لب آب سے آئی تہذیب

برگامہ کا تاریخی شہر

1557906
لب آب سے آئی تہذیب

قدیم تاریخ کا ذکر ہوتےہی میتھولیوجی اور  میتھولوجی کا حوالہ دیتے ہی ذہن میں قدیم  انسانی تاریخ کانام آتا ہےاناطولیہ کے مختلف شہروں میں میتھولوجی سے منسوب دیوی دیوتاوں   کےنام سے تعمیر کر دہ   عمارتیں نظر آتی ہیں جن میں برگامہ کا نام قابل ذکر ہے۔جس کے فرمان روا  کا نام زیوس ،اس کی بیوی  ہیرا   تھی  جسے برکت کی  دیوی کہا جاتا تھا۔صحت کا دیوتا اسکولیپیوس اور مصر  کے دیوی دیوتاوں کی تعمیر کردہ  عمارتوں سے برگامہ ذرا الگ تھا۔ برگامہ   قدیم دنیا میں ایک ثقافتی مرکز رہا ۔ آج ہم آپ کو مغریب اناطولیہ کے چھوٹے سے مگر اہم ترین علاقے برگامہ کا ذکر  کریں گے۔

 برگامہ کی سلطنت کا صدر مقام پرگامون یعنی برگامہ   کافی مختلف تہذیبوں کا گہوارہ رہا ۔ یہ شہر  ضلع ازمیر کے قصبے برگامہ میں واقع ہے  جس کی پانی سے متعلق تعمیرات کا آج حوالہ دیا جائے گا۔
برگامہ  رومی،استنبول اور القدس کے ہمراہ قدیم دنیا کے بہترین آبی نظاموں کا مرکز رہا ہے۔ اس حوالے سے کافی اہم تصانیف اور تحقیقات بھی ہمیں ملتی ہیں جن  کے بعض آثار آج باقی ہیں۔ شہر میں  پہلے پہل پانی کی رسائی نلوں سےممکن بنائی گئی  جسکے بعد مٹی کے بنے پائپوں کا رواج عام کیا گیا ۔اس نظام کے ذریعے شہر سے پینتالیس کلومیٹر دور  مدرہ نامی پہاڑ س پانی  لایا جاتا رہا ۔اس  راستے کے درمیان گہری وادیاں بھی واقع تھیں جن کی اوسطا گہرائی ایک سو ساٹھ میٹر کے لگ بھگ تھی ۔ اس تمام راستے میں  دو لاکھ سے زیادہ مٹی کے بنے پائپوں کا استعمال کیا گیا  جن تک رسائی بیسویں صدی تک بازیافت نہیں ہوئی ۔

پرگامون  کا قیام ایک  وادی میں کیا گیا تھاکیونکہ اس دور میں زمینی ساخت اہم  تصور کی جاتی تھی یہاں   تعمیر کردہ عمارتیں  کافی منفرد  تھیں۔
 قلعہ اور   فصیلوں کے حامل بالائی شہر  میں  شاہی امرا، کمانڈر اور  مفکرین رہا کرتے تھے۔یہاں ایک قدیم تھیٹر بھی تھا جس میں دس ہزار افراد کی گنجائش تھی زیریں شہر   میں اکھاڑے اور ہیرا  کا مقدس معبد واقع تھا۔ رومی دور سے وابستہ مصری دیوتاوں کے لیے اینٹوں سے بنی بعض تعمیرات بھی بنائی گئیں جو کہ آج بھی اصلی حالت میں وہاں موجود ہیں۔
 شہر ہر لحاظ سے اہم رہاہے  مگر اسے دنیا کے تاریخی مقامات میں جس عمارت نے شمار کروایا وہ اسکلیپیوس کا معبد ہے ۔ طبی  دیوتاکے نا م پر تعمیر کردہ یہ  معبد دنیا کا پہلا استعمال بھی رہا ہے  جہاں مریضوں   کی تیمارداری کا انتظام موجود تھا۔ اسکلی پیون کا شمار مغربی اناطولیہ کے اہم طبی مراکز میں ہوتا تھا جہاں شعبہ صحت سے متعلق بعض پالیسیاں بھی مرتب کی جاتی  تھیں۔
 اس مرکز کے داخلی دروازے پر" موت کا داخلہ منع ہے" کی عبارت نظر آتی ہے جہاں حاملہ خواتین اور موذی  مریضوں کو جانے کی اجازت نہیں دی ۔ اس معبد میں  شفا یابی   کے حامل تالابوں کے علاوہ  خوابگاہیں بھی تھیں جبکہ مریضوں کو  موسمی حالات سے بچانے کےلیے سرنگیں بھی موجود تھی۔ ان سرنگوں میں مریضوں کو سلایا جاتا تھا اور جب وہ بیدار ہوتے تھے تو اپنے خواب حکیموں کو بیان کرتے تھے جس کے بعد حکیم ان کے لیے موزوں ادوایت تجویز کرتے تھے۔ اس کے علاوہ فاقہ کشی،  پیاس،  نباتاتی  روغنیات اور مرہموں سے مالشوں اور شمسی  شعاوں  کے ذریعے بھی ان کا علاج کیا جاتا تھا حتی یہاں بعض   اوقات عمل جراحی کا بھی استعمال ممکن تھا۔
اس طبی مرکز میں مریضوں کا علاج اور  درس و تدریس کا بھی انتظام  تھا۔ گالین کا یہ طبی مرکز ہیپوکرات کے بعد  شعبہ طبی میں کافی اہم مقام کا حامل تھا جہاں دنیا کی پہلی دوا فروشی کی دوکان بھی موجود تھی۔
اسکلی پیون کے قریب جلدی امراض  میں شفایا بی کا حامل  پانی موجود تھا جسے دور حاضر میں ایس پی اے کا نام دیا جاتا ہے۔ اسپا دراصل لاطینی زبان کا  لفظ ہے جس کے معنی  سالوس پر اکوا یعنی    پانی وسیلہ صحت کے ہیں۔

برگامہ   کی اہم تعمیرات میں زیوس کی قربان گاہ بھی ہے  جسے ٹکڑوں اور حصوں کی حالت میں جرمنی لایاگیا تھا۔  یہ قربان گاہ اپنی فن معماری کے  علاوہ بعض نقش و نگار بھی قابل ذکر ہیں جو کہ انسان کو مبہود کر دیتے ہیں۔اس قربان گاہ کی قدیم دور میں اہمیت اپنی جگہ مقدم تھی جس پر  کندہ نقش و نگاری اور چہرے کے تاثرات  اس دور کے  ماہر مجسمہ سازوں کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت نظر آتا ہے۔ اگر برلن جانا ہو تو اس  بے مثال تاریخی و ثقافتی خزانے  کو ضرور دیکھیں۔

برگامہ کی تاریخ میں اگر چرمی کا ذکر نہ کیا جائے تو پروگرام ادھورا رہے گا۔اس چرمی  کے دونوں جانب تحریر لکھی جاتی تھی جسے جانوروں کی کھال سے بنایا جاتا تھا۔ اسے مقامی زبان میں  پارشومین کہاجاتا تھا  جسکے معنی  برگامہ کاغذ کے ہیں۔ اس کاغذ کی ایجاد کے بعد برگامہ کے ماہرین نے دو لاکھ کے قریب تحاریر درج کیں جو کہ برگامہ کے کتب خانے کی زینت بنیں۔

برگامہ کے قریب آلی نوئی واقع ہے  جہاں کے پل اور دیگر پانی نل مشہورہیں۔ اس شہر کو اسکلی پیوس کا آبائی وطن کہا جاتا ہے  ۔یہاں گندھک کا پانی ہے جس کا درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک موجود ہے جو کہ اپنے دور کے بہترین طبی مراکز میں شامل تھا۔یہاں ہائیڈرو تھراپی کا نظام  رائج تھا مگر دورحاضر میں  یہ مرکز یارتانلی بیراج  کے تلے دب چکا ہے جہاں سے کھدائی کے نتیجے میں کافی مجسمے ،شیشے ،سونے اور چاندی سمیت پیتل  کے سکے بھی ملے ہیں۔

 آج ہم نے ہیلینک،رومی اور عثمانی ادوار  کے اشتراک سے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے میں  شامل برگامہ کے تاریخی شہر کا تذکرہ کیا۔

 


ٹیگز: #برگامہ

متعللقہ خبریں