تجزیہ 49

اناج راہداری معاہدہ اور اس کے قیام میں ترکی کا کردار

1864358
تجزیہ 49

صدر ایردوان  کی   پر عزم  کوششوں اور  یوکیرین و روس پر اپنے اثرِ رسوخ   کی بدولت"اناج راہداری معاہدہ'' 22 جولائی بروز جمعہ ترکی، روس، یوکیرین اور اقوام متحدہ کے درمیان استنبول میں طے پایا۔  ترکی  کی میزبانی میں دستخط ہونے والے  اناج راہداری معاہدے کی وساطت سے  عالمی خوراک   کے تحفظ   کے معاملے میں  ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔

سیتا خارجہ پالیسی محقق جان اجون کا  مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ۔۔۔

روس کی  24 فروری 2022 کو یوکیرین کے خلاف شروع کردہ    جنگ  کے بعد یوکیرین  کے  بحیرہ اسود کی بندر گاہوں  پر موجود  سامان بردار بحری جہازوں کی نقل و حمل مکمل طور پر رک گئی تھی۔  روس  کے اودیسا شہر  کی بندر گاہ سمیت تمام تر  یوکیرینی بندرگاہوں کا محاصرہ  کرنے سے  عالمی سطح پر  تحفظِ خوراک  خطرے میں پڑ گیا تھا۔  یوکیرینی بندر گاہوں پر جمع کردہ کئی ملین تن  اناج کی برآمدات کا راستہ مکمل طور پر بند ہو گیا۔  اس صورتحال نے نہ صرف اجناس تک  رسائی کو محدود کیا تھا بلکہ  اس کے ساتھ ساتھ  خوردنی اشیاء کے  نرخ آسمانوں سے باتیں کرنے لگے تھے، خاصکر غریب ممالک میں  خوردنی اشیا کو تحفظ براہ ِ راست خطرات سے دو چار ہو گیا تھا۔

اس تناظر میں  ترکیہ جمہوریہ کے صدر رجب طیب ایردوا ن نے ایک طویل مدت سے  پر عزم  ڈپلومیسی   کوششوں اور ملاقاتوں  کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے  ترکی کی نگرانی میں یوکیرین اور روسی کو یکجا  کرنے میں کامیابی حاصل کی اور اناج راہداری کی تشکیل  کے لیے زمین  ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے آخر کار  معاہدے کے قیام کو ممکن بنا ڈالا۔

یوکیرینی بندر گاہوں پر   محصور رہ جانے والے  اناج کی  ترسیل  کے لیے  معاہدے پر   صدر  رجب طیب ایردوان  اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری  جنرل انتونیو گوٹریس کی شراکت سے  منعقدہ تقریب میں  22 جولائی کو دستخط کیے گئے ۔ اس معاہدے کی رُو سے  کئی مہینوں سے آمدروفت کے لیے بند  اودیسا  بندر گاہ سے   مال بردار بحری جہازوں کی  آمدورفت  کا عمل شروع  ہو گیا  ہے تو استنبول میں مشترکہ  رابطہ دفتر   اور متعلقہ ترک حکام   کی نگرانی و انسپیکشن  میں   غذائی  اجناس کی ترسیل کا عمل جاری رہے گا۔

جنگ سے پیشتر یوکیرین  سے سالانہ 50  ملین ٹن کے لگ بھگ اناج، جو، سورج مکھی  تیل،  مکئی اور دیگر  غذائی اجناس کی برآمدات کی جاتی تھیں ،   اب   معاہدے کو عملی جامہ پہنائے جانے  کی بدولت  رواں سال کے آخیر تک کم ازکم  30 ملین ٹن  اجناس  کی   برآمدات ممکن  بن جائینگی۔   معاہدہ طے  پانے کے ساتھ ہی   ابھی سے  خوردنی اشیا کے نرخوں میں  شدید  گراوٹ   آنا شروع ہو گئی ہے،  اس  طرح   کروڑوں انسان  زیادہ محفوظ اور سستے  داموں اناج   کے  حصول تک رسائی  کر سکیں گے۔

اس معاہدے کو  ترکیہ اورصدر ایردوان کی  عظیم سطح کی سفارتی و سیاسی فتح   کے طور  پر بیان کرنا بے  جا نہ ہو گا۔ ترک صدر کی ان اہم کاوشوں کے باعث  انہیں نوبل ایوارڈ دیا جانا چاہیے۔



متعللقہ خبریں