تجزیہ 06

اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے اور اس کے نئے عالمی نظام میں غیر مؤثر ہونے پر اہم جائزہ

1716945
تجزیہ 06

سرد جنگ کے بعد  اپنے  وجود کے ساتھ اقوام متحدہ نے عالمی ادارتی نظام  کے اندر   کہیں زیادہ مرکزی مقام بنایا تھا تو  بین الاقوامی نظام  میں  تبدیلیاں آنے  کے ساتھ ساتھ   اس نے اپنے نظام میں تجدید نہیں لائی۔

سیتا خارجہ پالیسی  تحقیق دان  پروفیسر ڈاکٹر  مراد یشل طاش کا اس موضوع پر  تجزیہ ۔۔۔

واحد قطبی  نظام  کا موجب بننے والے   امریکی مرکز  کے حامل  عالمی نظام  کے اندر اقوام متحدہ  نے ایک سٹریٹیجک ادارہ  ہونے سے ہٹ کر  بتدریج  ایک حربہ ’’آلہ کار ‘‘ کی ماہیت اختیار کر لی ہے۔ انسانی مداخلت کے معاملے میں یہ پیش پیش ہے تو خطہ بلقان میں  سرب جیو پالیسی حرص پر مبنی کاروائیوں اور افریقہ میں نسلی صفائی  پالیسیوں کے برخلاف  غیر مؤثر رہا ہے۔  8 ہزار بوسنیائی مسلمانوں   کے ہالینڈ کے زیر کنٹرول   اقوام متحدہ کے علاقے میں نسل  کشی کا سامنا کرنے نے  اقوام متحدہ کے نظام  کے کسی بحران سے دو چار ہونے کا مظاہرہ کیا تھا۔ کوسووا میں  اقوام متحدہ  کے بجائے نیٹو   کے مداخلت کرتے ہوئے   کہیں زیادہ وسیع پیمانے کی نسل کشی    کا سد باب  کیے جانے نے اقوام متحدہ  کے ویٹو نظام کے  ناکارہ ہونے  کا مظاہرہ کیا تھا۔

سرد جنگ کے بعد  رونما ہونے والے عالمی سطح کے جیو پولیٹکل، سیاسی، سلامتی، اقتصادی اور سماجی   نازک حالات  کے موجب بننے والے  عالمی انتظامیہ بحران  نے اقوام متحدہ کے اندر موجود خامیوں کو کہیں زیادہ   واضح  طور پر منظر عام پر لانا شروع کر دیا۔ جبکہ آج اقوام متحدہ   اس سے قبل کبھی مشاہدہ نہ ہونے  کی حد تک  گہرائی کے حامل بحران  سے دو چار ہے۔ اقوام متحدہ کے قیام کا فلسفے   سے متعلق  براہ راست  چیلنج  کرنے  والا یہ بحران    اس  کی سرکاری حیثیت   پر  کئی ایک سوالات کو بھی  جنم دے رہا ہے۔

مذکورہ بحران کی  بنیادوں میں اقوام متحدہ کی درجنوں  جیو پولیٹکل  تبدیلیوں کے باوجود   اس کے اندر پانچ رکنی   ڈھانچے کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے  کی حقیقت  پنہاں ہے۔  سر د جنگ کے  خاتمے کے بعد  عالمی نظام کو   وسیع پیمانے کی تبدیلیاں اور تغیرات کا سامنا   ہے اور  یہ تبدیلیاں  محض 5 ممالک کے اپنی رائے کو تھوپنے   کے عمل کو جاری رکھ سکنے کو  ناممکن بنا رہا ہے۔ کثیرالاقطبی  و مرکزی  بین الاقوامی نظام  اپنے مستقبل کو 5 ممالک کے فیصلوں   کے ساتھ داؤ پر لگانے   کے خواہاں نہ ہونے والی   ترقی کی جانب گامزن طاقتوں  کی جانب سے   ایک نئی شکل میں   ڈھالا جا رہا ہے۔  یہ صورتحال  اقوام متحدہ  کے موجودہ جیو پولیٹکل   توازن طاقت  کی عکاسی کرنے سے کوسوں دور کا مظہر ہے۔ دوسری جانب  اقوام ایک گہرے  تمثیلی بحران سے  دو چار ہے، یہ  ثقافتی طور پر  کثیرالاثقافتی  حیثیت سے دور ہے اور مغربی   ذہنیت کے حاوی ہونے والی ایک ذہنیت کا مالک ہے۔  اس کے اثرِ رسوخ کا معاملہ   اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ  اس کے وجود کو جاری رہ سکنے  کو ناممکن بنا رہا ہے۔  اس وقت ہم سب کے سامنے ایک ایسا اقوام متحدہ ہے  جو بحرانوںمیں مزید طول    آنے اور ان کے حل کو  تنگ نظری پر مبنی  بعض ممالک کے مفادات   کو بالائے طاق رکھنے والے  ایک ادارے کا تاثر دیتا ہے۔  اس کے ڈھانچے میں عدم شفافیت  در پیش ہونے والے  مسائل کو مزید  طول دلا رہی ہے۔ ادارے کا فیصلہ میکانزم ،   کیے گئے فیصلوں کی بحرانوں کی فطرت سے عدم ہم آہنگی اقوام متحدہ کو ایک شفاف  تنظیم  ہونے سے   مزید دور لیجا رہی ہے۔  اس قسم کا ڈھانچہ عالمی نظام میں استحکام کے قیام کے مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ  مملکتوں کے اپنے مسائل کا خود  حل تلاش کرنے  والے میکانزم کی نشاط  کرنے کی مجبوری کو بھی جنم دے رہا ہے۔

عالمی نظام خاصکر کورونا وبا کے بعد  در پیش گہرے  اثرات سرد جنگ   کے بعد  سے ابتک عالمی سیاسی   میدان میں وسیع پیمانے کی تبدیلیاں آنے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔  یہ تبدیلی  محض طاقت کے بٹوارے  کی از سر نو تشکیل  کا مفہوم ہی نہیں رکھتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ  طاقت کے مرکز کے مغرب سے مشرق کی جانب سرکنے کا ماحول بھی پیدا کر سکتی ہے۔  طاقت کی تقسیم  اور جیو پولیٹکل  نظام میں بنیادی  تبدیلیاں آئیں گی تا ہم ماضی کے ادوار سے ہٹ کر  قدرے  کسی مخلوط نظام کے  ظہور پذیر ہونے  والے نئے دور میں  اقوام متحدہ  میں اصلاحات   ہر چیز  سے زیادہ اہم اورفی الفور  عملی جامہ پہنائے  جانے کا تقاضا پیش کرتی ہیں۔

عالمی  طاقت کی تقسیم    کو بالائے طاق نہ  رکھنے والے اور عالمی مسائل کا مؤثر اور منصفانہ    حل  تلاش کرنے سے قاصر اقوام متحدہ   کی جائز حیثیت بحران کو مزید طول دے گی  یہ بحران  موجودہ عالمی قانونی نظام کے اندر  متبادل   معمولات  کے جنم پانے کا موجب بن سکتا ہے اور   کسی متوازی قانونی   ماحول  کے تشکیل کا منبع ثابت ہو  سکتا ہے۔ اسوقت  متبادل علاقائی  ڈھانچے کے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے محور پر   لیے گئے فیصلے اقوام متحدہ   سے تعلق رکھنے والے معمولات  کی  جگہ  علاقائی  معمولات    کو بالائے طاق رکھنے  کا مظاہرہ کرتے ہیں۔  دوسری جانب    اقوام سے بالاتر کسی ڈھانچے    کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جگہ   متبادل  علاقائی تنظیموں کا قیام اقوام متحدہ   کے مکمل طور پر  ختم ہونے یا پھر غیر مؤثر بننے کا موجب  بن سکتا ہے۔

 



متعللقہ خبریں