نئی جہت بہتر ماحول13

میٹا ورس ٹیکنالوجی کا دور

1737661
نئی جہت بہتر ماحول13

  آج  جس کے بارے میں بات کرنا چاہیں گے،وہ  میٹا ورس ٹیکنالوجی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ مقبول موضوع ہے  ہم، سوشل میڈیا، ورچوئل رئیلٹی اور فزیکل حقیقت کو ملا کر ایک متبادل کائنات تخلیق کرنا چاہتے  ہیں۔

 

اصطلاح "میٹاورس" پہلی بار سائنس فکشن مصنف نیل سٹیفنسن کے 1992 کے سائبر پنک ناول سنو کریش میں نمودار ہوئی۔

پچھلی دہائیوں میں، یہ تصور ناولوں، سائنس فائی ٹی وی سیریز اور فلموں، یا گیمنگ انڈسٹری کا حصہ رہا ہے۔

اس حصے تک ہر چیز تفریحی دنیا کا حصہ تھی۔

تاہم، فیس بک کا یہ اعلان کہ اس نے واقعی میٹاورس بنانا شروع کر دیا ہے یا کارپوریٹ میٹا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی مائیکروسافٹ کی کوشش نے کاروبار کا رنگ بدلنا شروع کر دیا۔

تو میٹاورس کا واقعی کیا مطلب ہے، یہ کیا وعدہ کرتا ہے، اور یہ مستقبل کو کیسے بدلے گا؟

آئیے میٹاورس کائنات سے جوابات دیتے ہیں۔

 

میٹاورس کو ایک متوازی کائنات کے طور پر بیان کرنا ممکن ہے جہاں تمام ڈیجیٹل دنیاوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے، یعنی وہ سب کچھ جو آپ انٹرنیٹ پر کر سکتے ہیں ایک ہی علاقے میں جمع ہے۔

فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے میٹاورس کے تصور کی تعریف کی ہے کہ "ایک ایسا انٹرنیٹ جس میں آپ صرف دیکھنے کے بجائے خود موجود ہیں"۔

اس کائنات کی تصویر کشی کرنے والے سب سے مشہور عوامل میں سے ایک کتاب ریڈی پلیئر ون ہے، جسے 2018 میں بڑی اسکرین کے لیے ڈھالا گیا تھا۔

اس کتاب میں، لوگ وقت گزار سکتے ہیں، بات چیت کر سکتے ہیں اور ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا میں جس طرح چاہتے ہیں دیکھ سکتے ہیں جیسا کہ وہ حقیقی دنیا میں کرتے ہیں۔

دوسری زندگی میں، سٹائل کی ایک اور مثال، لوگ اپنا اوتار بنا سکتے ہیں، دوسرے لوگوں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں، اور وہ کام کر سکتے ہیں جو وہ حقیقی زندگی میں کرتے ہیں۔

آج، آپ دوسرے ملک میں رہنے والے اپنے قریبی دوست کے ساتھ ویڈیو کال کر سکتے ہیں۔

 

میٹاورس کائنات اوتاروں کے ذریعے اس آمنے سامنے ملاقات کو ممکن بناتی ہے، نہ صرف بات کرنا بلکہ فلموں میں جانا یا اپنے دوست کے ساتھ خریداری کرنا بھی  شامل ہو سکتا ہے

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ہم میٹاورس کائنات بنانے کے لیے درکار تکنیکی آلات کے ساتھ تقریباً تیار ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کے وسیع ہونے اور صحیح معنوں میں ایک متوازی کائنات میں تبدیل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مصنوعی حقیقت اور بڑھی ہوئی حقیقت کے میدان میں آگے بڑھیں۔

توقع کی جاتی ہے کہ اس ڈیجیٹل کائنات میں تخلیق کردہ اوتاروں کے ساتھ کام کرنا، سفر کرنا، گیمز کھیلنا، کنسرٹس میں جانا، کریپٹو کرنسیز کے ساتھ خریداری کرنا جیسی کئی روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینا ممکن ہوگا۔

تاہم، دوپہر کے کھانے کے وقفوں کے لیے حقیقی دنیا کا وقفہ لینا ضروری ہے۔

یہ صرف ٹیکنالوجی میں ترقی نہیں ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ  میٹاورس کائنات بہت قریب ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا اپنے گھروں تک محدود تھی، گھر سے کام کرنا اور وبا کے دوران اپنے زیادہ تر  امور گھر سے کرنا بھی جزوی طور پر میٹاورس کائنات کو پہلے سے تجربہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔

ایک حقیقی  میتاورس کا راستہ مشکل ہے. سب سے پہلےیہ ضروری ہے کہ  دنیا بھر میں نیٹ ورک اور کمپیوٹنگ کی صلاحیت پیدا کی جائے جو بیک وقت لاکھوں صارفین کو سنبھال سکے۔

موجودہ ٹیکنالوجی اس وقت اس بوجھ کو اٹھانے سے بہت دور ہے۔

میٹاورس، ٹیکنالوجی کی متوازی کائنات کے لیے بنیاد رکھی جانا شروع ہو گئی ہے۔

اگر ہماری موجودہ کائنات جو کہ عالمی موسمیاتی بحران سے نبرد آزما ہے، تباہی کی اس تمام کوشش کے باوجود زندہ رہ سکتی ہے، تو دوسری کائنات جو ہم اس پر تعمیر کریں گے وہ حیرتوں کے ساتھ ہماری زندگی میں داخل ہوگی۔


ٹیگز: #میٹاورس

متعللقہ خبریں