسد انتظامیہ کے فوجی بھی  مارے گئے ہیں۔ بالآخر، ترکیہ کو اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور حملوں کو مکمل طور پر روکنے کے لیے وسیع زمینی کارروائیوں کے ساتھ اپنی سرحدوں کو  PKK سے مکمل طور پر پاک کرنا ہوگا۔

ایسے وقت میں جب بین الاقوامی اتحاد ترکیہ  کے ساتھ  ہے، ترک مسلح افواج  ممکنہ طور پر  بری  کارروائیاں شروع کریں گی۔ تل رفعت ، منبج اور عین العرب اس کے اولین اہداف ہوں گے۔



متعللقہ خبریں