اناطولیہ کی ابتدائی تہذیب21

"حکیم لقمان کی شخصیت"

1677921
اناطولیہ کی ابتدائی تہذیب21

تمام جاندار پیدا ہوتے ہیں نشونما پاتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ تو کیا انسان بھی ان میں شامل ہیں؟ کیا لافانیت نام کی کوئی چیز ہے؟ بعض سائنس دانوں نے اس مفروضے  پر تحقیق کی ہے،ماہرین حیاتیات کی تحقیق ہے کہ جب انہوں نے  چوہوں  کی غذائی ضروریات کو آدھا کر تے ہوئے  مضر اشیا کو ان سے دور رکھا تو معلوم ہوا کہ  ان کی عمر میں چالیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لیکن ہم  کسی محفوظ تجربہ گاہ میں نہیں  رہتے البتہ مناسب غذا انسانی عمر کوبڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ماہرین تاحال طویل العمری پر اپنی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طب اور ٹیکنالوجی میں ترقی سے ان کا خیال ہے کہ جلد ہی  سرطان اور دیگر موذی امراض  کا خاتمہ ہو سکےگا جس سے انسانی عمر میں اضافہ ممکن ہوگا۔
 بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ  انسان دراصل لافانی تخلیق ہے جس کے ڈی ای اے کو اگرسلجھا لیا جائے تو نئی ٹیکنالوجی کی بدولت یہ ممکن ہو سکتا ہے۔اس خیال کے دفاع میں بھی کافی اہم شخصیات کا عمل دخل رہا ہے جن میں مشہور  ماہری فزکس اسٹیفن ہاکنگز بھی شامل ہیں۔فی الوقت اس قسم کی فکریات ممکن نظر نہیں آتی لیکین انہیں ماننے والے بھی کم نہیں۔
اچھا تو   خیال جدید دنیا کا ہے  یاپھر پرانے وقتوں میں بھی یہ پایا جاتا تھا؟

 


بھارتی،چینی،جاپانی،شمالی یورپی،یونانی اور ترک میتھولوجی میں لافانیت کا موضوع ہمیشہ موجود رہا ہے۔ ان تہذیبوں  نے کبھی سمندروں کی تہوں  سے نکالے گئے بعض مشروبات  کو کبھی جڑی بوٹیوں کو،کبھی پانی کو تو کبھی جانوروں کے ذریعے لافانیت کا علاج تلاش کرنا چاہا۔ہزاروں سالہ اس افسانے  کا راز انسان نے جانا مگر کسی نہ کسی شکل میں اسے  کھو دیا ۔
سمیر قوم کے افسانوی  کردار گلگامش نے   اک جڑی بوٹی کو لافانیت  کی اکسیر قرار دیا  تو یونانی سے اسکلی پیوس میں میدوساکے خون کواس کی دلیل بتایا ۔مقدونیہ کے سکندر اعظم نے آب حیات کی تلاش  کی تو حکیم لقمان نے جڑی بوٹیوں کو لافانیت کا سبب بتایا ۔

 

 


گلگامش کے افسانے کی رو سے، لافانیت  کا افسانہ اناطولیہ  کے حکیم لقمان کے مفروضے سے ملتا جلتا نظر آتا ہے۔حکیم لقمان   کا وجود بھی تھا یا وہ بھی ایک افسانہ رہا اس کا بھی ہمیں معلوم نہیں۔اناطولیہ کے علاقے میں ہزاروں سالوں کے دوران متعدد فلسفیوں،سائنس سانوں اورحکیموں کو پیدا کیا جن میں سے اکثریت کے نام ان کے آبائی علاقوں  اور تاریخ سے متعلق شواہد ملتے ہیں مگر حکیم لقمان   کے بارے میں کسی تحریری مواد کی کمی ہے۔بعض  کے خیال میں حکیم لقمان  دراصل ابتدائی تہذیب کے نامور حکیم الکمیون   تھے لیکن  یہ دعوی حقیقت سے دور رہا ہے۔ بعض تاریخی ماہرین طب کا کہنا  تھا کہ حکیم لقمان کی زندگی اسکلی  پیون،ہیپوکراتوس  اور گالین  سے ملتی ہے حتی اناطولیہ سے باہر یعنی بلقان،ایران،آذربائیجان ،ترکمانستان اور اوزبکستان تک کے وسیع جغرافیے میں  بھی حکیم لقمان کا نام ملتا ہے مثال کے طو رپرترک دنیا کے مشہور ماہر طب ابن سینا کو اپنے دور کا حکیم لقمان کہا جاتا تھا۔
 

ان ادوار میں ایک بہترین حکیم  یا دوا ساز بننے کےلیے نباتاتی علم کو سیکھنے اور انہیں نسل در نسل پہنچانے کا طریقہ اپنایا جاتا تھا۔دور حاضر میں موجود  علم حکمت اور فیتو تھراپی کی بنیاد یہی علوم ہیں۔شفا بخش جڑی بوٹیوں  کو ابالتے،پکاتے،پیستے،خشک کرتے ہوئے  اور ان سے تیل کشید  کرتے ہوئے ادویات بنائی جاتی ہیں،یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ان جڑی بوٹیوں کو کن امراض میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس طریقے کو  حکیم لقمان سے بہتر کون جان سکتا تھا۔
 حکیم لقمان کا ماننا تھا کہ تمام درخت،پھول اور جڑی بوٹیاں ان کے علم میں تھیں۔ جڑی بوٹیاں اپنے راز حکیم لقمان کو دے چکے تھے جو کہ   شفا یابی کے لیے ان کا استعمال کرتے تھے۔حکیم لقمان ضلع ادانہ  اور چوکورووا کے علاقے کو اہمیت دیتے تھے۔روایت کے مطابق، حکیم لقمان نے علاقے کا چپہ چپہ چھاننے کے بعد  علم حاصل کیا۔حکیم لقمان  ہر قسم کی جڑی بوٹیوں کو علاقے میں اگانے کا فیصلہ کرتےہوئے میسیس نامی شہر میں  آباد ہوئے۔انہوں نےیہاں پر امراض کا علاج کرنے کا آغاز کیا۔حکیم لقمان نے ایک بار پھر رخت سفر باندھا اور چوکوروا کی  زر خیز وادیوں مین ایک درخت کےسائے تلے سستانے کے دورن یہ آواز سنی کہ طویل عرصے سے جو بوٹی تلاش کر رہے تھے وہ لافانیت کا علاج میں ہوں۔اسے سننے کے بعد وہ اس بوٹی کے پاس آئے اور اس سے دوا بنانا سیکھا۔اسے انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا اور بوٹی کو اپنے ساتھ لے کر سفرپر روانہ ہو گئے۔حکیم لقمان جب میسیسکےپل پر سےگزر رہے تھے تو تیز ہوا کے جھونکے سے یہ جڑی بوٹی دیرا میں گر جاتی ہے اور لافانیت کا علاج پانی کی نذر ہو جاتا ہے۔
یہ دریا جیہان ہے جس پر قائم میسیس نامی پل کو لافانی پل بھی کہاجاتا ہے۔سات ہزار سالہ تاریخ کا حامل میسیس کا تاریخی شہر تجارتی گزر گاہ  پر موجود تھا جسکی وجہ سے اسے عہد رومی کے مشہور شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ شہر حطیطیوں ،آسوری،رومی،بازنطینی،سلجوکی اورعثمانی تہذیب کا بھی محور رہا ہے ۔

 دور حاضر میں دوا سازی کے خام مواد  کی اکثرمقدار میں جڑی بوٹیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔مصنوعی یا کیمیا وی  ادویات کی ایجاد  کے باوجود دنیا میں بیشتر انسان تاحال نباتاتی ادویات کا انتخاب کرتے ہیں۔قدیم ادوار  سے اب تک جاری اس طریقہ علاج کو اناطولیہ میں صدیوں سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔مولونا رومی کی کتب ،یونس ایمرے کی روایتوں اورترک لوک گیتوں میں بھی حکیم لقمان کا ذکر ملتا ہے۔ ہو سکتا ہے حکیم لقمان  حققیت کا  یا کسی افسانےکاحصہ ہوں لیکن صدیوں  سے انسان   اس سے شفا یابی کا وسیلہ طلب کرتے ہیں۔

 



متعللقہ خبریں