تجزیہ 47

دہشت گرد تنظیم PKK کے شام میں وجود اور اس کے ترکی پر اثرات

1531449
تجزیہ 47

سیتا  خارجہ پالیسیوں کے تحقیق دان جان اجون کا دہشت گرد تنظیم PKK کی شام  میں صورتحال پر جائزہ ۔۔۔۔

شام  میں  انتشار کے ماحول سے استفادہ کرتے ہوئے دوبارہ سے منظم ہونے والی دہشت گرد تنظیم PKK  نے  اسد انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ قائم کرتے ہوئے   عفرین، کوبانی اور جزرے  میں کانٹون  کے قیام کا اعلان کیا جس کے بعد داعش کے خلاف جنگ کو آلہ کار بناتے ہوئے  امریکہ سے کھٹ جوڑ قائم کیا اور ترکی  کی جنوبی سرحدوں کا رابطہ مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے ایک دہشت گرد ریاست قائم کرنے کی  کوششیں  شروع کر دیں۔  ترکی نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے سد باب کاروائیاں کیں، ولین طور پر  فرات ڈھال کاروائی، بعد میں شاخِ زیتون  اور آخر میں چشمہ امن کاروائی   کی بدولت  اس خطرے کا سد باب  کرنے میں کامیابی حاصل  کرلی ہے۔ تا ہم  اس کے باوجود PKK کا علاقے میں وجود تا حال  برقرار ہے۔

دہشت گرد تنظیم  PKK کی شام میں شاخ پی وائے ڈی  اور وائے پی جی، عربوں کے بھی شامل ہونے والی اس کی بالائی  شاخ کے  نام سے شام ڈیموکریٹک  فورسسز کی شکل میں  دریائے فرات کے مشرقی علاقے  عین العرب  سے لیکر خاصکیہ  جنوب میں راقعہ اور دیروزور میں  اور مغربی  علاقے منبج اور تل رفعت میں  اپنے وجود کو جاری رکھے ہوئے ہے۔  ان علاقوں میں ایک انتظامی ڈھانچہ تشکیل  دیتے ہوئے امریکہ کی سر پرستی میں   یہ شام کے پیٹرول اور قدرتی گیس کے وسائل کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ یہ  بیک وقت  علاقے کی وسیع زرعی اراضی اور ملک  میں پہلے سے ہی کم ہونے والے آبی ذرائعوں پر  وسیع پیمانے پر  قبضہ  جمائے ہوئے ہے۔  ترکی نے  حالیہ چشمہ امن کاروائی کے ذریعے تل عبید  اور راس العین کی طرح کے  علاقوں کو نجات دلانے میں کامیابی  حاصل کی ہے تو بھی دہشت گرد تنظیم ابھی بھی  40 ہزار مربع کلو میٹر  علاقے کو  واقعی حکومت کے طور پر اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔

چشمہ امن کاروائی کے بعد ترکی نے اولین طور پر متحدہ امریکہ  اور بعد میں  روس کے ساتھ خطے  سے متعلق معاہدے قائم کیے۔ خاصکر سوچی میں  روس کے ساتھ  فرات کے مشرقی علاقوں میں ضمانتیں دینے والے ایک  ضابطہ مطابقت پر دستخط کیے گئے۔  جس کے مطابق دہشت گرد تنظیم  نے عین العرب میں مالیکیہ۔ فش  ہابور  لائن تک کے علاقے سے جنوب کی جانب 32 کلو میٹر اندر  تک انخلا کرنے کو قبول کر لیا تھا۔  تا ہم  اس چیز کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس تنظیم نے معاہدے پر عمل در آمد نہیں کیا۔ علاوہ ازیں دہشت گرد تنظیم  تل رفعت ، عین عیسیٰ اور تل  تامیر کی طرح کے مقامات کو استعمال کرتے ہوئے ترکی کے زیر کنٹرول مقامات میں مسلسل طور پر دہشت گرد کاروائیوں  کا ارتکاب کر رہی ہے۔  زیادہ تر کار بم کی شکل میں کیے جانے والے ان حملوں میں  سینکڑو ں شہری اپنی جانوں   سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔  تنظیم یہاں پر ’’نجات دہندہ‘‘ علاقوں کو ہدف بنا رہی ہے۔

لہذا ترکی کے    لحاظ سے دہشت گرد تنظیم  کا شام میں وجود تا حال خطرہ تشکیل دے رہا ہے تو   اگر  یہ تنظیم مقررہ 32 کلو میٹر جنوب کی جانب  پیچھے نہ ہٹی تو پھر  کسی نئی کاروائی کا احتمال بھی قوی دکھائی دیتا ہے۔  موجودہ حالات میں PKK کا شام میں وجود دریائے فرات کے مشرق اور مغرب  کے لیے  ہر لحاظ سے خطرہ تشکیل دیتا ہے



متعللقہ خبریں