پاکستان ڈائری - پولیو وائرس

پولیو وائرس انسانوں میں گندے پانی جراثیم آلود کھانے پینے کی اشیا انسانی فضلے سے منتقل ہوتا ہے۔پانچ سال سے کم عمر کے بچے اس وائرس کا آسانی سے شکار بن جاتے ہیں۔ اس کی ابتدائی علامات کچھ یوں ہیں بخار سردرد جسم میں اکڑاو الٹیاں وغیرہ شامل ہے

1850140
پاکستان ڈائری - پولیو وائرس

پاکستان ڈائری - 26

 

پولیو ایک ایسا مرض ہے جو دنیا کے دیگر ممالک میں ختم ہوچکا ہے لیکن پاکستان اور افغانستان میں اب بھی اسکے کیسز آرہے ہیں۔  یہ مرض انسان کو مفلوج کردیتا ہے اورعمر بھر کی معذوری دے جاتا ہے۔

پولیو وائرس انسانوں میں گندے پانی جراثیم آلود کھانے پینے کی اشیا انسانی فضلے سے منتقل ہوتا ہے۔پانچ سال سے کم عمر کے بچے اس وائرس کا آسانی سے شکار بن جاتے ہیں۔ اس کی ابتدائی علامات کچھ یوں ہیں بخار سردرد جسم میں اکڑاو الٹیاں وغیرہ شامل ہے۔ اسکے بعد انسانی جسم مفلوج ہوجاتا ہے۔یہ انسان کے اعصاب پر حملہ آور ہوتی ہے اور انسان فالج میں مبتلا ہوجاتا ہے۔یہ بیماری زیادہ ترٹانگوں کو مفلوج کردیتی ہے۔ اس بیماری کا علاج ممکن نہیں اور انسان اپاہج ہوجاتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے علاوہ اس بیماری کا خاتمہ تمام ممالک سے ہوچکا ہے۔گںی،لاو،مڈغاسکر،میانمر،نائجیریا،کیمرون کو عالمی ادارہ صحت مانیٹر کر رہا ہے کہ ناقص صحت و صفائی کی وجہ سے اس مرض کا دوبارہ پھیلاو نا ہوجائے۔پاکستان کے بیشتر علاقے پولیو فری ہیں لیکن سرحدی علاقےجوکہ افغانستان کے ساتھ متصل ہے وہاں سے یہ وائرس ملک کے دیگر حصوں میں منتقل ہوجاتا ہے ۔ اس لئے انسداد پولیو مہم ناصرف پاکستان بلکے افغانستان میں بھی چلائی جائے۔

اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو یہ تعداد خوفناک حد تک زیادہ تھی۔

۲۰۰۹ میں یہ تعداد ۸۹

۲۰۱۰ میں ۱۴۴ کیسز

۲۰۱۱ میں ۱۹۸

۲۰۱۲ میں ۵۸

۲۰۱۳ میں ۹۳

۲۰۱۴ میں ۳۰۶

۲۰۱۵ میں ۵۴

اسکے بعد بھی اعداد وشمار میں اتار چڑھاو آتا رہا۔

2016 میں 11 کیس 

2017 میں 8 کیس 

2018 میں 12

2019 میں 147 کیسز 

2020 میں 84 کیسز 

2021 میں 1 کیس

اور 2022 میں اب تک دس کیسز سامنےآچکے ہیں ۔

 

یہ بیماری اب تک کیوں نہیں ختم ہوسکی کیونکہ بہت سے والدین اپنے بچوں کو انسداد پولیو مہم سے دور رکھتے ہیں اور ویکسن کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

 امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور انسداد پولیو سیل اور انسداد پولیو ورکرز کی سخت محنت کے بعد مریضوں کی تعداد میں کمی ہوئی اور بیماری کا پھیلاو رک گیا۔کامیاب ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے پولیو ٹیمز ان علاقوں تک بھی رسائی پا سکی جہاں پہلے پہنچنا ناممکن تھا۔تاہم اب بھی پولیو ٹیمز پر حملے کئے جاتے ہیں۔28 جون کو شمالی وزیرستان میں ٹیم پر حملہ ہوا ایک ورکر سمیت دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔یہ بہت افسوس ناک امر ہے کہ بیماری کے خلاف کام کرنے والو پر حملے کئے جائیں۔حکومت ان ورکرز کو سیکورٹی دے اور انکی تنخواہوں میں اضافہ کرے۔

انسداد پولیو مہم اس وقت ملک میں جاری ہے حکومت کا ہدف ہے کہ بچوں کو قطرے پلائے جائیں تاکہ پولیو کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور کوئی بچہ پولیو ویکسین سے رہ ناجائے۔اس مہم کو سب سے زیادہ نقصان لوگ کے فرسودہ خیالات ،طالبان کی طرف سے پولیو مہم پر پابندی،ٹیمز پر حملوں اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کا انسداد پولیو اہلکار کے روپ میں جاسوسی کی وجہ سے ہوا۔علماء کرام لوگوں میں اس پیغام کو پھیلائیں کہ ویکسین میں کچھ مضر صحت نہیں ہے۔اس کے ساتھ حکومت انسداد پولیو ٹیمز کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے۔یہ ورکرز سخت موسموں میں گھر گھر جاکر پولیو ویکسن پلاتے ہیں ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔آپ کے گھر بھی جب یہ آئیں تو انکے ساتھ تمیز سے پیش آئیں۔

 حکومت صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے اور نکاسی آب کا نظام موثر کرے۔حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کیا جائے۔ اس وقت اسلام آباد میں بھی انسداد پولیو مہم جاری ہے اور ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر زعیم ضیاء خود خود ڈور ٹو ڈور کمپئین میں حصہ لے رہے ۔ وہ خود فیلڈ میں جاکر انسداد پولیو ٹیمز کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں اور خود بچوں کو ویکسین پلا رہے ہیں۔اس وقت بارہ کہو ، سہالہ اور دیگر مضافاتی علاقوں میں مہم مکمل ہوچکی ہے۔ سخت گرمی اور حبس میں یہ ٹیمز کام کررہی ہیں تاکہ ملک کے مستقبل کو مفلوج ہونے سے بچایا جاسکے۔

تاہم وہ لوگ جو اپنے بچوں کو اس مہم سے چھپا لیتے ہیں اور پولیو ورکرز پر حملے کرتے ہیں وہ ایک بڑی وجہ ہیں انکی وجہ سے پولیو ختم نہیں ہورہا اور بچے معذوری کا شکار ہورہے ہیں۔ 1998 میں یہ مرض دنیا بھر میں موجود تھا اب یہ صرف دو ممالک میں رہ گیا ہے۔ اس لئے ہم سب کو پولیو مہم کے خاتمے میں حصہ لینا ہوگا۔



متعللقہ خبریں