تجزیہ 80

امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی اور اس کے خطے پر ممکنہ اثرات

1672678
تجزیہ 80

متحدہ امریکہ کے انتخابات  کے بعد بائڈن  کے برسرِ اقتدار پر آنے کے ساتھ کہیں زیادہ مثبت  فریم پر پیش رفت حاصل کرنے کی توقع ہونے والے امریکہ۔ ایران تعلقات، جوہری مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں  پیدا  ہونے   کے ساتھ  خاصکر عراق۔شام فرنٹ لائن پر کسی جھڑپوں کی ماہیت اختیار کرنے لگے  ہیں۔ایران  پراکسی عناصر کی وساطت سے امریکی  فوجی اڈوں کو ہدف بنا رہا ہے تو امریکہ  براہ راست ایران سے وابستہ قوتوں  پر بمباری کر رہا ہے۔ دونوں  ممالک کے مابین کم سطح کے تصادم  کے شام کو بھی اپنے اندر کھینچتے ہوئے بلند  سطح تک پہنچنے کے احتمال   کو قوی بنا رہے ہیں۔

سیتا خارجہ پالیسی امور کے تحقیق دان جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع  پر جائزہ ۔۔۔

ٹرمپ کے دور میں امریکہ کی  ایران  پالیسیوں میں قدم بہ قدم سختی  آتی  رہی تو آخر میں یہ ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کے طور پر بیان کسی تحریک کی ماہیت اختیار کر گئی۔  امریکہ نے جوہری معاہدے سے دستبردار ہوتے ہوئے  ایران  پر پابندیاں  عائد کرنی شروع کر دیں تو  اس ملک کو کسی بھی صورت میں  پیٹرول برآمد کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔  شام ۔ عراق ۔ یمن  میں ایران  مخالف عناصر سے تعاون کیا گیا تو اسرائیل اور خلیجی ممالک کے ساتھ تشکیل  دیے گئے  اتحاد کی بدولت ایران  پر دباؤ میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہا ۔ القدس فورس  کے کمانڈر قاسم سلیمانی  کے قتل اور ایران کی جوابی کاروائیوں  نے ان دونوں ممالک کو  جنگ کے دہانے پر لا کھڑا  کیا۔

تا ہم بائڈن کے امریکی صدر  کا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی ایران مخالف یہ اتحاد ٹوٹ گیا اور  امریکہ کی ایران سے متعلق پالیسیوں میں بھی نرمی آئی۔ بائڈن نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو بحال کیا اور دونوں  ممالک کے مابین  ظاہری طور پر مثبت فضا قائم ہوئی۔امریکہ کے یمن جنگ میں تعاون سے  پیچھے ہٹنے نے  اس ماحول کو تقویت دی۔

تا ہم فریقین کا عدم رعایتی مؤقف  اور جوہری مذاکرات  میں  رکاوٹیں پیدا ہونے  کے بعد دونوں ممالک کے مابین  کشیدگی  میں دوبارہ سے اضافہ ہونے لگا۔  اسرائیل اور خلیجی ممالک کی  امریکی سرپرستی میں لابی  سرگرمیوں کے اس مؤقف کو اپنانے میں مؤثر ہونے کا کہنا بھی ممکن  ہے۔ بالا آخر خاصکر عراق میں طرفین کے مابین طاقت  کی تقسیم کی جنگ  چھڑنے کے وقت  ایرانی  اثر رسوخ کے ماتحت کاروائیاں کرنے والے شیعہ ملیشیا  فورسسز حشدی شعبی  نے   ملک میں امریکی فوجی اڈوں اور لاجسٹک قافلوں کو نشانہ بنا ناشروع کر دیا ۔  امریکی فوجیوں کے متعین ہونے والے عربیل فوجی ہوائی اڈے، عین الا سد فوجی ا ڈے  کو اکثر و بیشتر  میزائلوں اور  مسلح ڈراؤنز سے ہدف بنایا گیا۔  امریکہ کے علاقے میں موجود فوجی دستے فضائی  حملے   کرتے ہوئے شعیہ ملیشیاؤں پر جوابی کاروائیاں کی جستجو میں ہیں۔  دونوں ممالک اور  پراکسی عناصر کے مابین   وقفے وقفے سے  پیش آنے والی یہ جھڑپیں توقع کے مطابق شام تک   پھیل گئیں۔ ایرانی نژاد عسکریت پسندوں  نے دیر وزور کے مشرق میں الا عمر تیل  کےکنوئیں  کے علاقے میں موجود امریکی فوجی اڈے پر ڈراؤنز کے ذریعے حملہ کیا۔  جس پر امریکی دستوں نے الا بو کمال علاقے میں شیعہ ملیشیاؤں کے ہیڈ کوارٹر  پر بمباری کی۔

اب اصل مسئلہ طرفین کے دو طرفہ طور پر  ان جھڑپوں کو  مزید طول دینے کو ترجیح  دینے یا نہ دینے پر مبنی ہے۔ فریقین  جوہری مذاکرات میں اپنے اپنے ہاتھ کو مضبوط بنانے  کے زیر مقصد اقدامات اٹھا رہے ہیں تو  یہ میدان  میں  اپنی اپنی فوجی طاقت کا   بھر پور طریقے سے مظاہرہ کرنے   پر تُلے ہوئے ہیں۔  جس کا خمیازہ  عراق  و شام  بھگت رہے ہیں۔ امریکی قوتوں کے مشرق وسطی سے   فوجی انخلا  کرنے والے  دور کو ایران کے اعتبار سے  حوصلہ کن اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تا ہم اسرائیل اور خلیجی ممالک  کے توازن قائم کرنے کے  کردار کو بھی  فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔



متعللقہ خبریں