تجزیہ 48

یوکیرین سے اناج کی بحفاظت ترسیل کا معاہدہ اور اس کے مستقبل پر اثرات

1861319
تجزیہ 48

ترکی  استنبول میں طے پانے والے اناج معاہدے  کی بدولت روس۔ یوکیرین جنگ میں دوبارہ سے  ایجنڈے میں  شامل ہوا ہے۔   فروری  2022 میں چھڑنے والی  روس۔ یوکیرین جنگ کی بنا پر  خوردنی اشیا  اور اناج کی   پوری استعداد کے  مطابق  برآمدات نہ کرسکنے والے یوکیرین کے  گوداموں  میں اسوقت 20 ملین ٹن  سے زائد گندم موجود ہے۔  نئی  فصل کاٹنے کا سیزن  شروع ہونے کے باوجود  گوداموں میں خالی جگہ موجود نہ ہونا  خوراک کی پیداوار کو مشکلات سے  دو چار کر رہا  ہے۔ سمندری راستے  برآمدات کو بارودی سرنگوں اور جنگی بحری جہازو کی بنا پر    سر انجام نہ  دیا جا سکنا یوکیرین کو متبادل  راستوں کی  تلاش کرنے پر مجبور  کر رہا ہے۔ تا ہم  لازمی بنیادی  ڈھانچے  کی عدم  فراہمی  اور جنگ جاری ہونے   کے ماحول میں  ترسیل  کے تمام ذرائع  کو مشکلات  کا سامنا ہے۔ 

سیتا  تحقیقاتی  ڈائریکٹر  پروفیسر  ڈاکٹر  مراد یشل طاش کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔

حالیہ دو برسوں  میں  عالمی  سطح پر خوردنی اشیا  میں افراط زر  کی بلند سطح 60 فیصد کو روس۔ یوکیرین جنگ کی بنا پر اشیا کے نرخوں  میں  اتار چڑھاو  کی مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔   اناج  کی  ضرورت کے ایک بڑے حصے کو یوکیرین سے  پورا کرنے والے ممالک میں شامل  ایرترے، صومالیہ، لیبیا، مصر، سعودی عرب، عمان ، اسرائیل، تیونس، ایتھوپیا، یمن اور کینیا   موجودہ حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک   ہیں۔  خوراک کی عالمی پیداوار میں یوکیرین  کے   حصے کو مد ِ نظر رکھنے سے   یہ کہنا ممکن ہے کہ   زرعی  اجناس  خریدنے والے ممالک  کا قلیل  مدت کے اندر  کسی دوسرے ملک سے  درآمدات  کرنا ایک مشکل کام ہے۔ کیونکہ کورونا وائرس کی وبا  ،  توانائی  اور خوراک کے بحرانوں  کی بنا پر   نرخوں میں اضافہ ہونے  والی  زرعی مصنوعات   میں  قلیل  مدت کے اندر تدارک کرنا ممکن نہیں ۔ اس بنا پر   یوکیرین  اناج راہداری کا کھلنا  اہمیت کا حامل  ہے۔  راہداری کو آپریشنل بنائے جانے کے بعد  خوراک کے عالمی نرخوں   میں    اضافے کے دباو میں گراوٹ آسکتی ہے۔ یہ پیش رفت   زرعی مصنوعات   کے نرخوں میں کمی آنے کی  راہ ہموار کرے گی، مغربی ایشیائی و افریقی ممالک   کو    موجودہ  سلسلے سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔

جنگ کی وجہ سے غذائی سپلائی کے عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے، ترکی-روس-یوکرین شراکت داری کے ذریعے  منصوبہ بندی کردہ   فوڈ کوریڈور کا مقصد گوداموں میں موجود اناج کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہے۔ عالمی خوراک کی فراہمی میں ایک اہم کردار کے طور پر عالمی منڈیوں میں یوکرینی اناج  کی ترسیل خوراک کی موجودہ  قیمتوں میں عدم توازن کو ختم کر سکتی ہے۔

جنگ کی حالت میں ہونے والے روس ۔ یوکیرین  جیسے  دو ممالک کے ساتھ ڈائیلاگ چینل کو کھلا رکھنے والا ترکی  جنگ چھڑنے کے آغاز سے ہی  سفارتی طریقوں سے امن کا ماحول   برقرار رکھنے کی کوششوں  میں ہے۔ روس پر عائد پابندیوں اور تنہا چھوڑنے کی پالیسیوں کی بنا پر  جنگ چھیڑنے والے مسائل کے حل کے لیے  سفارتی  ڈیسک  قائم کر سکنے کے اہل ممالک کی تعداد  کافی محدود ہے۔ یہ حقیقت ہے  کہ ترکی نے جنگ کے  ابتدائی ایام سے  ہی ایک متوازن خارجہ پالیسی کی پیروی کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ  فریقین کے درمیان ثالث بننے کا مشن  سنبھال سکتا ہے  جس کے بعد اسے  غلہ راہداری  کے قیام  میں کامیابی ملی ہے۔   ترک بحری بیڑے کی رفاقت میں  اناج  لادے   بحری جہازوں کو براستہ ترکی  عالمی  منڈیوں تک  پہنچایا جائیگا۔ یہ  پیش رفت   دنیا اور ترکی میں  خوراک کی قیمتوں میں    مثبت اثرات مرتب کرے گی۔  خوراک کے عالمی بحران کے حل کی راہوں  میں سے ایک   ترکی کی سفارتی کامیابی کی بدولت سپلائی میں اضافے کا امکان ہے۔

معاہدے   میں متوقع  کامیابی  کا موقع فراہم کرنے والا اہم ترین قدم  یوکیرین اور روس کے  مطلوبہ   شکل میں   اس پر عمل درآمد پر مبنی ہے۔ لیکن اس معاہدے اور خوراک کے بحران کو کم کرنے کی کوششوں کے لیے کچھ خطرات  بھی موجود ہیں۔ اس  حوالے سے  معاہدے کے مناسب نفاذ کے علاوہ روس کا  زرعی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر اپنے حملوں کو روکنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔  روس  کے حملوں کے جاری رہنے  اور /یا پھر یوکیرینی  کسانوں   کی  طرف سے  اناج  پر قبضہ ہر چیز سے قبل  آئندہ کے پیداواری    موسم میں یوکیرین   میں     پیداوار میں اہم  شرح میں  گراوٹ کا موجب بنتے ہوئے  معاہدے میں کامیابی کی  توقعات کو  محدود کر سکتی ہے۔



متعللقہ خبریں