تجزیہ 46

امریکی انتخابات میں جو بائڈن کی کامیابی اور اس کے کرہ ارض پر ممکنہ اثرات پر جائزہ

1527476
تجزیہ 46

سیتا  سیکورٹی تحقیقاتی ڈائریکٹر  ڈاکٹر  مراد یشل تاش کا امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے جائزہ ۔۔۔۔

3 نومبر 2020 کو منعقد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے بعد ریپبلیکن امیدوار ٹرمپ اپنے عہدے کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے  ہیں۔ انتخابات کے حتمی نتائج کا تا حال اعلان نہیں کیا گیا تو جو بائڈن نے اپنی فتح کا اعلان کر دیا ہے تا ہم ٹرمپ  کے نتائج کے حوالے سے اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔  ٹرمپ کا دعوی ہے کہ انتخابات میں  دھاندلیاں کی گئی ہیں، ریپبلیکنز  دو حصوں میں بٹ چکے ہیں ۔  ان میں سے  بعض ٹرمپ کی شکست کو قبول کرنے  کے حق میں ہیں تو  بعض ٹرمپ کےاعتراضات کی حمایت کرتے ہوئے اس سلسلے میں جدوجہد کو جاری رکھے جانے کا مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔اس بات کا احتمال قوی ہے کہ   ٹرمپ کا عدالت سے رجوع  نتائج کو بدل نہیں سکے گا اور  بائڈن 2021 جنوری میں نئے امریکی صدر کا عہدہ سنبھال لیں گے۔  بائڈن نے گزشتہ ایک صدی کے انتخابات  میں سب سے زیادہ ووٹ لیے ہیں۔ جو کہ ایک عظیم فتح کا مفہوم رکھتی ہے تاہم  بائڈن کے سامنے ایک مشکل  سلسلہ موجود ہے۔

اس کٹھن سلسلے میں  کوروناوبا کے خلاف جدوجہد پیش پیش ہے۔  بائڈن نے انتخابی مہم کے جاری ہونے کے وقت  اپنی وبا حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔ تا ہم امریکہ میں کورونا واقعات میں ہر گزرتے دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اور ایک ہزار سے زائد انسان روزانہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ بائڈن کو اپنی صدارت کے پہلے برس کورونا سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں اقتصادی معاملات پر بھی خصوصی توجہ دینی پڑے گی ۔ کیونکہ امریکہ معیشت بری طرح کساد بازاری کی کار دکھا ئی دیتی ہے۔ شرح بیروزگاری ، حکومتی حوصلہ افزائی پیکیجیز، عالمی معیشت میں جمود کی طرح کے عناصر  امریکی  معیشت پر دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں۔  صدارت کے پہلے برس کے معاملات صرف ان تک محدود نہیں ۔  ٹرمپ کے دور میں پیدا ہونے والے قطبی ماحول   میں نرمی لانا بھی بائڈن کے کٹھن کامو ں میں شامل ہو گا۔  اس مرحلے پر ان کے سامنے سیاہ فام شہریو ں کا غصہ و ملال موجود ہے۔ فلوئڈ واقع  کے بعد چھڑنے والی نسل پرستی کی بحث  بائڈن کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں۔  انتخابی مہم کے دور میں انہوں نے ان مسائل کو حل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تا ہم اس کو پلک جھپکتے ہوئے حل  نہیں کیا جا سکتا۔

بائڈن  کے صدارتی دور میں  امریکی طاقت  اور قیادت میں بہتری آنے کے تبصرے کیے جا رہے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں بائڈن، ٹرمپ  کے دور میں  اپنی ساکھ اور اثر رسوخ کو کھونے والے امریکہ کو دوبارہ پرانی   طاقت سے ہمکنار  کرنے کی کوششیں بائڈن کے فرائض میں شامل ہوں گی۔ اس دائرہ کار میں بائڈن نے ٹرمپ کی جانب سے پیچھے قدم ہٹائے جانے والے  پیرس موسمی تغیرات معاہدے کو دوبارہ سے لوٹنے کا اعلان کیا ہے۔   عالمی ادارہ صحت  سے تعلقات کو سرعت سے بحال کیے جانے کے اقدامات بھی بائڈن کی  خارجہ پالیسیوں  کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔

مشرق وسطی میں نئی امریکی پالیسیاں بھی تجسس کا حامل ایک معاملہ ہے۔ بائڈن  کے ٹرمپ کی پالیسیوں پر کار بند نہ ہونے کی حقیقت عیاں ہے۔ ایران جوہری پروگرام  معاہدے کو واپسی کے حوالے سے بھی  انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اشارے دیے تھے۔  تا ہم  یہ چیز کس طرح ممکن بن سکے گی یہ موضوع بھی  واضح نہیں۔ بائڈن کی قیادت  میں اسرائیل کے حوالے سے پالیسیوں  میں بھی تنگی آ سکتی ہے۔  سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بھی   متاثر ہو سکتے ہیں۔ خاشقجی قتل  کیس کے  سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں  اہم عنصر بن سکنے کا کہنا بھی ممکن ہے۔ متحدہ عرب امارات اور مصر کی طرح کے اداکار  بھی اپنی اپنی پوزیشن کا از سر تعین کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ شام کے معاملے میں  ایک وسیع پیمانے کی حکمت عملی   اپنانا بھی  اس احتمال میں شامل ہے۔  اس نکتے پر ترکی اور امریکہ  کے باہمی تعلقات  بھی ذہن میں آتے ہیں۔ کئی ایک تجزیات ترک ۔ امریکی تعلقات  میں بحران  کے گہرائی پکڑنے  کا اشارہ دیتے ہیں ، لیکن اس پر قطعی تجزیہ کرنا قبل از وقت ہو گا۔

علاقائی جیو پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔  کیا بائڈن امریکہ کو مشرق وسطی میں دوبارہ  سے پرانی ساکھ سے ہمکنار کر سکیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔  تا ہم یہ کہنا ممکن ہے کہ ان کا کام آسان نہیں ہوگا۔

 

 

 



متعللقہ خبریں