تجزیہ 59

ترکی کی شمالی عراق میں پنجہ شاہین ٹو فوجی کاروائی اور اس کے اہداف

1582455
تجزیہ 59

ترکی کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ملکی سطح پر اور سرحد پار ہمسایہ ممالک میں  جاری ہے۔ ایک جانب سے ترکی  میں بچے کچھے   PKK کے  دہشت گردوں کو ہدف بنایا جارہا ہے تو  دوسری جانب  اس تنظیم کو عراق اور شام  کے اندر دباؤ تلے لانے کی تگ و دو کی جا رہی ہے۔ قومی وزارت ِ دفاع   نے تازہ اعلان کے ساتھ شمالی عراق میں پنجہ ۔ شاہین ٹو کاروائی  شروع  کرنے کی اطلاع دی ہے۔  ترک  فضائیہ نے فضا سے علاقے کو ہدف بنایا ہے تو  ہیلی کاپٹروں کے ذریعے  تربیت یافتہ ترک کمانڈوز کو پہاڑی چوٹیوں پر اتارتے ہوئے  تنظیم کو اچانک کاری ضرب لگائی ہے۔

سیتا خارجہ پالیسی تحقیق دان جان اجون کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔

ترکی  نے حالیہ چند برسوں سے Pkk  دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں سخت گیر مؤقف اپنا رکھا ہے۔ تنظیم کو ملکی سطح پر اور سر حد پار  فوجی کاروائیوں کے ذریعے ہر طریقے سے دباؤ میں  لیا گیا ہے تو  اس کو کسی محفوظ مقام پر ڈھیرے جمانے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔  اس اعتبار سے خاصکر عراق میں  پر عزم  کاروائیوں کے دوام  کی خصوصیت کی حامل پنجہ۔شاہین   فوجی کاروائیوں کے ذریعے دہشت گرد تنظیم کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔  اس تنظیم  کی علاقے میں حاکمیت کو چھین لینے کے ساتھ ساتھ بیک وقت  با حفاظت  ان مقامات پر ان کے کمان۔ کنڑول اور تربیتی کیمپو ں کو ایک ایک کر کے ختم کیا جا رہا ہے۔

ترک مسلح  افواج  اس سے قبل کی جاؤ۔ واپس آجاؤ کی فوجی حکمت ِ عملی  سے ہٹ کر  صفائی کردہ علاقوں میں قیام کرتے ہوئے یہاں پر نتظیم مخالف مورچے قائم کر رہی ہیں۔  اس طریقے سے تنظیم کے کارندوں کو دوبارہ سے  وہاں پر ڈھیرے جمانے کے احتمال کو مکمل طور پر ختم کر  رہی ہے۔

موسمی حالات کے مساعد ہونے کے آغاز کے ساتھ ہی متعلقہ آپریشنز کے تسلسل کے طور پر وزارت دفاع نے  پنجہ شاہین ٹو آپریشن کو غارا علاقے میں شروع کیا ہے۔ ترک لڑاکا طیارے علاقے پر شدید بمباری کر رہے ہیں  تو  ہیلی کاپٹروں  کے ذریعے  وہاں پر اترنے والے تر کمانڈو  دہشت گردوں کو سانس  لینے نہیں دے رہے اور ان کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کاروائی میں اتاک  اٹاکنگ ہیلی کاپٹرز اور ڈراؤنز کو فعال طریقے سے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔  علاقے میں  اس سے پیشتر پشمرگے قوتوں نے پیش قدمی کرتے  ہوئے بعض  وضع کردہ مقامات پر مورچے سنبھال لیے تھے،  تنظیم اور پشمرگوں کے درمیان گاہے بگاہے  جھڑپیں بھی رونما ہوئی تھیں۔  اب دہشت گرد تنظیم کے لیے سٹریٹیجک اہمیت کے حامل پہاڑی علاقے غارا کی صفائی تک اس کاروائی کے جاری رہنے  کا احتمال قوی ہے۔ اگر ہم پشمرگوں کی  اس سے قبل کی حرکات و سکنات کو مدِ نظر رکھیں تو یہ کہنا ممکن ہے کہ انقرہ۔ عربیل کے درمیان  PKK کے  برخلاف روابط جاری ہیں جن سے ترک مسلح افواج کی علاقے میں کاروائیوں میں مدد ملی ہے۔  ایک جانب سے  انقرہ۔ عربیل اور بغداد کے مابین معاہدے کے دائرہ عمل میں سنجار میں کاروائیاں کی جا رہی ہیں تو ترک مسلح افواج آئندہ کے ایام میں غارا   کے علاوہ کے علاقوں میں تنظیم کے قبضے میں  ہونے والے دیگر  مقامات پر  بھی عسکری کاروائیاں جاری رہیں گی  اور آخر کار قندیل کی جانب  تنظیم کو دھکیلتے ہوئے اس مکمل طور پر تنہا چھوڑنے کے بعد  اس علاقے میں دہشت گرد تنظیم کا نام و نشان مٹانے کی کاروائیاں زور پکڑ سکتی ہیں۔



متعللقہ خبریں