تجزیہ 85

ایرانی نو منتخب صدر کی منصب کو سنبھالنے کے بعد ممکنہ خارجہ پالیسیوں پر ایک جائزہ

1690720
تجزیہ 85

ایران کے نوم منتخب صدر ابراہیم  رئیسی  کی صدارت کی گزشتہ ہفتے  ملک کے روحانی پیشوا علی خامنہ ای کی جانب سے  منظوری دے دی گئی اور رئیسی نے سرکاری  تقریب کے ساتھ  اپنا عہدہ سنبھال لیا۔ بعد ازاں اسلامی شوری اسمبلی میں  منعقدہ ایک تقریب  کے ساتھ حلف اٹھاتے ہوئے  سرکاری طور پر  اپنے  منصب کو  شروع کر دیا۔ ایران کے اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو فروغ دینے  اور مختلف شعبوں میں انہیں آگے بڑھانے  پر مبنی پیغامات  انتخابی مہم کےدور سے ہی رئیسی نے زیر لب لائے تھے۔ منتخب ہونے کے بعد  کی پہلی  پریس کانفرس میں بھی رئیسی نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات  کو معمول پر لانے  کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔ معمول پر لانے کا عمل کچھ مدت سے عراق کی ثالثی میں جاری ہے  اس کے ساتھ ساتھ حالیہ ایام میں  شام و عرا ق میں ایران سے قربت رکھنے والے  شیعہ ملیشیا گروہوں  میں  بعض کاروائیاں توجہ طلب ہیں۔ ڈیرہ میں ایرانی حمایت یافتہ  گروہوں کے حملے اور زیر محاصرہ پالمیرا شہر میں پاسدارانِ انقلاب   کی جانب سے سرنگیں کھودنے  کی طرح کے واقعات  ایران  کے  ابراہیم رئیسی کے دور میں اثرِ رسوخ میں مزید  تقویت آنے کا مظاہرہ  کر رہے ہیں۔  روس  کی جانب سے شامی فضائیہ کے نظام کو جدید بنانے سے متعلق  پیش رفت بھی بلا شبہہ حالیہ برسوں میں اسرائیل  کے حملوں سے وسیع پیمانے کا نقصان پہنچنے والی  شام میں ایرانی نواز قوتوں کے  لیے بار آور ثابت ہو گی۔

سیتا سیکیورٹی تحقیقاتی امور کے ڈائریکٹر مصنف  پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔

عراق میں  بھی اسی سے ملتی جلتی فوجی حرکات و سکنات کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔امریکہ نے عراق سے اپنی تمام تر فوجوں کا انخلا نہیں کیا تو حشدی شعبی  گروہوں کے گزشتہ ایام میں  بیانات اور کاروائیوں کو امریکی  فوجیوں  ایک حصے کے  انخلا کے بعد پیدا ہونے والے خلا  کو پورا کرنے کے لیے ابھی سے  بعض اقدامات کرنے کے طور پر بیان کیا جا سکتا  ہے۔ دوسری جانب  عراق میں قریب آنے والے پارلیمانی انتخابات  سے قبل  بھی ایرانی حمایت یافتہ  گروہوں  کی بھی حرکات و سکنات میں تیزی آنے کی توقع کی جاتی ہے۔

رئیسی کے اپنے منصب کو سنبھالنا،  بحیرہ عمان اور خلیج بصرہ میں  رونما ہونے والے  کشیدگی کے ماحول کو شہہ دینے والے عوامل  بیک  وقت سامنے آئے ہیں۔  اولین طور پر 29 جولائی کو بحیرہ عمان میں اسرائیل  کے  مرکر سٹریٹ نامی ایک پیڑول ٹینکر    کو ڈراؤن حملے کا سامنا کرنا  پڑا  تو اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ نے  اس حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی۔  اسرائیل اور امریکی محاذ  سے جاری کردہ  بیانات  نے ایران کے خلاف  سخت گیر طاقت کا استعمال کرنے کو ایجنڈے میں لایا۔  برطانیہ اور ایران کے   مابین تعلقات میں تناؤ جوہری مذاکرات کے مستقبل کے  اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کی  خواہش نہ رکھنے والے ایرانی سفارتکار برطانیہ اور جوہری معاہدے کے دیگر فریق ممالک کی ثالثی میں ویانا میں  ہونے والے مذاکرات میں شرکت کر رہے  تھے۔

 بعد کے ایام میں متحدہ عرب امارات   کے فوجیرہ بندرگاہ سے کچھ دوری پر پاناما پرچم بردار اسفالٹ پرنسس نامی  ایک دوسرے بحری جہاز پر حملہ اور  بحری جہاز کو قبضے میں لیتے ہوئے  ایرانی   پانیوں میں  دھکیلنے کے دعوے ایجنڈے میں آئے۔ اگرچہ حملہ آور اس بحری جہاز پر قبضہ نہ  کرسکے اور جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔  اس واقع  کی ذمہ داری  بھی ایران پر تھوپنے  والے الزامات  کے بعد  تہران نےمذکورہ دونوں واقعات    کے حوالے سے اس پر لگائے گئے الزامات کی تردید کر دی۔ ایرانی انتظامیہ نے اس طرز کی کاروائیوں اور الزامات  کے پسِ پردہ ایران پر حملہ کرنے  کا ارادہ کار فرما ہونے کا دعوی کیا ہے اور اسرائیل و امریکہ کو خبردار کیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ قدامت پسند صدر ابراہیم رئیسی،  اپنےسے قبل کے دور سے ہٹ کر ایران  کے خارجہ پالیسی  مرکز کو امریکہ اور یورپی یونین ممالک کے ساتھ مذاکرات  سے لیکر  ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے  کی جانب آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ   کے ساتھ میدان میں بڑھنے والی کشیدگی  کو مذکورہ  خارجہ پالیسی مرکز   میں تبدیلی کے منبع کے طور پر تصور کرنا ایک غلط فعل نہیں ہوگا۔ بائڈن کے دو ر میں ٹرمپ کے دور سے ہٹ کر کسی ایران سیاست کا منظر عام پر نہ آنا  بھی  اس سلسلے کو  تقویت دینے والے عناصر میں سر فہرست ہے۔ رئیسی نے  اپنے بیانات میں جوہری معاہدے کے برخلاف نہ ہونے کا اظہار کیا ہے تو بھی سلسلہ معاہدہ اور طریقہ کار کے معاملے میں روحانی اور ان  کی ٹیم    سے مختلف مقام پر ہونے کا واضح طور پر مشاہدہ ہوتا ہے۔ کسی سمجھوتے تک  رسائی  کے احتمال کو قدرے  کمزور بنانے والی یہ صورتحال ،  خطے میں کشیدگی کی فضا کے جاری رہنے کی صورت میں کسی   مصالتی زمین کو  ہموار کرنے کے عمل کو تقریباً  ناممکن    بنا رہی ہے۔ اگر رئیسی کی جانب سے متعین کردہ وزیر خارجہ  امیر حسین  عبداللہ خیان   جیسے  پاسداران ِ انقلاب سے قربت رکھنے والے کوئی سفارتکار ہوئے   تو یہ کہنا ممکن ہے کہ آئندہ کے دور میں ایران،  روس اور چین  کے مزید قریب آنے والے  ایک دور  کی جانب سرکے گا۔



متعللقہ خبریں