تجزیہ 75

ترک مسلح ڈراؤنزٹی بی ٹو کی دیا بھر میں مانگ پر ایک جائزہ

1651912
تجزیہ 75

ترکی اور پولینڈ کے درمیان 24 عدد بائراکتار  ٹی بی ٹو مسلح ڈراؤنز  کی فروخت سے متعلق طے پانے والے معاہدے  نے ایک بار پھر عالمی نگاہوں  کو ترکی  پر مرکوز کرایا ہے ۔  اس سے پیشتر قطر، لیبیا، یوکیرین اور آذربائیجان کو   فروخت کیے جانے والے مسلح ڈراؤنز ٹی بی ٹو اس معاہدے کی بدولت پہلی بار نیٹو اور یورپی یونین کے ایک رکن ملک کو برآمد کیے جائینگے۔  ترک  ڈراؤنز اور مسلح  ڈراؤنز میں مختلف ممالک  کی بتدریج بڑھنے والی دلچسپی  اور پولینڈ کے اس پلیٹ فارم کو ترجیح دینے کے عقب میں بعض اسباب پائے جاتے ہیں۔

سیتا سیکورٹی تحقیقات  امور  کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مذکورہ موضوع پر جائزہ ۔۔۔۔

اولین طور  پر ترک دفاعی صنعتی  سازو سامان اور آلات کو جنگوں کے دوران مؤثر طریقے سے استعمال اور کااحسن کامیابی نے  عالمی منڈی میں بلند رقابت  طاقت بننے  والے اسلح نظام میں بعض تبدیلیاں پیدا کیں۔  اس ضمن میں ترک ڈراؤنز اور مسلح ڈراؤنز  پلیٹ فارمز پیش پیش ہیں۔ شام، لیبیا اور حال ہی میں ہپاڑی قاراباغ   میں تصادم  کےد وران بائراکتار ٹی بی ٹو سسٹمز  کی قابلِ ذکر اور اعلی کارکردگی نے  بین الاقوامی  سطح پر دلچسپی کو بام ِ عروج تک پہنچایا ہے۔  اعلی قابلیت کے مالک ہونے کا تصور پائے جانے والے روسی فضائی دفاعی نظام  کا بائراکتار ٹی بی ٹو کے سامنے ناکارہ بننا مسلح افواج کے  نظریات    کے دائرہ عمل بحث  و مباحثہ کا نیا ماحول منظر عام پر آنے کا موجب بنا  ہے۔

ترک  ڈراؤنز  پلیٹ فارم کے تجربات  محض تحقیقات، نگرانی اور خفیہ معلومات  کو جمع کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ بیک وقت  فضائی میزائل دفاعی نظاموں کو بے بس کرنے  یا پھر دشمن بکتر بند گاڑیوں کو ناکارہ بنانے کی طرح کے   فرائض  میں کامیاب ہو سکنے کا  بھی مظاہرہ کرتے ہیں۔

ترک دفاعی صنعتی مصنوعات کو عالمی دفاعی منڈی میں رقابت   دلانے والی ایک دوسری نمایاں خصوصیت  اس کی مالیت کے مقابلے میں  مؤثر  حل  پیش کرنا ہے۔ نیٹو کے رکن ممالک کے مابین  امریکی ساخت کے ڈراؤنز کو  وسیع پیمانے کی برتری حاصل ہونے  کے سا تھ ساتھ  اس پلیٹ فارمز امریکہ کے اپنے استعمال کے لیے بھی مہنگے نظام موجود ہونے کا سب کو علم  ہے۔

دوسری جانب امریکی قوانین کے مطابق اس طرز کے پلیٹ فارموں کی برآمدات کے    لیے اہم سطح کی نگرانی اور رکاوٹوں کی موجودگی  بھی  خرید کے خواہاں ممالک کو اس چیز سے باز رکھنے کا موجب بن رہا ہے۔  اس کے بر خلاف ترک ڈراؤنز سسٹمز   نسبتاً کم نرخوں پر لچکدار مواقع فراہم کرتے ہیں۔

ترکی اور پولینڈ کے مابین طے پانے والا معاہدہ اسلح کی فروخت سے ہٹ کر بعض جیوپولیٹیکل نتائج  کو بھی جنم دینے کی استعداد کا حامل ہے۔ اولین طور پر  پولینڈ کا نیٹو کا رکن ہونا،  اس معاہدے کی بدولت  ترکی۔ نیٹو  تعلقات کے فروغ  سمیت نیٹو کے ڈھانچے میں باہمی تعاون  کی روح کو مزید تقویت دینے   والے اثرات  میں اضافہ کر رہا ہے۔

دوسری جانب پولینڈ  کا یوکیرین کی طرح سب سے بڑے خطرے کے طور پر روس کا ہونا بھی اس فروخت  کو بامعنی بنانے والے ایک دیگر سبب کو تشکیل دیتا ہے۔ ٹی بی ٹو  کی یوکیرین کے بعد پولینڈ کو فروخت  روسی پالیسیوں کے بر خلاف ایک ٹھوس اقدام کی خصوصیت کی حامل ہے۔ اس معنی میں روس  کے ہمسایہ ملک  ترکی  اور اتحادی ممالک کے مابین تعاون اور استعداد کو فروغ دیا جانا  روس کی حرکات و سکنات کے  دائرہ عمل کے دراصل زیادہ وسیع نہ ہونے کا اشارہ دیتا ہے۔  روس اس معاملے میں ترکی پر نکتہ چینی کر رہا  ہے تو بھی انقرہ کا اس  نکتہ چینی پر  کان دھرنا قابل توجہ ایک دوسرا معاملہ ہے۔



متعللقہ خبریں