لب آب سے آئی تہذیب

افلاطون کی یادگار

1529404
لب آب سے آئی تہذیب

ہمارے گھروں میں نلکے سے پانی  کی دستیابی زیادہ طویل عرصے پرانی بات نہیں، انیسویں صدی تک لوگوں کے گھروں  کے دالانوں اور باغیچوں میں کنویں سے پانی حاصل کیا جاتا تھا اس سےپہلے   شہروں اور دیہاتوں میں نلکا لگا ہوتا تھا جہاں سے سب پانی بھرتے تھے۔شہری و ثقافتی لحاظ سے یہ نلکے خاص مقام  رکھتے تھے۔نلکوں کا ذکر آتے ہی استنبول اور روم  جیسے شہروں کا نام ذہن میں آتا ہے جن کی  طرزمعماری   دیکھنے والوں کو دم بخود کر دیتی ہے۔استنبول مین سلطان احمد سوئم کے اور روم میں تریوی یا  چشمہ عشق  میں پیسہ پھینکنے والے یہ نلکے ہر خاص و عام کی زبان پر ہوتے ہیں۔
ان نلکوں کی تعمیر کا بنیادی مقصد لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی ہوتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تزیئن پر بھی خاص توجہ دینا شروع ہو گئی جو کہ زمانہ وقت کی شان و شوکت کا  تقاضا بھی تھا۔آج کے اس پروگرام میں ہم آپ کو اناطولیہ میں بنائے گئے  تاریخی نلکوں کا ذکر کریں گے۔
==
 انسان کو جس چیز کی ضرورت پڑی  اس نے اپنی عقل و دانش سے اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔اسی وجہ سے ان نلکوں کی تعمیر پہلی بار کب ہوئی یہ جاننا ذرا مشکل کام ہے البتہ اناطولیہ میں ان نلکوں کی پہلی دریافت حطیطیوں اور اورارتوں کے ادوار میں ہوئیں۔
حطیطیوں کو یک ہزار سال دیوتاوں  کی  عوام کہا جاتا رہا ہے جن کا پانی سے تعلق کافی مختلف تھا اور اسے مقدس مانا جاتا تھا۔ وہ لوگ جہاں بستے تھے وہیں پانی کی رسائی کو بھی ممکن بناتے تھے۔حطیطی  قوم نے محلوں اور دیگر مقامات پر نہانے اور دھونے کے لیے پانی حاصل کیا۔ جن میں تالاب اور حوض بھی شامل تھے۔ضلع وان کے قریب اورارت تہذیب  سے مشابہہ نلکے نظر آتے ہیں،اس تہذیب کے تعمیر کردہ تمام نلکے ، تالاب اور حوض اس کرہ ارض میں مقدس مانے جاتے تھے جن کے احترام میں یادگار یں بھی بنائی گئیں۔ ان یادگاروں میں پتھر کا استعمال بھی اسی قوم نے کیا یہی وجہ  ہے کہ  یہ یادگاریں تاحال اپنے پیروں پر کھڑی ہیں۔ایک نلکے کا نام افلاطون چشمہ کی یادگار  ہے جو کہ قونیا  کی بے شہر جھیل کے قریب ایک کھلی ہوا  کے  عجائب خانے میں موجود ہے۔ حطیطی ماہر آثار قدیمہ کے عجائب خانے میں اس نلکے کو خاص مقام حاصل ہے۔

نامور فلسفی پلاتون کو افلاطون کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔بعض روایات کے مطابق،افلاطون بے شہر جھیل کے قریب   کچھ رہاجس کی ایک یادگار  بھی یہاں موجود ہے لیکن یہ بھی کہاجاتا ہے کہ حطیطیوں  کے دور سے   تقریبا نو سو سال بعد  یہاں مقیم رہا ۔
یہ بھی درست ہے کہ  حقائق سے روایات  زیادہ  مستند مانی جاتی ہیں لیکن حقائق کی  روشنی میں افلاطون کی اس یادگار کے بارے میں بتاتے چلیں کہ  اس کی تعمیر میں پتھروں کی اینٹیں استعمال کی گئی تھیں جہاں ایک تالاب بھی تھا جسے حطیطی قوم دیوتاوں کے سامنے پیش ہونے سے قبل نہانے کےلیے استعمال کرتے تھے۔  اس تالاب کے لیے پتھروں  کو مخصوص انداز میں تراشتے  ہوئے  پانی کے دہانے  لا یا گیا۔ان اینٹوں پر بعض نقش بھی ہیں جن میں طوفان ، پہاڑ اور بعض دیوی دیوتاوں کی شبیہات بھی کندہ موجود ہیں۔اس یادگار  کی بعض دیواروں  کے درمیان سوراخ ہوتے تھے جن میں پانی بہتے ہوئےتالاب میں گرتا تھا۔

 افلاطون کی یاد گار حطیطیوں کے اعتقاد اور اس کی فن معماری کو حطیطی قوم کے شایان شان  تھی۔اناطولیہ کی طرز تعمیر  کی حامل یہ عمارت اپنے دور کی ٹیکنولوجی اور نفاست کی آئینہ دار تھی۔
افلاطون کی یادگاراپنی ظرافت کے اعتبار سے قابل توجہ  ہے  بہتے پانی  کو بیروج سے مشابہہ ایک منفرد نظام کے ذریعے استعمال کرنے کی سہولت دیتا تھا۔سن دو ہزار چودہ کی یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں اس یادگارکو بھی شامل کیا گیا۔اس تالاب کے فوارے تاحال کام کر رہے ہیں۔ یہاں کی سیر کرنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اس دور کے وسائل اور محدود امکانات کو برائے کار لاتے ہوئے ان پتھروں کو یہاں تک کیسے لیا گیا۔ان پتھروں کو کس کس نے چھویا اور شفا حاصل کی ۔تاریخی اندازے کے مطابق ،یہ یادگار تین ہزار سال پرانی ہے اوت تاحال اپنے پیروں پر سلامت ہے۔

افلاطون کی یادگار سے ایک سو دس کلومیٹر دور شمال میں ایک اور یادگار ہے جسے یالبرت حطیطی یادگار کہا جاتا ہے۔ایک ایک پانی کا چشمہ نہیں بلکہ بیس پتھروں سے بنی ایک یادگار ہے جس پر ہائیڈروگلف  قسم کی تحاریر کندہ ہیں۔اس کے سامنےایک حوض ہے لیکن خالی ہے ۔

 اناطولیہ کے علاقے مین پانی کے چشموں کا ذکر اس پروگرام میں کیا گیا جن کے بارے میں اہم اپنے اگلے حصوں میں بھی تذکرہ کرنا جاری رکھیں گے۔
آج ہم نےعالمی تہذیب و تمدن سے  لبریز ایک سماجی ،اقتصادی اور مذہبی نمونہ تعمیر  کا ذکر کیا جو کہ متعدد ادوار سے اب تک ثقافتی روایات  کی علمبردار حطیطی قوم     سے وابستہ افلاطون کی یادگار ہے۔


ٹیگز: #افلاطون

متعللقہ خبریں