تجزیہ 37

ترکی کی دہشت گرد تنظیم PKK کے خلاف عسکری کاروائیوں میں تیزی

1826562
تجزیہ 37

موسم بہار اور موسم  گرما کی آمد کے ساتھ موسمی  حالات میں بہتری نے  ترکی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ  کو ایک نیا اسراع دیا  ہے۔  عراق کے شمالی علاقہ جات میں   پنجہ ۔ لاک  آپریشن جاری ہے تو  شام  میں بھی  بعض مقامات پر تنظیم کے   اہداف کو  نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ترکی میں اب اپنی آخری سانسیں لینے  والی PKK  دہشت گرد  تنظیم  کی صفائی  کاروائیاں جاری ہیں۔  شہر آعرے میں  PKK کے  11 کارندوں کو بے بس کیا جانا، اب  تنظیم کے اندر  بنیادی ڈھانچے کے زوال پذیر ہونے  کا مظاہرہ کرنے کے اعتبار سے   اہمیت  کا حامل ہے۔

سیتا  خارجہ پالیسی  محقق  جان  اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ  ۔ ۔

حالیہ برسوں میں ترکی کی  PKK  کی دہشت گردی کے خلاف  جنگ  پرعزم   طریقے سے جاری ہے، تو ایسے لگتا ہے کہ نئے سیکورٹی نظریے کے مطابق  ہونےو الی فوجی کارروائیوں کے  اہم نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ خاص طور پر ترکی  کی سرحدوں کے اندر دیہی اور پہاڑی علاقوں میں تنظیم کے بنیادی ڈھانچے کو جو کہ  دہشت گر کارروائیاں کرتا تھا، کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔  اس بات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے کہ  ترکی  کی حدود کے اندر  دہشت گرد کارندوں کی تعداد ایک سو سے کم  ہو گئی ہے۔   حال ہی میں کوہ آعرے میں 11 دہشت گردوں کا ناکارہ بنایا جانا ،  PKK  کے  دہشت گردوں  کی حرکات وسکنات ،  لاجسٹک   مواقعوں اور  اسکی  اہلیت کے اہم سطح پر  شکست سے دو چار ہونے  کا  اشارہ دیتا ہے۔

موسم بہار کی آمد کے ساتھ  موسمی حالات میں بہتری   نے    ترکی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ   میں دوبارہ سے  تیزی لائی ہے۔  عراق میں  پنجہ ۔ لاک  آپریشن  کے ذریعے آواشین۔ باسیان، اور زاپ کی پٹی پر تنظیم کو ہدف بنایا گیا ہے تو اس علاقے میں  ترک مسلح افواج کے اثرِ رسوخ  اور حاکمیت میں کافی  حد اضافہ ہوا ہے۔  عراق  کے دیگر علاقوں  میں بھی  دہشت گرد تنظیم   کے برخلاف مسلح ڈراونز  کاروائیاں جاری ہیں تو  عراقی کردی علاقائی انتظامیہ  سے منسلک  پشمرگے قوتیں  بھی  ترکی کے ساتھ رابطے اور تعاون  کے ماحول میں   PKK کو ایک تنگ  علاقے  تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔  مرکزی حکومت سے منسلک  عراقی  فوج  بھی  سنجار کےپی کے کے سے وابستہ عناصر  پر  دباو  ڈالتے ہوئے    انہیں  علاقے سے نکال باہر کرنے  کی کوششوں میں ہے۔

ترکی  کی  PKK  کے خلاف  جنگ شام میں بھی جاری ہے ۔  فرنٹ لائن پر وائے پی  جی کے عناصر کو ہدف بنایا جا رہا ہے  تو آرمڈ ڈراونز  کی حرکات و سکنات  میں  اہم سطح کا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔  تنظیم کے متعدد سرغنوں کو  ڈراونز کے ذریعے  بے بس کیا جا رہا ہے۔ ماضی قریب میں  ترکی  کی جانب سے  یوکیرین  جنگ  سے پیدا ہونے والے جیو پولیٹک مواقع سے بھی استفادہ کرتے ہوئے   شام میں پی وائے ڈی/ وائے پی جی   دہشت گرد تنظیم کے  برخلاف   ایک وسیع پیمانے کے عسکری آپریشن  شروع کرنے کا احتمال بھی پایا  جاتا ہے۔



متعللقہ خبریں