تجزیہ 42

ترکی اور یونان کے مابین کشیدگی اور ترکی کے موقف پر ایک جامع جائزہ

1844995
تجزیہ 42

صدر ایردوان  کے گزشتہ ہفتے   منعقد ہونے والی ایفسس 2022  مشقوں  کے حوالے سے خطاب میں   دیے گئے پیغامات اور یونان   کو غیر عسکری    حیثیت کے حامل جزائر  میں اسلحہ اندوزی کے عمل سے باز آنے کی دعوت،  اس معاملے کے ترکی کے لیے  اہم ہونے اور  اب کہیں زیادہ واضح  پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے   کا مظہر ہے۔   یہ  سلسلہ ترکی۔ یونان  باہمی تعلقات  میں کسی نئی کشیدگی   کی  جانب اشارہ کرنے کی حد تک  ایک اہم موڑ کو بھی تشکیل دیتا ہے۔

سیتا    ریسرچ ڈائریکٹر   مصنف  پروفیسر  ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ۔۔

جزائر کو مسلح کرنے  کے  معاملے  کے ایجنڈے کے مرکز   میں جگہ پانے کی صرف ایک وجہ نہیں ہے   اور  یہ  معاملہ بتدریج   تقویت پکڑتا جا رہا ہے۔ دراصل  یونان کی ایجین میں غیر قانونی  اور انتہا پسند پالیسیوں کو مشرقی  بحیرہ روم  تک   پھیلانے کی کوششوں نے اس مسئلہ کو مزید اچھالا ہے۔  مشرقی بحیرہ روم میں ایتھنز کی ترکی مخالف وسیع محاذ کے ساتھ کام کرنے کی نئی چالوں کے سامنے  انقرہ  کے  واضح جواب   سے  2020 میں پیدا ہونے والی  کشیدگی کے نتیجے میں یونان کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ ترکی نے اس عمل میں اولین طور  پر مشرقی بحیرہ روم میں  ناوٹیکس پیغامات  کو  ایجین تک  لیجاتے ہوئے جزائر کی غیر فوجی حیثیت کی خلاف ورزی پر زور دیا اور اس مسئلے کو سفارتی سطح پر  نمایاں بنانا  شروع کر دیا۔

اس مسئلے کے   مزید طول پکڑتے ہوئے  مرکزی ایجنڈے کی ماہیت اختیار کرنے   میں دو عوامل  کارگر  ثابت  ہوئے ۔  ان میں سے پہلا قدم   یونان  کی  حالیہ ایام میں اوپر تلے    جارحانہ   کاروائیاں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف یونان نے فرانس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا اور امریکہ کے ساتھ اپنے فوجی معاہدے کو  غیر معینہ مدت  سے منسلک کر دیا  اور امریکہ کے لیے بڑی تعداد میں فوجی اڈے مختص کر  دیے۔ دوسری طرف، اس نے جارحانہ اور ضرورت سے زیادہ اسلحہ سازی کی پالیسی اختیار کی اور ان جزائر کو نیٹو کی مشقوں اور دوسرے ممالک کے ساتھ مشقوں میں شامل کرنے کی کوشش کی تاکہ جزائر کی غیر فوجی حیثیت کی خلاف ورزی کو مستقل اور قانونی بنایا جا سکے۔یہ اقدامات   اٹھاتے وقت     بھی ترکی کے ساتھ سیاسی  و مشاورتی   مذاکرات  جاری  رہے  تا ہم حالیہ ایام میں  میچو تاکیس   نے ترکی مخالف اقدامات    کو سیاسی  طور پر  خفیہ رکھنے    میں بھی ہچکچاہٹ  محسوس نہ  کی۔

دوسرا عنصر  ترکی   کے بڑھنے  والے سیاسی و سفارتی اثرِ رسوخ   سے تعلق رکھتا ہے۔   گزشتہ چند برسوں میں مختلف محاذوں پر  بیک وقت   سنگین  سطح کے  چیلنجز کا سامنا  کرنے والے  ترکی  نے ان چیلنجز  کا بھر پور جواب دیا  اور اہم سطح کی کامیابیاں اپنے نام کیں۔  یوکیرین بحران  کی ڈگر پر   اپنی  منفرد   چالوں کی بدولت   انقرہ نے اپنے    حلقے کو توسیع دی۔

اس تناظر میں یونان کے حالیہ اقدام سے نتائج حاصل کرنے کے امکانات، ترکی کے لیے نئے چیلنجز سامنے آنے  کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ اس بنا پر  ایسا لگتا ہے کہ جزائر کی غیر فوجی حیثیت کو ایک فعال اور موثر اقدام کے طور پر برقرار رکھنا دو طرفہ تعلقات کا بنیادی ایجنڈا بن گیا ہے۔

ترکی۔ یونان کشیدگی سے  کسی فوجی جھڑپ یا پھر جنگ چھڑنے کے سناریو  کو پیش کرنا قبل  ازوقت ہو گا۔  تاہم   یہ بات بھی عیاں  ہے کہ یونان  کے اپنے جزائر کو مسلح بنانے سمیت ایجین اور دیگر علاقوں  کیے گئے  غیر قانونی  اقدامات کے  سامنے ترکی  ماضی کی طرح صبر کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔  اس تناظر میں  ایسا لگتا ہے کہ ترکی  کی مذکورہ  غیر قانونی کاروائیوں کے برخلاف  سفارتی، سیاسی و عسکری    کاروائیوں میں تیزی آئیگی اور پیش   رفت کی ڈگر  یونان کے  اب  کے بعد  کے اقدامات  کے مطابق  ایک نیا روپ اختیار کرے گی۔



متعللقہ خبریں