تجزیہ 12

ترک  مملکتوں کی تنظیم  کا نواں  سربراہی اجلاس اور شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی مبصر رکنیت پر ایک تجزیہ

1908073
تجزیہ 12

ترک  مملکتوں کی تنظیم  کا نواں  سربراہی اجلاس "ترک تہذیب کے لیے نیا دور: مشترکہ ترقی و اصلاحات کا حصول"  مرکزی  عنوان  کے ساتھ ازبیکستان کے شہر ثمر قند میں سر انجام پایا ۔  گزشتہ برس کے  ٹرم  صدر ترکیہ کی میزبانی  میں استنبول  سمٹ میں ترک کونسل  کے   سابقہ نام کو   ٹی ڈی ٹی یعنی ترک مملکتوں کی تنظیم  کے طور پر تبدیل کرنے والی   اور 2040 کے ویژن ڈیکومنٹ کو قبول  کرنے والی اس تنظیم  کے  ثمر قند سمٹ میں  کس طرح کے پیش نظر کے  منظر عام پر آنے اور ترک   برادری   کے تعاون اور یکجہتی سے متعلق اقدامات   کا بڑی بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا۔  103 نکات پر مشتمل ثمر قند اعلامیہ   میں جامع تفصیلات کو جگہ دی گئی ہے۔

سیتا  سیکیورٹی ریسرچ   سنٹر کے ڈائریکٹر  پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مندرجہ  بالا موضوع پر جائزہ۔۔۔

اس سربراہی اجلاس  کے اہم نتائج  میں سے ایک بلا شبہہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ  کو مبصر رکن  کی حیثیت  دیا جانا تھا۔  اعلامیہ کی  7ویں شق میں " قبرصی ترکوں کو ترک مملکتوں کے ایک  جزو  کی نگاہ سے دیکھنے"  کی تشریح کی گئی ہے تو  اس ملک کو  مبصر کی حیثیت دینا    ا س کی تنہائی کو  دور کرنے کے  اعتبار سے  اہم  ہے اور یہ ترکیہ کے علاوہ کے  تنظیم کے ارکان کے  لحاظ سے  بھی ایک حوصلہ  کن  پیش  رفت ہے۔

علاوہ ازیں  آذربائیجان کے صدر الہام علی یف کے  خطاب میں شامل اور  تقریباً تمام تر شرکا ء کی جانب سے اتفاق کردہ  " ترک برادر ی کی جغرافیائی سرحدیں کہیں  زیادہ   وسیع  ہیں"   بیان کے بعد    ترک  مملکتوں کی  تنظیم کے رکن ممالک   کے باہر  زندگی بسر کرنے والے ترک باشندوں  کے حقوق،  تحفظ اورقومی شناخت  کے تحفظ ، ان کی شناخت کو مسخ نہ  ہونے دینے" جیسے معاملات کو   تنظیم کے  ڈھانچے کے اندر    حمایت  دیے جانے  کی اپیل  اپنے ایک پہلو کے ساتھ ترک مملکتوں کی تنظیم   پلیٹ فارم    پر آذربائیجان  کی جانب سے ایران   کو کسی قطعی پیغام   کی  حیثیت  رکھتی ہے۔ حالیہ ایام میں  کشیدگی اورتناو کا مشاہدہ ہونے والے  کرغزستان ۔ تاجکستان  سرحدی تنازع  کو  بین الاقوامی قانون   کی بنیاد پر کرغزستان  کو  واضح اور دو ٹوک پیغام دیے جانے  والے اعلامیہ میں علاوہ ازیں   ہجرت اور غیر قانونی نقل مکانی کے بر خلاف   جدوجہد    سے لیکر افغانستان میں استحکام کے قیام تک   متعدد  معاملات پر  زور دیا گیا ہے۔

دوسری جانب    ترک مملکتوں  کی تنظیم  کی  ترقی و ترویج  اور  باہمی تعاون کے  مزید  فروغ دینے  کے معاملے نظرِ انداز نہ کیا جانے والا ایک اہم  عنصر رکن ممالک   کے  تنظیم سے ہٹ کر دو طرفہ یا  کثیرالطرفہ  تعاون  ہے۔ اس معاملے میں بھاری تعداد میں  دو طرفہ اور کثیر الطرفہ  تعاون  کی مثال ہونے والے محض  ترکیہ۔ آذربائیجان  باہمی تعلقات پر  غور کرنا ہی  کافی ہو گا۔ در حقیقت یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ ترکی-آذربائیجان دو طرفہ تعلقات اور ان تعلقات کے نتیجے میں سامنے آنے والے ٹھوس نتائج TDT کے اندر تعاون کے لیے ایک حوصلہ افزا اور حوصلہ  کن  کردار ادا کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں  رکن ممالک کے سربراہان کی دو طرفہ اور  کئی  طرفہ   کوششیں بھی اہم ہیں۔ حتی  سربراہان کے  پیش کردہ پیش نظر  کی بدولت   تنظیم کے اندر باہمی تعاون  کا فروغ شاید   اس ضمن میں حیاتی عنصر کی  حیثیت رکھتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ تنظیم  کی سیکریٹریٹ  اور رکن ممالک کے  تیکنیکی  وفود  ،  سربراہان کے  پیش کردہ   نقطہ  نظر اور  ان کی رہنمائی کی بدولت   مذکورہ  فائلوں  پر کہیں زیادہ دلجمعی سے کام کر رہے ہیں اور  انہیں  عملی جامہ پہنانے کی انتھک کوششوں میں محو ہیں۔

اس  مرحلے پر  ترکیہ کے اقدامات اور صدر ایردوان کی قیادت   کے   ترک برادری تنظیم     کے  حالیہ  دور میں  ایک نئے اسراع سے ہمکنار   ہونے میں ایک اہم کردار  ادا کرنے کو  نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔  اسی طرح  آذربائیجان میں صدر علی یف، قازقستان میں  نظار بایف اور توکایف،  کرغزستان میں جاپاروف  اور ازبیکستان میں  میر ضیا یف  نے بھی   تنظیم کو با اثر بنانے میں  اہم کردار ادا کیا ہے۔  مبصر رکن مملکت ہنگری   کے وزیر اعظم اوربان  بھی اس سلسلے میں   ہم آہنگ  قیادت  کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔



متعللقہ خبریں