چشمہ شفاء۔04

آج ہم آپ کے ساتھ صحت کے جس مسئلے اور اس کے علاج کے بارے میں بات کریں گے وہ ہے "ذیابیطس کے مرض کے مقابل حفاظتی تدابیر اور ان کا استعمال"

1884590
چشمہ شفاء۔04

ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں پر مبنی پروگرام 'چشمہ شفاء' کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

آج ہم آپ کے ساتھ صحت کے جس مسئلے اور اس کے علاج کے بارے میں بات کریں گے وہ ہے "ذیابیطس کے مرض کے مقابل حفاظتی تدابیر اور ان کا استعمال"۔

 

ذیابیطس، شکر یا پھر انسولین رزسٹینس کے ناموں سے پہچانی جانے والی یہ بیماری لاحق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جسم اپنے پیدا کردہ انسولین ہارمون کی مقدار کو جواب نہیں دے پا رہا۔ ایک صحت مند جسم میں لبلبے کا پیدا کردہ ہارمون  یعنی 'انسولین'، جسم کے خلیات کو شکر جذب کرنے اور اسے استعمال کرنے کی طرف مائل کرتا ہے لیکن ذیابیطس کے مریضوں کے خلیات انسولین کو موئثر شکل میں استعمال نہیں کر سکتے۔

 

بہت سے انسانوں کو تو بلڈ ٹیسٹ کروانے تک پتہ ہی نہیں چلتا  کہ وہ شکر کے مریض ہو چکے ہیں۔ یوں تو ہر انسان  کے خون میں شکر کی سطح وقتاً فوقتاً بلند ہوتی رہتی ہے لیکن اگر شوگر لیول مستقل بلند رہنا شروع ہو جائے تو  آپ معمول سے زیادہ پیاس ، بار بار پیشاب کی حاجت ، زیادہ تھکن، بینائی میں دھندلاہٹ اور پیروں کے تلووں میں چیونٹیوں جیسی علامات محسوس کر سکتے ہیں۔

 

شکر کی بیماری میں جو کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ سب سے پہلے اپنے طرزِ زندگی کو تبدیل کیا جائے یعنی کھانے پینے کی عادات، ورزش، حفاظتی تدابیر اور ادویات  کی طرف توجہ دی جائے۔ وزن میں کمی، ورزش اور زیادہ صحت مند غذاوں کا استعمال شوگر پر قابو پانے اور جسمانی افعال کو معمول پر لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمیں اپنے معمولاتِ زندگی کو کس طرح تبدیل کرنا چاہیے۔

 

1۔ غذائی پروگرام

غذائی پروگرام کا تعین شوگر پر قابو پانے کے لئے پہلا اور  سب سے ضروری  قدم ہے۔ ایسی غذاوں  سے دُور رہنا چاہیے جو لبلبے کو زیادہ مقدار میں انسولین پیدا کرنے کی طرف مائل کریں۔ لبلبے کو ضرورت سے زیادہ انسولین پیدا کرنے کی طرف مائل کرنے والی غذاوں میں شہد، جیم، پیزا، گیہوں کی روٹی، چاول اور نوڈل  جیسی غذائیں شامل ہیں۔

شوگر کی بیماری  میں نسبتاً کم کاربن ہائیڈریٹ والی غذاوں کا انتخاب کرنا چاہیے اور جس مقدار میں کاربن ہائیڈریٹ لینا ہو اسے ایک ہی وقت میں لینے کی بجائے دن بھر کے کھانے کے اوقات میں تقسیم کر لینا چاہیے۔  اس کے علاوہ ایسی غذاوں  کا انتخاب کیا جانا چاہیے جن میں شکر کی مقدار کم ہو۔

 

2۔ کھانے  کے اوقات میں وقفے کو طویل نہ کریں

عام طور پر یہ سوچا جا سکتا ہے کہ ایک وقت کا کھانا چھوڑ کر کم کیلوری  حاصل کر کے وزن میں کمی کی جا سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ طریقہ یا تو خون میں شوگر لیول کو بہت زیادہ بلند کر دے گا یا پھر بہت زیادہ کم۔ نتیجتاً پیٹ پر چربی چڑھنے کا عمل تیز کر کے جسم میں انسولین پر قابو پانے کی صلاحیت کو کم کر دے گا۔

 

3۔ ورزش

تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ روزانہ 35 سے 45 منٹ کی ورزش شوگر پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔ باقاعدہ اور تیز رفتاری سے چلنے کے مثبت اثرات 48 گھنٹے تک ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ مسئلے پر قابو پانے کے لئے ہر روز تیز چلنا  ہی کافی ہو سکتا ہے۔

معمول کی ورزش  میں ایروبک ورزشیں شامل کر کے جسم میں آکسیجن کی مقدار میں اضافہ کیا  جا سکتا اور نتیجتاً انسولین کا توازن بحال کیا جا سکتا ہے۔

 

4۔ معیاری نیند

کچی اور تھوڑی نیند صحت کو نقصان پہنچانے اور انسولین کا مسئلہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بھرپور نیند لی جائے اور اگر نیند  کا دورانیہ کم رہ جائے تو دن بھر میں اس کی تلافی کی جائے۔

 

5۔ ذہنی دباو میں کمی

مستقل ذہنی دباو، شوگر کی بیماری کو تحریک دینے والے اسباب میں سرفہرست ہے۔  مراقبہ یا میڈیٹیشن، ورزش اور گہری نیند جیسے معمولات ذہنی دباو پر قابو پانے میں مددگار  ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

6۔ سگریٹ نوشی اور تمباکو والی مصنوعات سے پرہیز

شوگر کے مریض کو قطعاً سگریٹ نوشی  نہیں کرنی چاہیے اور تمباکو کی دیگر مصنوعات سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔

 

7۔ متوازن شکل میں وزن میں کمی

وزن میں کمی رفتہ رفتہ اور متوازن شکل میں کی جانی چاہیے۔ خاص طور پر پیٹ کے حصے میں زیادہ چربی جسم کی انسولین کے مقابل مزاحمت کو کمزور کرتی ہے۔ وزن میں کمی جسم کو انسولین کے مقابل زیادہ حساس کرنے میں مدد دیتی اور شوگر کا مرض پیدا ہونے کے خطرے کو کم کرتی ہے۔

 

8۔ گھُل جانے والے پوسے کا استعمال

ایسے پوسے یا فائبر کا استعمال جو گھُل جاتا ہو صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ یہ نہ صرف جسم میں انسولین کی مقدار کو توازن میں رکھتا ہے بلکہ انتڑیوں میں موجود دوست بیکٹیریا کی نشوونما میں بھی مدد دیتا ہے۔

دن بھر میں 50 گرام سے زیادہ پوسے کا استعمال خون میں شکر کی مقدار کو بھی متوازن رکھتا ہے۔ گھُل جانے والے پوسے سے مالامال غذاوں میں چنے، پھلیاں   ، لوبیااور دالیں، جئی کا دلیہ، السی کے بیج،  برسلز سپروٹ، بادام اور  بروکلی جیسی سبزیاں اور مالٹے جیسے پھل شامل ہیں۔

 

9۔ مچھلی کا استعمال

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سامن جیسی تیل کی وافر مقدار  والی مچھلیوں کا استعمال جسم کو معیاری پروٹین فراہم کرتا ہے۔ معیاری پروٹین جسم میں انسولین کو توازن میں رکھتا اور بلند انسولین میں کمی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ وافر مقدار میں تیل والی مچھلیاں اومیگا 3 کے حصول کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔

 

10۔ رنگدار سبزیوں اور پھلوں کا استعمال

رنگدار سبزیوں اور پھلوں کا متوازن استعمال جسم میں شوگر کے مقابل مزاحمت میں اضافہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے لیکن احتیاط کریں ایک ہی وقت میں بہت زیادہ پھل کھانے سے پرہیز کریں۔

 

11۔درست مقدار اور درست قسم کے پروٹین کا استعمال

کھانے میں کافی مقدار میں پروٹین، وزن اور انسولین کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

 

12۔ کھانوں کے درمیانی وقفے کی طوالت

کھانوں کے درمیانی وقفے کو طویل کرنا بعض اوقات شکر کی سطح کو کم کر سکتا ہے لیکن یہ طریقہ ہر ایک کے لئے موزوں نہیں ہے۔



متعللقہ خبریں