لب آب سے آئی تہذیب

دریائے دجلہ و فرات کی تاریخ

1584710
لب آب سے آئی تہذیب

ہزار سالوں سے دو دریا اپنے دوش پر بہہ رہےہیں  جو  کہ علاقے کی تاریخ اور زرخیزی کی علامت بھی ہیں۔ان دونوں دریاوں کے کنارے تاریخ بھر مختلف ریاستیں آباد اور تباہ ہوئیں کیونکہ انسان  ہر دور میں ان زرخیز علاقوں میں آباد ہونے کا خواب دیکھتا رہا ۔یہ دونوں دریا مختلف تہذیبوں کا مرکز رہے جن میں الما،آسور،بابیل،سمیر،آکات اور دیگر اقوام قابل ذکر رہیں۔مصر میں واقع دریائے نیل بھی مختلف تہذیبوں کا گہوارا رہا مگر آج ہم جن دو دریاوں کا ذکر کر رہے ہیں وہ دجلہ اور فرات ہیں۔
 آسمانی  مذاہب کی میزبانی میں پیش پیش   علاقے میں یہ دونوں دریا بہتے  ہیں،یہ دونوں دریا دینی، سیاسی،تجارتی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل ہیں جس کے اطراف کا زر خیز علاقہ اناطولیہ کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی تاریخ کا رخ تبدیل کرنے کا بھی سبب بنا ہے۔

 تاریخ بھر    آبی کنارے انسانی زندگی  کے دوام   کا وسیلہ بنے ہیں،حقیقی زندگی کے علاقہ افسانوی کہانیوں میں بھی  ان کا کردار اہم رہا ہے،بلا شبہ تمام تہذیبوں  سے منسوب افسانوں میں پانی کا ذکر ملتا ہے سمیر قوم میں آبی دیوی اینکی نے دریائے دجلہ و فرات کو تخلیق کیا جس کے بعد  علاقے کی زرخیزی کے لیے اس نے بارش  بھی برسائی۔ان روایات کا ذکر ہمیں ان پرانے کتبوں سے ملتا ہے جن کو دریائے دجلہ و فرات کی تہوں سے بازیاب کیا گیا تھا۔سمیر تہذیب بھی انہیں دریاوں کےکنارے آبا ہوئی تھی، دجلہ وادی  میں آباد آسور قوم کے صدر مقام  بھی یہی تھے جو کہ زرعی شعبے میں ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
ماضی سے مستقبل تک یہ علاقہ ایک دوسرے میں  گھل مل گیا ہے ، دریائے فرات و دجلہ کے  کنارے قدیم انسانوں  نے  چٹانوں کو تراش کر وہاں  غار بنائے اوران  کی دیواروں پر بعض شبیہات کندہ کیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنی تہذیب سے روشناس کروا سکیں۔ دریائے دجلہ و فرات کےاطراف کا علاقہ بالخصوص ضلع آدیامان کے قریب کی جانےوا لی سحرموز کی کھدائی اس تہذیب کا ثبوت ہے،ضلعشانلی عرفا میں جلالی سنگ تراشی کا عہد   جہاں نوالی جوری کا دور دورہ تھا،اس تہذیب کے ذریعے انسانوں کی طرف سے پالتو جانوروں کی افزائش اور دیکھ بھال  کرنے کا  اشارہ ملتا ہے۔ اسی جگہ گوبیکلی تیپے بھی واقع ہے  جس نے اس وقت سائنسی دنیا کو دم بخود کر رکھا ہے۔یہ وہ  جگہ ہے جس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ میزوپوتامیا کوئی معمولی علاقہ نہیں بلکہ  تاریخی اعتبار سے ایک وسیع و عریض  علاقہ ہے جہاں آج بھی کھدائی کا کام جاری ہے تاکہ دنیا ان قدیم تہذیبوں سے مزید آشنا  ہوسکے۔

 دریائے فرات  میزوپوتامیا  اور قرون وسطی  میں بہتا ہے جس کی طوالت ایک ہزار کلومیٹر  ہے،اس دریا کو آسور قوم نے پوراتو  ،عربوں نے  فرات اور مغربی زبانوں میں اسے یوفریت کہا جاتا رہا ہے۔ یہ دریا ہزار ہا سالوں سے زراعت  و تجارت کا مرکز رہا،انیسویں صدی تک اس دریا پر کسی قسم کا پل نہیں تعمیر کیا گیا   جہاں سے یہ بہتے ہوئے خلیج بصرہ میں جا گرتا ہے۔
دریائے فرات  کے بارے میں خیال ہےکہ اس کے پانی سے علاقے کی زرعی اراضی  کو تقریبا تین ہزار سال قبل سے سیریاب کیا جاتا رہا ہے ۔یہ کس کا خیال تھا یہ تو معلوم نہیں البتہ بعض ذرائع   کا کہنا ہے کہ  آسور ی شہنشاہ نمرود نے اسے حقیقت کا روپ دینے کےلیے  لاکھوں غلاموں سے کام لیا تھا۔

 دجلہ  انتہائی تیز رفتاری سے بہنے والا دریا ہے جو کہ فرات کے بعد اناطولیہ کا دوسرا طویل ترین دریا مانا جاتا ہے۔ فارسی میں اسے تغلات اور یونانی زبان میں اسے تیگریس جبکہ مذہبی کتب میں اس کا نام دجلہ رہا ہے۔  ایسا مانا جاتا ہے کہ حضرت دانیال پر وحی نا زل ہونےکا بھی یہ دریا وسیلہ بناجسے دنیا کے تین مقدس ترین دریاوں میں سے ایک قبول کیا جاتا ہے۔ دریائے دجلہ  سات ہزار سال سے بہہ رہا ہے جس کے کنارے تیس سے زائد تہذیبیں پروان چڑھیں۔ دیار بکر کا  تاریخی قلعہ اسی  دریا  کی قدیم موجودگی کا بھی ہمیں پتہ دیتا ہے جسے یونیسکیو کے ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے۔
صدیوں سے دجلہ و فرات کا پانی زرخیزی کی علامت رہا ہے،ان دریاوں نے متعدد جنگوں کا بھی احوال دیکھا،دور حاضر میں یہ دونوں دریا عراق،شام اور ترکی کے بعض شہروں کو سیریاب کرتے ہیں جن پر اب بیراج بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ دریائے فرات پر سات اور دجلہ پر اس وقت چھ بیراج قائم ہیں۔ دریائے فرات پر قائم اتاترک بیراج اس وقت ترکی اور یورپ کا سے سے بڑا بیراج ہے۔ یہ دونوں دریا اپنے محل وقوع  اور بیراجوں کے اعتبار سے مشرق وسطی  کی سیاسی  صورتحال اور عالمی تعلقات کے مرکز نگاہ بنے ہوئےہیں۔


دریائے دجلہ و فرات، تہذیبوں کی آباد کاری وتباہ کاری،متعدد جنگوں ، لا تعداد عشقیہ داستانوں اور افسانوں کے حامل دنیا کے مقدس ترین دریاوں مین شمار کیے جاتے رہے ہیں۔اناطولیہ میں ان دریاوں کے کنارے کی جانے والی کھدائیوں سے بازیافت کیے گئے آثار اناطولیہ کے ساتھ ساتھ پوری انسانی تاریخ کے لیے بھی باعث غور و فکر بنے  ہوئے ہیں۔
دریائے فرات  اپنے بہتے  راستے میں آنے والی تمام مشکلات کو عبور کرنے میں کامیاب رہا جبکہ دجلہ ایک بل کھاتا  دریا  کا نام ہے،اسی وجہ سے لڑکوں کو فرات کا اور دجلہ لڑکیوں کا نام رکھا جاتا ہے۔

 نیولیتیک دور  سے  یہ دونوں دریاوں کاپانی انسانی تاریخ  میں کثیر الثقافتی رنگ گھولتا رہا ہے۔ یہ دریا  علاقے کی دینی،سیاسی ،تجارتی اور اسٹریٹیجک اہمیت  کے حامل رہے ہیں،ماضی میں  شاہراہ ریشم اور دور حاضر میں بچھائی جانے والی تیل اور گیس کی پائپ لائنیں انہی دریاوں کے قریب سے گزرتی ہیں۔
 آج ہم نے آپ کو ترکی میں بہنے والے دو اہم دریاوں دجلہ و فرات کے بارے میں بتایا  جنکا شمار دنیاکے تین اہم مقدس دریاوں میں سے دو کے طور پر ہوتا ہے اور جو تاریخ انسانی سے آج تک  عالمی سیاست اور تاریخ  کے مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں
۔

 



متعللقہ خبریں