تجزیہ 01

عراق کی تازہ سیاسی صورتحال اور مقتدی صدر کے اقدامات پر ایک جائزہ

1875209
تجزیہ 01

عراق میں 10 اکتوبر 2021 کو منعقدہ   عام انتخابات کے بعد  ملکی حالات معمول پر نہ آسکے۔ انتخابات میں خاصکر بری طرح شکست سے دو چار ہونے والے حشدی شعبی  سے منسلک  مختلف میلیشا گروہ اسلحہ کے بل بوتے پر  جبری  طور پر  سیاسی نتائج حاصل کرنے  کی کوششوں  میں لگ گئے ۔ ایران  کی ہدایات کے مطابق  کاروائیاں کرنے  والے ان عناصر کے برخلاف مقتدی الا صدر  کی سیاسی جماعت "عراق قوم  پرست" بر سرِ پیکار ہو گئی۔کئی مہینوں تک نئی حکومت قائم نہ کر سکنے  والے ملک میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں اور صدر اور دیگر اتحادیوں کے درمیان  طاقت  کی جنگ  سڑکوں  پر  تصادم کی ماہیت اختیار کر گئی، بعد ازاں صدر نے   غیر متوقع طور پر  سیاست سے  کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا۔

سیتا  خارجہ پالیسی محقق جان اجون کا مندرجہ بالا  موضوع پر تجزیہ ۔۔

عراق میں 10 اکتوبر  2021 کو منعقد ہونے والے  قبل ازوقت انتخابات  کے نتائج کے  مطابق شیعہ لیڈر مقتدی الا صدر  کے صدر  گروپ نے 73  نشستیں  لیتے ہوئے  میدان مار لیا،  صدر  کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔  صدر گروپ کے برخلاف ایران نواز  گروہ  اور خاصکر فتح اتحاد  کو انتخابات میں   شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔سابقہ  پارلیمانی اسپیکر  محمد حالبوسی  کی  تقدم جماعت نے دوسری جبکہ  سابق وزیر اعظم نوری الا مالکی کی قانونی مملکتی اتحاد نے تیسری  پوزیشن حاصل کی۔  کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی 34 نشستیں جیتتے ہوئے  کردستان  محبان وطن اور گوران  جیسی  اپنی  حلیف پارٹیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

ان  نتائج کے بعد صدر نے سنیوں اور کردستان ڈیموکریٹک پارٹی  کے ہمراہ ایک نیا  اتحاد قائم کرتے ہوئے حکومت قائم کرنے کی کوشش  کی ، تا ہم  خاص طور پر ایران کی مداخلت سے یہ کوشش ناکام ثابت ہوئی۔  صدر نے اس پیش  رفت کے بعد  ایک  نیا حربہ استعمال کرتے ہوئے  اپنے پارلیمانی نمائندوں کو استعفی دلاتے ہوئے  قومی اسمبلی تحلیل کردی اور انتخابات کے دوبارہ انعقاد کے لیے  بعض   اقدامات اٹھائے۔ ایران سے قربت رکھنے والے  گروہوں نے  کوآرڈینشن  فریم   کے نام تلے گروہ بندی کرتے ہوئے صدر کی چالوں کے برخلاف بعض  چالیں چلیں۔ صدر نے اس سیاسی کھیل میں اکثر و بیشتر  عوام کی ایک  کثیر تعداد کو  فعال  بنایا اور حالیہ ایام  میں   ان سے منسلک  عسکری ملیشیا ڈھانچے  ثریا الا سلام گروپ   کو  میدان میں اتارا، جس  کے بعد  حشدی شعبی  ملیشیاوں کے ساتھ بغداد اور بصرہ  سمیت متعدد  شہروں میں جھڑپیں ہوئیں۔  جس دوران  لوگوں کی ایک بڑی تعداد موت کے منہ میں  چلے گئے تو صدر نے ایک بار پھر اچانک  فیصلہ کرتے ہوئے اپنے تمام تر حامیوں کوپس قدمی کرنے کی اپیل کی، انہوں نے ایک روز پیشتر سیاست کو خیر آباد کہنے کا اعلان کر دیا تھا۔عراقی پاپولسٹ لیڈر کی طرف سے کثرت سے استعمال ہونے والی بیان بازی اور ان کے اقدامات کے درمیان فرق  موجود ہونے کا مشاہدہ ہورہا ہے۔

شیعہ مذہبی و سیاسی رہنما  مقتدی الا صدر نے  سماجی رابطوں کے پیجز  کے ذریعے اپنے بیانات میں  کہا ہے کہ " میں سیاسی امور سے  علیحدگی اختیار کر رہا ہوں  اور سیاست سے مکمل طور پر  کنارہ کشی   کا اعلان کرتاہوں۔ اپنے  مرحوم والد کے مزار، تاریخی  شہہ کاروں سے متعلقہ ادارے  اور صد ر خاندان  کے عجائب  گھر کے علاوہ   میں  نے   خود سے منسلک تمام تر اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔   اس  فیصلے کے عقب میں ایران میں مقیم اور کل "اپنے اختیارات سے دستبردا ر ہونے" کی اطلاع دینے والے عراقی  شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ  کاظم الحریری پر تنقید کرنے والے صدر نے  اس چیز کا دفاع کیا ہے کہ الحریری نے  اپنے اختیارات سے  دستبرداری کا فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ نجف کے اہل تشیع کے  لیے ایک اہم  شخصیت قبول کیے جانے والے الحریری  کےدستبرداری کے بعد ایران نواز بیانات    صدر کو اس کے برخلاف اقدام اٹھانے  میں موثر ثابت ہوئے ہیں۔ بالآخر، اپنی تازہ ترین چالوں سے، وہ خود کو نئی اتھارٹی کا اعلان کرسکتے ہیں اور ایران کو اپنے حامیوں پر اثر انداز ہونے سے روک سکتے ہیں ۔ صدر  کے اتحادی عراقی قوم پرستی کی نمائندگی کررہے ہیں تو  صدر ایران نواز گروپوں کے خلاف جدوجہد پر قائم دائم ہیں۔



متعللقہ خبریں