لب آب سے آئی تہذیب

احمد سوئم سے منسوب آبی سبیل

1562209
لب آب سے آئی تہذیب

اس پروگرام میں ہم  آپ کو  اناطولیہ میں پانی سے  ملی تہذیب  اور   اس سے پروان چڑھی ثقافت کے بارے میں بتاتے ہیں، ابتدائی دور کے  اہم مفکر تھالیس کے مطابق پانی سر چشمہ حیات ہے جو کہ جانداروں سمیت غیر جانداروں کی بھی نشو نمااور ان کی  افزائش میں اہم کردار  ادا کرتا ہے ۔

 پانی  تاریخ  انسانی کے تمام عقائد میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ کثیرالدیوتائی مذاہب اور   خدائے واحدی کے پیروکار آسمانی مذاہب میں پانی  ہمیشہ سے  اہم رہا ہے۔ اسلام اختیار کرنے سے قبل بھی ترک آبادی   وحدانیت خداوندی پر یقین رکھتی تھی جس کی وجہ سے ان کی روز مرہ کی زندگی میں اپنی کی  اہمیت اپنی جگہ مقدم تھی۔
افسانوی کہانیوں میں  ترکوں کی تخلیق کو بھی پانی سے عبارت کیا گیا ہے۔ آسمانی خداوند نے پانی پر  سیاہ چٹانوں کو نصب کرتےہوئے زندگی کی بنیاد رکھی  لہذا دریا  اور نہریں ترکوں کےلیے مقدس مانی جاتی رہیں کیونکہ زندگی کا آغاز ہی پانی سے ہے، ترکوں نے حلقہ بگوش اسلام  ہونے کے بعد   یہ بھی جانا کہ کلام الہی میں کہا گیا کہ ہم نے تمما جانداروں کو پانی سے پیدا کیا ہے۔ قدیم عقائد نے  نئے ادیان کی  رہنمائی کی جس میں اپنی کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا۔ اور جب اسلام   کا ظہور ہوا تو  اس وقت  پانی کو  پرہیز گاری اور انسانی صفائی کے لحاظ سے اہم مانا گیا ۔ اسلام میں پانی کی انسانوں تک فراہمی کو ممکن بنانا خیر و ثواب کا ذریعہ بھی قبول کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ترکوں نے پانی کی سبیلیں ،چشمے اور حمام وغیرہ بنوائے۔

اناطولیہ میں ترکوں  نے جو پہلی سبیل لگوائی وہ مغربی اناطولیہ میں  موجود قدیم یونانی طرز تعمیر  سے متاثر دکھائی دیتی ہے۔ یہ سبیل ضلع ماردین  میں ترک ارتوک قوم کے ایک مدرسے میں  موجود ہے،سلجوکی دور میں   آبی طرز تعمیر کو  ترقی ملی  اور انہوں نے ان سبیلوں کو مدرسوں ، مساجدوں،شاہراہوں کے کناروں  اور دیگر اہم مقامات پر نصب کروایا۔ سلجوکی دور کے سب سے بہترین نل  کا شمار ضلع سیواس می واقع گوک مدرسے میں کیا جاتا ہے جس کی طرز تعمیر کی جھلک سلجوکی اناطولیہ کے دیگر علاقوں میں بھی نظر آتی ہے۔ ضلع ارض روم میں دو میناری مدرسے میں  موجود سبیل بھی اسی طرز تعمیر کی حامل رہی ۔

  ترکوں نے  پانی کی اہمیت کو مد نظر  رکھنے کی خاطر کار خیر کے تحت  متعدد سبیلیں اور نل لگوائے۔سڑک کے کنارے،دیہی علاقوں  اور مختلف میدانوں اور محلوں میں  پانی کے نل لگوائے  جو کہ لوگوں کے درمیان سماجی قربت بڑھانے کا بھی سبب بنے۔ اس کے علاوہ چرواہوں کے لیے بھی  بعض مقاما ت پر  نل لگوائے گئے تھے حتی چرندوں پرندوں کے لیے بھی پانی کے حوض اناطولیہ کے  مختلف علاقوں میں ہمیں نظر آتے ہیں۔
  عثمانی دور میں اناطولیہ میں لگی یہ سبیلیں انتہائی ساہد ہوتی تحِں مگر استنبول میں لگے پانی کے نل کافی خوشنما اور  آرائش کے مظہر ہوتے تھے کیونکہ استنبول ایک دارالخلافہ تھا جس کی عظمت و شان و شوکت کا خیال رکھنا  وقت کی ضرورت تھی ۔
استنبول  کے تقریبا ہر نل اور سبیل فن معماری کانمونہ تھی ۔ فتح استنبول کے بعد شہر کی آبادی  بھی بڑھنے لگی  جس کےلیے پانی کی ہودیاں بنائی گئیں  جن کو ڈھکنے کےلیے ان پر گنبد نصب کیے گئے۔ ان سبیلوں پر چھجے بھی بنائے گئے تھے تاکہ لوگ بارش سے محفوظ رہ سکیں۔ اس طرح کی  سبیلیں استنبول کے گلی کونوں میں نظر آتی تھیں جنہیں چھوٹے محلوں سے تشبیہہ دی جاتی تھی ۔
== 
ان آبی سبیلوں  کی آرائش میں  عام طور پر نباتاتی اور جیو میٹریکل نقوش  اور خطاطی کا خیال رکھا جاتا تھا۔ انسانی شبیہات اور مجسمہ سازی  اس دور میں مذہبی طور پر ممنوع تھی لہذا  پانی کی یہ سبیلیں  پھول پتیوں، پھلوں کی طشتریوں   اور  دیگر چیزوں کے آرائشی  استعمال سے آراستہ کی جا تی تھی۔ان سبیلوں  کی  تیاری میں سنگ مرمر کا استعمال ہوتا تھا  جن کے کتبوں پر اسے تعمیر کروانے والے کا نام بھی کندہ کیا جاتا تھا۔
استنبول  میں پانی کی سبیلیں اپنی مثال  آپ تھیں جن میں توپ کاپی کے داخلی دروازے  یعنی باب ہمایوں  اور آیا صوفیہ کے درمیان موجود  ایک سبیل قابل ذکر ہے جسے احمد سوئم سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس پانی کی سبیل کے اطراف میں جو نقش و نگاری  کندہ ہے اس میں پھلوں کی طشتریوں اور گلدانوں کی شبیہات نمایاں نظر آتی ہے۔
سلطان احمد میدان میں ایک واقع    جرمن  پانی کی سبیل دوستی کی علامت ہے    جسے سلطنت المانیہ  کے شاہ کی طرف سے بنواتےہوئے خیر  سگالی کے طو رپر استنبول میں نصب کروایا گیا تھا۔یہ ایک مختلف طرز معماری کا نمونہ ہے جن میں موزائیک پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

ترکوں کے اناطولیہ میں آباد ہونے کے ساتھ ہی مختلف قسم کے پانی کے نل دیکھنے میں  آئے  جس میں ترک  فن معماری کی نفاست  کا خاص خیال رکھا جاتا تھا جن میں وقت کے ساتھ ساتھ جدت پسندی کو بھی  اپنا یا گیا تھا۔

 پانی کی یہ سبیلیں الہڑ دوشیزاوں اور  گبھرو جوانوں کے جذبہ محبت کو پروان چڑھانے،  خوانچہ فروشوں اور لوگوں کی آپس میں روزمرہ کی گفتگو کرنے   کا اہم مرکز ہوا کرتی تھی٘۔ ان پانی کی سبیلوں کا ذکر ہمیں  ترک لوک گیتوں میں بھی نظر آتا ہے  جو کہ دیکھنے میں چھوٹی مگر  کام میں بڑی نظر آتی تھیں۔
ترک ثقافت اور مذہبی لحاظ سے اہم طرز تعمیر میں شمار   پانی کی ان سبیلوں اور نلوں کا ذکر کیا ۔

 



متعللقہ خبریں