پاکستان ڈائری - ہندوستان میں غیر قانونی ایٹمی مواد کا پھیلاو

پاکستان نے ۱۹۹۸ میں ایٹمی دھماکئے کئے کیونکہ ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کردئے تھے اور خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا تھا

1808803
پاکستان ڈائری - ہندوستان میں غیر قانونی ایٹمی مواد کا پھیلاو

اس وقت دنیا بھر میں نو طاقتیں ہیں جن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں جن میں امریکہ برطانیہ روس فرانس چین ہندوستان پاکستان اسرائیل اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایران بھی یورینیم کی افزودگی کررہا ہے جس کے باعث اس پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں۔ امریکہ سلامتی کونسل بار بار ایران سے یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایران پر متعدد معاشی پابندیاں لگائی گئ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اب تک چھ قراردادیں منظور کی جس کے تحت ایران کو افزدوگی اور ری پراسس سے منع کیا گیا ۔ اس طرح امریکی وزرات خارجہ نے کہا 

 ایرانی جوہری قوت عالمی امن اور سلامتی کو خطرات لاحق کرسکتے ہیں۔

 پاکستان نے ۱۹۹۸ میں ایٹمی دھماکئے کئے کیونکہ ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کردئے تھے اور خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا تھا۔ امریکی حکومت نے بھرپور کوشش کی پاکستان ایٹمی دھماکے نا کرے لیکن پاکستانی حکومت پرعوام کا بہت دباو تھا انہوں سفارتی دباو اور معاشی اقتصادی پاپندیوں کی پرواہ کئے بنا اٹیمی دھماکے کئے۔ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگ گئ پریسلر ترمیم کے تحت امریکہ نے پاکستان کو ایف سولہ طیارے نہیں دئے۔امریکہ نے پاکستان کو مزید اکہترایف سولہ طیارے دینے تھے پاکستان نے کروڑوں کی ادائگی بھی کی تھی لیکن امریکہ نے معاہدے سے انحراف کیا۔

اب پاکستان کو ایٹمی قوت بنے ہوئے ۲۴ سال ہوجائیں گے پاکستان اسلامی ممالک کی پہلی ایٹمی قوت ہے اور عالمی دنیا کی ساتویں قوت ہے۔ اس کے بعد پاکستان نے بہت سی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کیا۔ تاہم خطے میں طاقت کے توازن کے لئے یہ بہت ضروری تھا۔ پاکستان ایک زمہ دار نیوکلیر ریاست ہے۔

ہندوستان کے پاس ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سو ساٹھ وار ہیڈز موجود ہیں اور ہندوستان نے نیوکلئیر نان پرولفٹیریشن ٹریٹی نہیں سائن کی ہوئی۔ اس وقت سب سے زیادہ وار ہیڈز روس کے پاس ہیں اس کے بعد امریکہ چین کا نمبر آتا ہے ۔اسرائیل کے پاس ۹۰ نیوکلئیر ہھتیار ہیں۔ اگر ہم ڈپلوائڈ وار ہیڈز کا جائزہ لیں تو صرف روس امریکہ نے یہ ڈپلوئڈ کئے ہیں۔ عالمی دنیا میں امریکہ اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی ریس چل رہی ہے اور جنوب ایشیا میں یہ ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے روایتی حریف ہیں۔ تاہم پاکستان کسی جنگی جنون میں مبتلا نہیں ہے۔

۲۰۱۹میں جب ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے تھے تو اس وقت اس بات کا خطرہ تھا کہ دونوں کہیں ایٹمی جنگ کی طرف نا چلےجائیں۔ تاہم آپریشن سوئفٹ ری ٹوٹ میں کامیابی کے بعد ہندوستان کو پیچھے ہٹانا پڑا۔ اب براہموس میزائل کا پاکستان کی طرف مس فائر ہوجانا سوالیہ نشان کھڑے کررہا ہے۔ فلپائن جس نے ہندوستان سے میزائل کا معاہدہ کیا تھا اب وہ ان سے جواب طلبی کررہے ہیں شاید یہ معاہدہ کینسل ہوجائے۔

اگر ہندوستان کی نیوکلئیر پاور کا جائزہ لیں تو اس وقت وہاں ۲۳ایٹمی ریکٹر کام کررہے ہیں اور آٹھ بند کردئے گئے ہیں۔تمام ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اٹیمی ٹیکنالوجی کے غیر قانونی پھیلاو کو روکیں گے اور عوام کی سیفٹی کو مدنظررکھیں گے۔ ۱۹۵۲ سے ۲۰۰۹ تک ۹۹ نیوکلئیر حادثے دنیا میں ہوچکے ہیں جس میں اگر ہم ہمسائے ہندوستان کا جائزہ لیں تووہاں  کالاپاکم میں ایٹمی ریکٹرکےکور میں فنی خرابی ہوئی اور اسکو دو سال کے لئے بند کردیا گیا۔ ۱۹۸۹ میں تارا پورا میں ایٹمی ریکٹر سے تابکاری کا اخراج ہوا اور ریکٹر کی مرمت پر ایک سال لگا۔ ۱۹۹۲ میں پھر اس ہی اٰیٹمی ریکٹر سے ریڈیشن کا اخراج ہوا۔

۱۹۹۳اترپردیش میں نارنورا ایٹمی پاور اسٹیشن میں آگ گئ۔ ۱۹۹۵ میں راجھستان میں ریڈیو ایکٹیو ہیلم کا اخراج ہوا۔ ۲۰۰۲ میں ۱۰۰ کلو گرام ریڈیو ایکیٹو سوڈیم پیورفیکشن کیبن میں چلی گئْ۔ تاہم جو دوہزار سولہ میں ہوا وہ بہت خوفناک تھا۔ نیوکلئیر ریکیٹر میں ہیوی واٹر لیک ہوا۔ اس سے گجرات میں ایمرجنسی نافذ کردی گئ تھئ۔ تاہم حادثات کے علاوہ ایک اور چیز ہندوستان کے نیوکلئیر پروگرام پر انگلیاں اٹھا رہی ہے وہ ہے ایٹمی مواد کی سمگلنگ۔ یہ جرم ہندوستان میں زور شور سے ہورہا ہے۔

 حالیہ کچھ سالوں میں جس طرح سے ہندوستان کی بلیک مارکیٹ میں یورینیم کی خرید وفروخت ہے اس سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ہندوستان کے ایٹمی پروگرام کا حفاظتی معیار کیا ہے وہاں کھلے عام یورینیم کیوں بک رہی ہے اور سمگلرز کے ہتھے کیوں چڑھ رہی ہے۔ہندوستان میں یورینیم کے وسیع زخایر موجود ہیں یہ اس ہی طرح جرائم پیشہ افراد کے ہتھے چڑھتی رہی تو پوری دنیا کو آگ کی لپیٹ میں لےسکتی ہے۔ ہندوستان کے جن علاقوں میں یورینیم کے ذخائر موجود ہیں ان میں جھارکنڈ راجھستان چھتیسھ گڑھ تلنگا اندرا پردیش ، کرناٹک اور میگھالیا شامل ہیں۔

نیوکلئیر سیکورٹی انڈکس میں ۱۹۹۸ سے پاکستان ۷ سکور اوپر گیا۔ پاکستان کی نیوکلئیر سیکورٹی میں بہتری آئی۔ ۲۰۲۰ میں این ٹی آئی نے پاکستان کو سب سے بہترین نیوکلئیر سیکورٹی اصلاحات کرنے والا ملک قرار دیا۔ جبکے ہندوستان بیسویں درجے پر ہے۔ ہندوستان کو اس وقت فوری طور پر ایٹمی حادثات سے بچاو اور یورینیم کے غیر قانونی پھیلاو کی روک تھام پر توجہ دینا ہوگا۔ آئے روز ہندوستان سے یورینیم اور دیگر ایٹمی مواد کی سمگلنگ کی خبریں آتی ہیں۔

چودہ فروری ۲۰۲۲ نیپال کی پولیس نے دو اعشاریہ آٹھ کلو گرام یورینیم اپنے قبضے میں لی ایک ہندوستانی شہری اس کو اسمگل کرکے نیپال لایا تھا۔ اسکو پینتس کروڑ پر کے جی میں فروخت ہونا تھا۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے کہ ہندوستان سے ہندوستانی ایٹمی مواد کو غیر قانونی طریقے سے دنیا میں پھیلا رہے ہیں ۔ دیگر ممالک اس جرم کی وجہ سے متاثر ہورہے ہیں۔ یہ ایک سنگین جرم ہے۔ عالمی دنیا کو اسکا نوٹس لینا ہوگا اگر یہ پھیلاو سمگلنگ نہیں روکی گئ تو ہم کرہ ارض کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہندوستان ایک غیر زمہ دار نیوکلئیر ریاست ہے اور وہاں ایٹمی پروگرام میں استعمال ہونے والی دھات یورینیم جرائم پیشہ اور سمگلرز کے ہاتھ لگی ہوئی ہے۔

اکتوبر ۲۰۲۱ کو ہندوستان  میں جھارکنڈ میں چھ اعشاریہ چار کے جی یورینم برآمد ہوئی اور سات لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ مئ ۲۰۲۱ میں مہاراشٹر میں ۷ کلو گرام یورینیم برآمد ہوئی۔اسکی قیمت دو اعشاریہ نو ملین تھی۔اس وقت ہندوستان میں منظم ایٹمی میٹریل اسگلنگ ریکٹ کام کررہا ہے۔ اس طرح سے عالمی امن خطرے میں آسکتا ہے اس بلیک مارکیٹ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ ۲۰۱۸ میں کولکتہ سے سگلمرز سے ون کے جی یورینیم برآمد ہوئی۔

۲۰۱۶میں بھی مشرقی انڈیا کی ریسرچ فیکلٹی سے ریڈیو ایکٹیو مواد چوری ہوا جو نو کے جی تھا۔ ۲۰۰۹ میں تین افراد کے پاس سے ۵ کے جی یورینیم برآمد ہوئی۔ ۲۰۰۱ میں ۲۰۰ گرام یورینیم دو افراد سے برآمد ہوئی۔ ہندوستان ایک طرف سیزن بناتا ہے کہ پاکستان ایک غیر زمہ دار نیوکلئیر ریاست ہے۔ درحقیقت اس کے اپنے ملک میں یورینیم دھات ریوڑیوں کی طرح بک رہی ہے۔ ۱۹۹۸ میں تامل ناڈو سے ۹ کے جی یورینیم ملی۔۱۹۹۴ میں سمگلرز سے ڈھائی کلو یورینیم ملی۔ یہ تو ریکارڈ پر آگئ لیکن جو اٹیمی مواد ہندوستان کی بلیک مارکیٹ میں موجود ہے وہ کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے کوئی زی روح اس حوالے سے سوچ بھی نہیں سکتا کہ کتنی تباہی لاتا ہے۔ اسکا تخمینہ لگانا مشکل ہے کہ بلیک مارکیٹ میں موجود لوگوں کے پاس یورینیم کے علاوہ کیا کیا کچھ موجود ہے جو وہ عالمی مارکیٹ میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کو بیچ سکتے ہیں۔ پاکستان تمام تر اقدامات کے باوجود ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود ہے دوسری طرف عالمی دنیا ہندوستان کے اس بلیک ریکٹ کی طرف سے غافل ہے۔ غیر قانونی جوہری پھیلاو کو روکنا ہوگا اس ضمن ایف اے ٹی ایف اور آئی اے ای اے کو اقدامات کرنا ہونگے۔ اگر یہ سمگلنگ کا مال دہشتگردوں کے ہاتھ لگ گیا تو کروڑوں لوگوں کی زندگیاں داو پر لگ جائیں گی۔



متعللقہ خبریں