پاکستان ڈائری - کیا ٹویٹ کرنا منع ہے ؟

نوجوانوں کے ٹویٹ سے پریشان مت ہوں اس سے اپنے کاموں کو درست کریں وہ آپ کی مخالفت میں کچھ نہیں کہہ رہے آپ کی اصلاح کے لئے ٹویٹ کررہے ہیں۔ کبھی کبھی بچوں کی بات سن لینے سے بھی افاقہ ہوتا ہے

1826001
پاکستان ڈائری -  کیا ٹویٹ کرنا منع ہے ؟

پاکستان ڈائری - 19

اس ملک کے اداروں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں نوجوانوں کے گھروں کے باہر اہلکار بھیج کر انکو نوٹس بھیج کر یہ کہا جارہا ہے کہ وہ ریاست مخالف ہیں۔ ایسا کیا کردیا انہوں نے اگر وہ سیاسی یا نظریاتی اختلاف کررہے ہیں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ ریاست کے باغی ہیں۔ شاری بلوچ دہشت گرد کو آپ ریاست سے باغی کہہ سکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر سیاسی نظریات کے پرچار کرنے والوں کو باغی کہنا ایک مضیحکہ خیز بات ہے۔ مجھے یاد ہے تحریک انصاف کے دور میں عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف منظم کمپئن چلائی گئ۔ اس میں کچھ صحافیوں اور مسلم لیگ ن نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا انکے گھر کے باہر تو کوئی ویگو یا کوئی سائبر کرائم کا نوٹس نہیں گیا۔عمران خان نے کسی کو ذاتی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا تو مسلم لیگ جس کو طشتری میں حکومت مل گئ تو انجوائے کریں۔ اس وقت اپنا وقت انتقامی کاروائیوں میں کیوں ضائع کررہے ہیں۔

حکومت کریں عوام کے کام کریں اگلے الیکشن کی تیاری کریں۔ پر نئ حکومت نے آتے ساتھ ہی صحافیوں کو نوٹس سوشل میڈیا صارفین کو نوٹس دئے لوگوں کو ویگو کی سیر کروائی جارہی ہے۔ اس طرح تو فریڈم انڈکس میں پاکستان مزید تنزلی کا شکار ہوجائے گا۔ مثبت تنقید سن لینی چاہیے اس سے انسان اپنی اصلاح کرسکتا ہے۔ تاہم اگر ریاست بات نہیں سننا چاہیے گی اپنی آنکھیں کان بند کرلے گی تو ریاست

جمود کا شکار ہوجائے گی۔

انہیں نئ نسل کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ ان سے ملیں انکی بات کو سمجھیں۔ اتنے جدید دور میں بولنے لکھنے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ نوجوانوں کی آواز سنیں ان کے مسائل کو حل کریں۔ خاص طور پر سیاسی طور پر متحرک نوجوانوں کی اور بلوچ طالب علموں کی بات سنیں۔ جتنا ہم بات کریں گے اتنا ہم مسائل کا حل نکال سکیں گے.

اس وقت سب ٹویٹر پر متحرک ہیں یہاں سے خبر بنتی ہے یہاں پر ذہن سازی ہوتی ہے ٹرینڈز بنتے ہیں۔ یہاں پر بیانات دئے جاتے ہیں یہاں پر پریس ریلیز جاری ہوتی ہیں۔ لوگ اپنی شاعری فوٹوگرافی کام ٹویٹ کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں ٹویٹر کا کچھ الگ استعمال بھی ہورہا ہے یہاں پرکچھ لوگ جو ایک دوسرے کے سیاسی مخالفین ہیں ایک دوسرے کے خلاف ٹرینڈ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی کھل کر کردارکشی کرتے ہیں۔ کبھی اپنے اکاونٹس سے تو کبھی فیک اکاونٹس سے یہ سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ میں اکثر ایک بات کہتی ہوں میں نے آج تک فیک اکاونٹ نہیں بنایا کیونکہ بروز قیامت مجھے ایک ہی اکاونٹ کا حساب دینا پڑے۔ ہم سب دنیا سے چلے جائیں گے لیکن تحاریر تاقیامت یہاں لکھی رہیں گی تو ہم کیوں ایسے الفاظ  کا استعمال کریں یا کام کریں جو کسی کا دل توڑ دیں کسی کو تکلیف دیں۔ بہت سے لوگ اپنے اصل اکاونٹ سے کسی کو کچھ نہیں کہتے لیکن فیک اکاونٹس سے گالیاں دیتے ہیں۔ایسا مت کریں ایک دوسرے پر بہتان تراشی مت کریں ایک دوسرے کی کردار کشی مت کریں۔ اس وقت بڑے بڑے نام اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ایک دوسرے کو چور ڈاکو جادوگر کہا جارہا ہے اسکی وجہ سے عام عوام بھی یہ ہی سب کررہی ہے۔ ایک دوسرے کی مخرب الاخلاق ویڈیوز شئیر کی جارہی ہیں یوں بولنے کی آزادی کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ ہم سب قانون کے تابع ہیں ہم سب کو قومی اداروں شخصیات کا احترام کرنا ہوگا۔ تاہم اداروں اور شخصیات کو بھی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو درگزر کرنا ہوگا۔ صرف سوال کرنے پر قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے نوٹس کہاں کا انصاف ہے۔

اب صورتحال یہ بن رہی ہے کہ ٹویٹ کریں نوٹس ملنے کا انتظار کریں کبھی کبھی تو نوٹس سے بھی پہلے ویگو ڈالہ آجاتا ہے۔ ویگو ڈالہ ایک مخصوص فکر اور طرزسوچ کا عکاس ہے جس میں   سوچنے بولنے لکھنے کی اجازت نہیں صرف وہ کریں جو انکے حسب منشا ہے۔ چلیں کوئی دہشتگردی کررہا ہو اس کے لئے ڈالہ آجائے تو سمجھ بھی آتا ہے لیکن سیاسی یا نظریاتی اختلاف پر زبان بندی اس جدید دور میں کیسے ہوگی۔ 

اس ملک کی آدھی آبادی جوانوں پر مشتمل ہے ان کو زور زبردستی سے تو نہیں روکا جاسکتا ۔ ذہن سازی افکار کو مسلط کرکے نہیں کی جاتی پیغام پیار سے بات چیت سے پھیلائیں۔۔  

نوجوانوں کے ٹویٹ سے پریشان مت ہوں اس سے اپنے کاموں کو درست کریں وہ آپ کی مخالفت میں کچھ نہیں کہہ رہے آپ کی اصلاح کے لئے ٹویٹ کررہے ہیں۔ کبھی کبھی بچوں کی بات سن لینے سے بھی افاقہ ہوتا ہے۔  اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ نوجوان غلطی کررہے ہیں تو انکو پیار سے سمجھائیں انکی ہلکی پھلکی سرزنش کردیں لیکن یوں انکو ہھتکڑیاں لگا کر لے کرجانا انکو ریاست سے متنفرکرسکتاہے۔

صرف بات کرنے پر پابندسلاسل مت کریں ہاں کوئی اخلاق سے گری تصویر لگائے ، ویڈیو کو فیک ایڈیٹ کرے یا کسی کو قتل کی دھمکی دے تو اسکی سزا ملنی چاہیے لیکن قانون کے مطابق وارنٹ کے ساتھ دن کی روشنی میں گرفتار کریں۔ عدالت میں پیش کریں، مقدمہ چلائیں اور پھر سزا دلوائیں۔ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ رات کی تاریکی میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا جائے اور لوگوں کو اغوا کرکے  مبحوس رکھا جائے۔ جس نے جرم کیا ہے دن کی روشنی میں گرفتار کریں اور عدالت میں پیش کریں ۔

کیا آل شریف کے دور میں بات کرنے کی اجازت نہیں ٹویٹ کرنے کی اجازت نہیں بات کرنے کی آزادی مت چھینیں۔

 

 



متعللقہ خبریں