لب آب سے آئی تہذیب

ایفیس کی تاریخی پانی کی نالیاں

1512655
لب آب سے آئی تہذیب

ہزار سالہ  ادوار میں انسانی تاریخ پر اپنی تہذیب کے نقوش کندہ کرنے کا حامل اناطولیہ کا علاقہ ہے جہاں مختلف ریاستوں اور ان کی روایات کو دوام ملا۔ تاریخ اور آثار قدیمہ کے اعتبار سے  یہاں کا ہر علاقہ  مختلف النوع تعمیرات  اور ان کے ماضی کا عکاس ہے۔ گزرتے  دریاوں اور ندیوں کے  کنارے بھی ان تاریخی آثار کا لمس ہمیں محسوس ہوتا ہے جن میں کھلی ہوا کے عجائب خانے بھی قابل ذکر ہیں۔
بنی نوع انسان  درپیش مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرتےہوئے انہیں اپنی آسائش کا ذریعہ بنانے میں ہمیشہ سےمصروف رہی ہے۔سائنس اور ٹیکنولجی میں ترقی سے دور حاضر میں ہم ان مشکلات کو سمجھنے  سےبے خبر ضرور ہیں جو کہ ہمارے آباو اجداد کی مرہون منت ہے ۔انسان کا پانی سےواسطہ بھی اسی بات کا غماز نطر آتا ہے،جس ےسے ہماری وابستگی اور  تعلق انتہائی منفرد مقام حاصل کرچکا ہے۔دیگر جاندارون کے برعکس انسان، پانی کے صحیح  اور مفید استعمال کا بھی حل نکال چکا ہے،اس نے کنویں کھودے، گڑھے کھودے تاکہ  بارشوں اور پگھلی برف کا پانی ذخیرہ کر سکےحتی بہتے پانیوں پر بند  بھی  باندھے۔ قدیم ادوار  سے اب تک جو بھی  علوم اور تجربات کا استعمال انسان نے کیا   اس کےنتیجے میں پانی کی نالیاں بنائیں جس کی بدولت دریائی پانی کو شہروں تک پہنچایا۔
یونانی اور رومی شہروں میں پانی کی قلت کا اہم مسئلہ تھی جہاں اس کی دستیابی کے لیے شہر سے باہر جانا پڑتا تھا۔ دیہی علاقوں سے  اس پانی کو لانے کےلیے وقتا فوقتا  زمینی ساخت  کی مشکلات بھی آڑے آتی تھیں۔ پانی کو چوٹیوں اور وادیوں سے لانا مہنگا اور مشکل طریقہ تھا جس پر اس دور کے انجینئروں نے نالیوں کا طریقہ  ایجاد کرتےہوئے  اس مشکل کا حل تلاش کیا۔ اسی طرح انہوں نے بلندیوں سے پانی کے حصول تک رسائی کے لیے پل بنائے جس پر تعمیر ان نالیوں کے ذریعے پانی کو بلا رکاوٹ شہروں  تک لانا ممکن ہوا۔ اس طریقہ کار  کو دورحاضر کے انجیئنر حضرات  حیرت سے قبول کرتےہوئے  اپناتے رہتے ہیں جن کی مثال رومی طرز کی نالیوں سے ہمیں ملتی ہےیہ نالیاں کشش ثقل کے عمل  پر تعمیر کی گئی تھیں جن میں پتھروں کا استعمال  کیا گیا تھا تاکہ  بہتا پانی آلودہ ہونے سے بچے  اور جن کی آبادی تک رسائی کے لیے ایک نل کا استعمال ہوتا تھا۔
پانی کی یہ نالیاں انسانی زندگی  اور فن معماری کے لحاظ سے قدیم روم کے انجینئروں  کے لیے تنقید کا باعث بھی بنتی رہی   جنہیں مقامی انتظامیہ ہمیشہ غیر ضروری اخراجات  کا طعنہ دیتی رہتی تھی البتہ، رومیوں کے لیے یہ نالیوں اس دور میں اس قدر ناگزیر بن چکی تھین کہ انہوں نے اپنے سکوں پر بھی ان نالیوں کی شبیہات کندہ کرنا شروع کر دیں۔ان سکوں کی وجہ سے  ہمیں ان نالیوں کی تاریخ کا پتہ چلا۔
۔
دور حاضر  میں ہمیں آبادی کی ضروریات کو تاحال پورا کرنے میں مصروف  دو منزلہ پانی کی نالیوں کا وجود  ہسپانوی شہر سویگوویا میں  ملتا ہے۔ ایفیس میں موجود دو منزلہ پالیو  کی نالیاں اناطولیہ میں اہم درجہ رکھتی ہیں جو کہ موجودہ ترکی میں قدیم رومی تہذیب کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔
ایفیس قدیم دنیا کا  اہم ساحلی شہر  اور بحیرہ روم کا سیاسی اور تجارتی مرکز  رہا ہے جو کہ ایشیا اور یورپ کے درمیان واقع ہے۔ رومی سلطنت کے ایشیائی صدر مقام کا  حامل یہ شہر دو لاکھ کی آبادی کے اعتبار سے اپنے دور کا گنجان آباد علاقہ تھا جس کی معماری مین رومی طرز تعمیر صاف جھلکتا ہے۔اس شہر نے ہمیشہ  سائنس،ثقاافت اور فنون لطیفہ میں اپنا نام پیدا کیا۔ رومی سلطنت کے بعد بازنطینی اور عثمانی ادوار  میں بھی اس شہر کو لوگوں نےبسنے کےلیے ترجیح دی ۔
مختلف تہاذیب کا گہوارہ یہ شہر ایفیس  یونیسکو کی عالمی ورثے کے فہرست میں شامل ہے جو کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اپنی عظمت کی داستان زائرین کو سناتا رہتا ہے۔ قدیم دور کے سات عجائبات میں شمال  آرتیمس کا معبد ،اسکندریہ اور برگامہ کے بد قدیم دور کے اہم ترین کتب خانوں میں شمار کیلکس کا کتب خانہ اور پچیس ہزار افراد کی گنجائش کا حامل ایفیس تھیٹر  چند اہم  اور بہترین مثالیں ہیں۔
۔
ایفیس کا شہر ہمیشہ سے پانی کی قلت کا شکار رہا جسے حل کرنے کےلیے مختلف قسم کے طریقہ کار ہر دور میں سامنے آتے رہے ۔ مختلف ادوار میں  پانی کی رسائی کے لیے تعمیرات بنائی گئیں اور مختلف  طریقوں سے علاقے میں  پانی کی دستیابی  ممکن بنانے کےلیے کوششیں کی جاتی رہیں اسی وجہ سے فن معماری اورانجینئرنگ میں  جدت پسندی کے حوالے سے ایفیس کافی مشہور رہا جہاں کا  نظام آب اناطولیہ کے بہترین نظاموں میں شامل ہے۔
صدر مقام  ہونے کی وجہ سےاس شہر کی اہمیت بڑھتی گئی اور لوگوں نے یہاں کا رخ اختیار کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کی آبادی  وسیع ہوتی گئی۔اسی تناظر میں پانی کا  مسئلہ حل کرنا ضروری سمجھا گیا اور دور دراز  سے پانی کو نالیوں کے ذریعے شہر تک پہنچا یا گیا۔ اس کے نتیجے میں   آٹھ   کلو میٹر  طویل اور چھ عدد پلوں کی مدد سے پالیو نامی پانی کی نالیاں تعمیر کی گئیں۔  ان نالیوں کو دربن درہ   نامی دریا جسے قدیم دور میں ماماس کہا جاتا تھا سے منسلک کیا گیا تھا۔یہ نالیاں انجینئرنگ اور فن معماری کی  اعلی مثال ہیں جن کی دیواروں پر ان کی تعمیر میں مصروف افراد کی یاد میں لاطینی اور یونانی تحاریر بھی کندہ نظر آتی ہیں۔
۔
اناطولیہ  کے علاقے میں پانی کی یہ نالیاں تاریخی تعمیرات و آثار کا درجہ رکھتی ہیں،جن کو دیکھنے کا موقع شاذو نادر ہی ہمیں ملتا ہے  البتہ ان کے باقی ماندہ کھنڈرات  اپنے قدموں پر تاحال قائم ہیں جنہیں دیکھنے سے انسان پر ہیجا ن کیفیت سے ضرورلبریز ہوتا ہے۔ ان نالیوں کی تعمیر میں مشہور رومیوں   نےاستنبول،ایفیس،برگامہ اور انطالیہ میں ایسے نقش چھوڑے ہیں جو  کہ ان کے بعد کے ادوار کے لیے سبق آموز  بن چکے ہیں۔ آج ہم نے رومی عہد سے  وابستہ اناطولیہ کی قدیم ترین پانی کی نالیوں پالیو  کا ذکر کیا۔

  

 


ٹیگز: #ایفیس

متعللقہ خبریں