تجزیہ 41

آذربائیجان ۔ آرمینیا تصادم میں ترکی کی معاونت کا کردار

1506886
تجزیہ 41

حالیہ ایام میں اکثر رونما ہونے والے آذربائیجان۔ آرمینیا  تصادم  اب کی بار اپنی سطح میں اضافہ کرتے ہوئے  دونوں ممالک کے مابین کسی جنگ کی ماہیت اختیار کر چکے ہیں  تو    ترکی کا آذربائیجان کی صف میں  واضح طور پر شامل ہونے اور فراہم کردہ  فوجی سازو سامان نے جنگ کے پانسے کو آذربائیجانی فوج کے حق میں بدل دیا  ہے ،   جس سے ترکی ایک سخت گیر طاقت ہونے کا ایک بار پھر مظاہرہ ہوا ہے۔

سیتا خارجہ پالیسیوں کے محقق جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔

ترکی  نے حالیہ دس برسوں  میں دفاعی صنعت  میں اہم سطح کی پیش رفت حاصل کی ہے تو خاصکر سال 2016   میں ناکام بغاوت اقدام  کے بعد سیکیورٹی بیوروکریسی اور ترک فوج  کی از سر نوتشکیل کی گئی۔   ترکی اب  گنی چنی فوجی طاقتوں میں شمار ہونے لگا ہے ۔

ترکی کو  اپنے علاقے میں مغربی محور   پر ایک درمیانی سطح کی طاقت کے طور پر تصور کیا جاتا ہے تو آک پارٹی  کے2000 کی دہائی  سے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد قدم بہ قدم اس   چیز میں تبدیلیاں آنے کا مشاہدہ ہوا ہے۔ اولین  طور پر مغربی ممالک کے اندر سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی  اعتبار سے ایک نرم گوشہ طاقت کے عناصر کی بدولت  کہیں زیادہ     مؤثر ایک طاقت بننے   کی جستجو  نمایاں ہونے لگی تو بہارِ عرب کے ماحول نے   ترکی  کی حرکات و سکنات کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔

مغربی  ممالک میں نئے ترکی کو قبول کرنے میں بد ہضمی ،  آک پارٹی پر کیچڑ اچھالنے  کا موجب بنی۔  اسی دورا ن ترکی کو 15 جولائی 2016 میں بغاوت  اقدام کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مرحلے کے  بعد  ترکی عالمی سیاسی  سانحے پر مغربی محور  سے مکمل طور پر نکلتے ہوئے  اپنے مرکز کے طور پر  روس اور چین کی طرح کے ممالک  کےہمراہ   مغربی ممالک  میں ایک توازن پالیسی تشکیل دینے کی کوشش کی۔ ماکرو اعتبار سے یہ اقدام اٹھائے گئے تو   اس نے نرم گوشہ طاقت  کے لیبل سے نکلتے ہوئے ایک سخت گیر طاقت  بننے کی راہ میں اہم  سطح کی سرمایہ کاری کی جس نے اسے ایک  اہم فوجی طاقت کی ماہیت دلا دی۔

دفاعی صنعت میں کی گئی سرمایہ کاری ، موثر تحقیقات  اور سائنسی امو ر کی بدولت   اس نے دنیا  کے نمایاں اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں جگہ پانی شروع کر دی۔  خاصکر  ڈراؤن اور مسلح ڈراؤنز کے شعبے میں امریکہ کے   بعد موثر ترین ملک ہے۔  ترکی میں  2 ہزار کی دہائی  کے اوائل میں فوجی  سامان کی ضرورت کے 0 فیصد کو بیرون ملک سے خریدا جاتا تھا تو اب یہ شرح 20 فیصد تک گر چکی ہے۔  اور اس نے دفاعی صنعت کے شعبے میں  برآمدات کرنے والے ممالک کی لیگ میں بھی سرعت سے جگہ بنانی شروع کر دی ہے۔

ترکی  نے صرف دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری پر  ہی اکتفا   نہیں کیا،  بلکہ  سیاسی  ارادے کا بھی مظاہرہ کرتے ہوئے خاصکر بغاوت اقدام کے  بعد  سیکیورٹی بیوروکریسی کی مکمل طور پر از سر نو تشکیل کی۔  اس کی فوج موثر اور پائے کی خصوصیات سے مزین ہو گئی۔  ترکی چند برسوں سے ایک نئے طرز کے سلامتی نظریے  پر عمل پیراہوتے ہوئے  خطے میں جنگوں اور جھڑپوں میں  فعال طریقے اپنا دفاع خود کرتا چلا آرہا ہے۔

شام اور عراقمیں دہشت گرد تنظیم داعش  کے خلاف جنگ سمیت ترکی نے لیبیا میں قومی مطابقت  حکومت کے ساتھ فوجی تعاون میں  بھر پور طریقے سے حصہ لیا۔

صومالیہ میں  اس نے نئے سرکاری  ماحول کےقیام میں معاونت فراہم کی ہے تو قطر پر قبضے کی  چالوں کو بھی ناکام بنا دیا۔ مشرقی  بحیرہ روم میں توانائی کی جیو پالیسی میں اپنی فوجی طاقت میں بھی  مؤثر ہونے والے ترکی  نے اب آذربائیجان ۔ آرمینیا جنگ  میں بھی اپنے اثر رسوخ کو استعمال کرنے کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے ۔

یہ تمام تر پیش رفت اور اقدامات ترکی کے  فوجی اور سائنسی اعتبار سے کس قدر مضبوط ہونے کا واضح طور پر مظاہرہ کرتے ہیں  تو صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکی سیاسی ارادے  کے بہار اور بلا تردد کے  اقدامات  نے اب ترکی  کو عالمی سطح پر ایک طاقتور ملک کی ماہیت دلا دی ہے ۔



متعللقہ خبریں