اناطولیہ کی ابتدائی تہذیب23

تبلیغ مسیحیت کا اہم مرکز"کاپادوکیا"

1684933
اناطولیہ کی ابتدائی تہذیب23

خود کو اس دنیا میں نہیں  توکسی طلسماتی یا فرضی دنیا میں محسوس کیا ہے کبھی؟کیا کبھی  جو آپ نے دیکھا اس سے آپ کی سانسیں رکیں ہیں؟کیا آپ کبھی وقت اور مقام کے مفروضے سے خود کو باہر  رکھ سکے ہیں؟
کاپادوکیا کی سیر کرتے وقت یہ تمام خیالات ذہن میں آتے ہیں۔وہاں کی خم دار اور تراشی پہاڑیوں،دریاوں کے باعث  وادیوں میں بنی سرنگون کسی دوسرے سیارے سے مشابہہ دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں انسان خود کو کسی سحر میں مبتلا پاتا ہے۔ یہاں آپ اپنی روز مرہ کی زندگی کی مشکلات اور تگ و دو کو چھوڑ کران غاروں میں بیتی زندگی اور ان سے وابستہ تہذیبوں کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔

 کاپادوکیا کی تاریخ چھ کروڑ سال پرانی بتائی جاتی ہے جہاں کی پہاڑیوں کی موجودہ شکل پرانے آتش فشاںوں کے لاوے سے وجود میں آئی تھی۔ بارشوں اور ہواوں نے ان پہاڑیوں کو تبدیل شدہ شکلوں میں مزید جدت دی ۔ان چٹانوں نے دور اول کے انسانوں کو سخت موسمی حالات اور وحشی جانوروں سے محفوظ رکھا حتی ان کی غذائی ضروریات بھی  یہاں بہنے والے دریا قزل ارماق سے پوری ہوئیں۔انسان نے یہاں معمولی آلات سے چٹانوں کو  شکل دینا شروع کی اس طرح سے ابتدائی انسانوں  سے لے کرہر دور کے آثار یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں۔
کاپادوکیا میں آباد  پہلی تہذیب ک آسوری قوم کی تھی،آسور قوم نے اناطولیہ میں پہلی تجارتی منڈی قائم کی جن کا ثبوت یہاں سے ملنے والے کتبے ہیں جن پر کیلوں کی مدد سےانہوں نے متن لکھے ہیں۔اس کے بعد حطیطیوں کا دور شروع ہوتا ہے جنہوں نے کاپادوکیا کو حملوں سے بچانے کےلیے یہاں زیر زمین راستے بنائے۔حملوں کے وقت پر گھر کے نیچے خفیہ راستے اور انہیں بندکرنے کےلیے بڑے بڑے پتھر اور ہوا داری کا نظام حطیطیوں نے متعارف کروایا۔اس کے بعد آگ کو مقدس ماننے والے پارسی یہاں آباد ہوئے۔ آتش فشاوں  کی موجودگی کے حامل اس علاقے میں اعتقادات ایکدوسرے میں ضم دکھائی دیتے رہے۔پارسی قوم نے اس علاقےکو گھوڑوں کی سرزمین کے طور پر کاتپاتوکا کہنا شروع کر دیا ۔

کاپادوکیا آج  ضلع نو شہر،نیعدے،قیصری اور کر شہر کے درمیان واقع ہے مگر پرانے وقتوں میں اس کا حدود رقبہ کافی وسیع ہوا کرتا تھا جن میں توروس کوہسار،ملاتیا اور مشرقی بحیرہ اسود تک کا علاقہ موجود تھا۔
کاپادوکیا  دیگر لحاظ سے تجارتی راستوں کے درمیان بھی اہمیت کا حامل تھا۔مشرق کا رخ کرنے والے یہاں سے گزرتے یا قیام کرتے تھے۔رومی دور میں اپنی اہمیت کی وجہ سے اسے سلطنت کا ایک صوبہ بنایا گیا۔کثیر الہی  مذاہب کی میزبانی میں پیش پیش یہ علاقہ مظالم سے متاثرہ القدس کے مسیحوں کی آماج گاہ بنا،قدرتی معجزات  کی حامل وادیوں،تراشی چٹانوں ،غاروں اور زیر زمین گزرگاہوں نے ان مسیحوں کو پناہ دی۔ان ابتدائی مسیحیوں کی یہاں آمد کا مقصد اپنی دینی تبلیغ نہیں بلکہ پناہ کا حاصل کرنا تھا۔کاپادوکیا نے ان افراد کی جان بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔آہستہ آہستہ مسیحیوں کے روحانی پیشواوں نے اس علاقے کواپنی ترجیح بنایا جہاں انہوں بعد کے زمانے میں  ان چٹانوں میں اپنےگرجا گھر بنائے جو کہ ان کی حفاظت کا بھی ذریعہ بنے،البتہ لکھائی پڑھائی کی شرح میں کمی تھی صرف چند لوگ ہی لاطینی زبان سےواقف تھےاس وجہ سے انہوں نے مصوری کو فروغ دینا شروع کیا۔عیسی کی زندگی اور انجیل کے واقعات  کو انہوں نے تصویری شکل دیتے ہوئے کلیساوں کی دیواروں پر بنانا شروع کیا  جس میں اس دور کا تہذیبی،دینی اور ثقافتی رنگ بھی جھلکتا تھا۔
کاپادوکیامیں ایک سو  سے زائد گرجے اور کلیسا ملتے ہیں جن کی اکثریت  یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔یہ گرجے گوریمے  کےکھلی ہوا کے عجائب خانے میں زیر تحفظ ہیں ان میں جو گرجا گھر مقبول ہی وہ تاریک گرجا،سانپوں والا گرجا اور المالی گرجا گھر ہیں لیکنان کے درمیان  تاریک گرجے کی حیثیت منفرد ہے کیونکہ اس میں کم روشنی کے استعمال سے وہاں موجود تصاویر کو کم نقصان پہنچا ہے اور جو ہزاروں سالوں سے اپنی اصلی حالت محفوظ رکھے ہوئے ہیں ۔

سترہویں صدی کے اوائل میں شاہی نظام کے حکم پر آثار قدیمہ کی تلاش میں مقرر  کردہ فرانسیسی سیاح پال لوکاس کاپادوکیا آمد پر حیرت زدہ ہوجاتا ہے۔اس کو  یہاں کی تراشی ہوئی چٹانیں،مکان،دیواروں پر بنی تصاویر او گرجا گھر بہت پسند آئے۔اس نے اپنے سیاحت نامے میں لکھا ہے کہ قزل ارماق کے کنارے اس پرانی تہذیبکو دیکھ کر میں مہبوت ہو گیا ہوں جو کہ اس سے پہلے  میں نے کبھی نہیں  دیکھیں جن کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔اس کے یہ تمام باتیں شاہی دربار کو ناگوار گزرتی ہیں اور وہ انہیں فرضی قرار دیتا ہے۔ چودہواںشاہ لوئساس بات پر استنبول میں اپنا ایک سفیر مقرر کرتا ہے جوکہ کاپادوکیا کی سیر پر حیران رہ جاتا ہے اور ان پال کی تمام بیان کردہ باتوں کی تصدیق کرتا ہے۔اس طرح سے پال لوکاس پہلا یورپی شخص ہے جس نے کاپادوکیا کو یورپ سے متعارف کروایا ۔

اناطولیہ تہذیبوں ،ثقافتوں اور مذاہب کا گہوارہ رہا ہے جہاں کے ہر علاقے میں انسانوں کومختلف اور حیرت انگیز کہانیاں سننےکو ملتی ہیں۔کاپادوکیا بھی اس علاقے کے عین وسط میں اہم گزر گاہوں اور مختلف ثقافتوں،اعتقادات اور فلسفے کاامتزاج رہا۔عیسائیت کو یہاں فروغ ملااور ایک نئے مذہب نے اناطولیہ کی سرزمین پرکردار ادا کیا۔پرانے دور کے آثار ،گرجا گھر،ہزاروں کمرے اور لا تعداد سرنگیں قوت اعتقاد،انسانی یک جہتی اور مزاحمت کی ہزاروں سالہ داستانیں سناتی نظر آتی ہیں جنہیں لکھنے والے کاپادوکیا کے انہی غاروں اور سرنگوں میں بسے تھے۔
کاپادوکیا  کس فلم کے سیٹ یا اس دنیا کے بجائے کسی اور ماورائی سیارے کا حصہ لگتا ہےجو کہ  قدرت کا ایک شاہکار ہے جہاں ہزاروں سال پرانی تہذیب کے آثار جھلکتے ہیں۔آپ یہاں ہوائی غباروں یا گھڑ سواری کرتے ہوئے اس علاقے کی سیرکر سکتے ہیں۔



متعللقہ خبریں