کیا آپ جانتے ہیں۔03

کیا آپ کو معلوم ہے کہ استنبول کا گالاٹا ٹاور دنیا کے قدیم ترین ٹاوروں میں شمار ہوتا ہے؟

1880550
کیا آپ جانتے ہیں۔03

کیا آپ کو معلوم ہے کہ استنبول کا گالاٹا ٹاور دنیا کے قدیم ترین ٹاوروں میں شمار ہوتا ہے؟

 

یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل گالاٹا ٹاور نہ صرف دنیا کے قدیم ترین ٹاوروں میں سے ایک ہے بلکہ استنبول کی علامتوں میں سے بھی ایک شمار ہوتا ہے۔ یہ ٹاور، استنبول کی یورپی طرف اور بے اولو تحصیل کی باسفورس سمت میں واقع ہے ۔

 

گالاٹا ٹاور کو سب سے پہلے بازنطینی شہنشاہ جسٹینیانوس نے 508 عیسوی میں تعمیر کروایا۔ اس ٹاور نے بہت سی جنگی دیکھیں اور ان جنگوں سے نقصان بھی اُٹھایا۔1349 میں جینوائیوں نے اسے دوبارہ سے تعمیر کیا۔1500 کے زلزلے سے متاثرہ  ٹاور کی بالائی منزل میں عثمانی سلطان سلیم سوئم نے ایک طاق کا اضافہ کیا۔1831 کی آگ میں دوبارہ سخت نقصان پہنچنے کی وجہ سے ٹاور کی تعمیر و مرمت کی گئی۔ اس تعمیر و مرمت میں سلطان محمود دوئم نےٹاور میں مزید 2 منزلوں  اور گنبد کا اضافہ کروایا۔1967 کی تعمیر و مرمت کے بعد ٹاور کی فی الوقت آخری ریسٹوریشن 2020 میں کی گئی ہے۔

 

یہ ٹاور جو سینکڑوں سالوں سے استنبول کو مزّین کئے ہوئے ہےاصل میں بطور لائٹ ہاوس تعمیر کیا گیا لیکن اپنی پوری تاریخ میں زندان، رسد خانے  اور فائر ٹاور جیسے مختلف مقاصد کے ساتھ استعمال کیا جاتا رہا ۔ ٹاور  کی کُل 11 منزلیں ہیں ۔زمین سے چوٹی تک کُل لمبائی 69 میٹر اور زمینی گھیر 208 مربع میٹر ہے۔  اپنے سادہ ڈیزائن کے باوجود ٹاور کی عمارت نہایت پُر احتشام ہے۔

 

استنبول کی سیر کی بات کی جائے تو سب سے پہلے جو مقامات ذہن میں آتے ہیں ان میں سے ایک گالاٹا ٹاور ہے۔  روزمرّہ زندگی میں یہ ٹاور بطور عجائب گھر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ روزانہ مقامی و غیر ملکی سیاحوں کی ایک کثیر تعداد اس کی سیر کے لئے آتی ہے۔



متعللقہ خبریں