لب آب سے آئی تہذیب24

عثمانی ادوار میں حماموں کا مقام

1580228
لب آب سے آئی تہذیب24

کیا پورے دن کی تھکن   گرم پانی کے علاوہ اور کس چیز سے دور کی جا سکتی ہے؟ ہمارے غسل خانوں میں  آج انتہائی آسانی سے گرم پانی کی سہولت میسر ہے جہاں نہانے سے  تھکاوٹ دور کی جا سکتی ہے۔ پرانے وقتوں سے اب تک انسان نے غسل کے لیے  مختلف  تعمیرات کا سہارا لیا۔دنیا مین جو سب سے قدیم حمام ہےاس کی تاریخی ساڑھے  چار ہزار سال  پرانی ہے جو پاکستان میں واقع ہے۔

اناطولیہ میں حمام کی روایت رومی حماموں سے شروع ہوئی البتہ ان سے  قبل بھی حمام موجود تھے جن کی مثال ہمیں  سمیر تہذیب کے حماموں سے ملتی ہے۔ چار ہزار سالہ  کتبوں سے یہ معلوم ہوتاہے کہ  اس دور میں نہانے کےلیے  لوگ راکھ اور تلوں کے تیل سے صابن بنایا کرتے تھے۔حطیطیوں نے پانی سے اپنے تعلق کو منفرد رنگ  دیا اس کے بعد  لیدیا، لیکیا، اسور،فریگیا،اورارت اور ہیلینک تہذیبوں میں غسل و صفائی کا خاص خیال رکھا  جاتا رہا۔
 آثار قدیمہ کی کھدائیوں کے  نتیجے میں مختلف حماموں کے کھنڈرات  اس دورکے انسانوں کی  پانی  کو دی گئی اہمیت کا ثبوت ہے ۔
حماموں کا ذکر ہوتے ہی ساونا اور فنش  حمام  کا نام ذہن میں آتا ہے لیکن باور رہے کہ ترک حمام   اپنی ثقافت کے آئینہ دار رہے ہیں۔ یہ حمام صرف غسل و صفائی کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی طرز معماری کی وجہ سے بھی مشہور رہے ۔آج ہم آپ کو   عالمی ورثے میں  شامل ترک حمام کے بارے میں بتائیں گے۔

 اناطولیہ میں غسل و صفائی کا طریقہ پرانا ضرور ہے مگر ترکوں نے اسے ایک ثقافت کا درجہ دیا۔ اسلام سے قبل  ترکوں کا  یہ ماننا تھا کہ پانی   طاقت و برکت کا ذریعہ ہے اور جسکی تخلیق کرہ ارض پر  سب سے پہلے کی گئی یہی وجہ ہےکہ  پانی کو مقدس مانا جاتا رہا ۔ اسلام کے بعد  قرآن کریم کی ایک آیت اس حقیقت کی غماز ہے جس میں کہا گیا ہے کہ"  ہر جاندار شہ ہم نے پانی سے پیدا کی ہے"جو کہ ان کی پرانی روایت سے بھی میل کھاتی ہے۔اس کے علاوہ پانی کا استعمال  وضو یا غسل کے طو رر خدائے بزر گو برترکے حضور جانےسے پہلے بھی کیاجاتا ہے۔
 وسطی دور میں یورپ میں وبائی امراض کا  دور دورہ رہا جہاں پانی کو اس کو موجب قرار دیتے ہوئے مذہبی راہبوں نے اس کے استعمال پر پابندی لگا دی ۔  اس کے بر عکس عثمانیوں کے عظیم الشان ادوار میں پانی سے متعلقہ تعمیرات بالخصوص حماموں کو اہمیت دی گئی اور شاہانہ آثار   قائم کیے گئے۔ اس دور میں  اناطولیہ آنے والے مغربی سیاح،غیر ملکی سفیران حماموں  کی فن معماری اور ان سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے دم بخودو رہ جاتے تھے اور ترکوں  کی غسل و صفائی کی اہمیت کو بتاتےہوئےان کی زبانیں نہیں رکتی تھیں۔
عثمانیوں کی  اس آبی فن معماری کے  حامل حماموں کی اکثریت استنبول اور برصا میں موجد ہیں، فتح استنبول سے قبل دولت عثمانیہ کا صدر مقام برصا ہوا کرتا تھا  لہذاعثمانی حماموں  کی  روایت کے لحاظ سے اس شہر کی اہمیت اہم ہے۔اس شہر میں پینتیس حمام موجود ہیں، اولو داع کے دامن میں بسا یہ شہر  اپنے معدنی پانی اور دیگر شفا بخش پانی کو ذخائر سے بھی مشہور ہے اسی وجہ سے یہاں ان حماموں کی تعمیر خاص طور سے کی گئی۔رومی اور بازنطینی ادوار سے  باقی بچے ان حماموں کو  ترک حمانوں میں تبدیل کرتےہوئے انہیں ایک مخصوص رنگ دیا گیاہے۔

 ترکوں نے جب  اناطولیہ کو اپنا وطن  بنایا تو اسکے بعد سلجوکیوں نے اپنے آبائی علاقوں میں حمام بنوائے مگر ان   کو اصل اہمیت عثمانیوں نے دی ۔ رومی حمام  اپنی وسعت کے اعتبار سے وسیع  ہوتے تھے جن کے مقابلے میں ترک حمام  تعمیری لحاظ سے انتہائی سادہ اور نفیس ہوا کرتے تھے جہاں  پردے کا خاص انتظام بھی موجود ہوا کرتا تھا۔ اسی وجہ سے ترک حماموں میں کسی قسمے دریچے یا کھڑکیاں نہیں ملتیں تاکہ بے پردگی نہ ہوسکےصرف تبدیلی لباس کے کمروں میں   کھڑکیاں ہوتی تھی تاکہ روشنی کا گزر ہوسکے۔
ان حماموں کو زیر زمین  نکلنے والے معدنیات سے بھرپور گرم پانی سےسیریاب کیاجاتا تھا  جن کے عین وسط میں سنگ مرمر سے بنی ایک جگہ پرلیٹ کر جسم   کی  مالش کی جاتی تھی  جس سے انسان کوو راحت  و سکون کا احساس ملتا تھا۔ 
  حفظان صحت کےلیے  غسل کا استعمال ضرور کریں  جس کی  تجویز  رومی حکیموں نے بخوبی کی تھی کیونکہ صاف رہنا امراض سے دور رکھتا ہے ۔اس کے علاوہ بھی  ان حماموں کے دوسرے فائدے بھی ہیں جن میں  پٹھوں  میں نرمی اور ان کے درد میں افاقہ سمیت گردش خون میں اضافہ  اور پسینے کے راستے جسم سے فاسد مادوں کا اخراج قابل ذکر ہیں۔

دور عثمانی میں یہ حمام  انسانوں کے درمیا سماجی قربت کو بڑھانے کا بھی سبب بنے، شادی کی عمر کو پہنچنے والی خواتین کو یہاں پسند کیا جاتارہا،شادی سے دو روز قبل دلہن کو حمام میں لایا جاتا تھا حتی ماں بننے کے بعد بھی خواتین ان حماموںکا رخ کرتی تھیں۔

 استنبول میں پانی اور لکڑی کی ضرورت بڑھنے پر سلطان  محمود اول نے  شہر میں بڑے حماموں کی تعمیر رکوادی جس کی  و جہ سے حمام اکبر کا اعزاز تین صدیوں پرانے چاعل اولو حمام کو حاصل ہے ۔ اس حمام کو نیو یارک ٹائمز  جریدے نے مرنے سے قبل  دنیا میں سیر کرنے والے ہزار مقامات میں شامل کیا ہے۔



متعللقہ خبریں