تجزیہ 37

مشرقی بحیرہ روم میں ترکی مخالف عرب، یورپی اور امریکہ محاذ پر ایک اہم جائزہ

1491048
تجزیہ 37

 گزشتہ چند ہفتوں سے مشرقی بحیرہ روم میں رونما ہونے والی پیش رفت نے، مشرقِ وسطی  اور شمالی افریقہ  پر مشتمل علاقے میں جیو پولیٹک جدوجہد  پر مبنی کسی تصویر کو کہیں زیادہ  واضح طور پر منظر عام پر لانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ بلا شبہہ  سپر جیو پولیٹک  جدوجہد کے طور پر تشریح کیا جا سکنے والا یہ علاقہ آنے والے دنوں میں کثیر الاجہتی اداکاروں  پر مشتمل رقابت  میں تیزی آنے والے  علاقوں میں سے ایک کی ماہیت اختیار کرلے گا۔

سیتا سیکورٹی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر اسوسیئٹ  پروفیسر مراد یشل  طاش کا  اس موضوع پر جائزہ۔۔۔

مشرقی بحیرہ روم میں  رونما ہونے والے واقعات  مشرق وسطی میں در پیش جیو پولیٹک رقابت کے ایک دوام کے طور پر جاری رہیں گے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ،  لیوانت علاقے میں مصر اور اسرائیل کے فطری اتحادی کی حیثیت سے  بحیرہ روم کی رقابت اور دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔  اس محاذ کا بنیادی ہدف ترکی  کو ایک دائرے  تک محدود رکھتے ہوئے اس کی حرکات و سکنات کو کم سے کم سطح پر لانا ہے۔ اس وقت مذکورہ ممالک  نے یونان اور قبرصی یونانی انتظامیہ کے ساتھ ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے۔ حالیہ ادوار میں متحدہ عرب امارات۔ یونان  جنگی مشقوں کو اس کی ایک مثال کے طور پر   پیش کیا جا سکتا ہے۔   حد بندی کی تشریح ترکی کی فوجی طاقت کے سامنے توازن قائم کرتے ہوئے اس کے عسکری اثر ِ رسوخ کو کم سے کم سطح تک لانے  کے طور پر بیان کیا جا سکتی ہے۔

گھیرا تنگ کرنے کے پہلے عناصر میں سے ایک ترکی  کے سامنے ایک توازن تشکیل دینے کے لیے  بین الاقوامی اتحاد قائم کرنا ہے۔  اس مفہوم میں یونانی میڈیا میں ترکی کو سرد جنگ کے سوویت یونین سے تشبیہہ دی جا رہی ہے۔ گھیراؤ کرنے کا دوسرا عنصر بحیرہ وم کی سطح پر جیوپولیٹک اور جیو اکانومک  جدوجہد کو تشکیل دیتا ہے۔  اس حوالےسے ترکی کی لیبیا اور بحیرہ روم  میں  حربے  بے چینی کا مرکزی منبع بن چکے ہیں۔

ترکی کا گھیراؤ کرنے کے لیے قائم کردہ اتحاد میں یونان کا ہیڈ کوچ فرانس  سخت گیر اقدامات کے ذریعے  اپنا مقام بنانے کی کوشش کرنے والے ایک ادا کار کی حیثیت سے سامنے آیا ہے۔ ماکرون کی جاب لیوانت میں  اپنے لیے ایک نیا مقام تلاش کرنے کی کوشش   کو اسی زمرے میں اٹھائے گئے ایک قدم کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ملک یورپ میں پیدا ہونے والے خلا کو اپنی پرانی طاقت کو جانبر کرتے ہوئے پُر کرنے اور اس کی وساطت سے جرمنی کے سامنے ایک نئی حیثیت کے طور پر ابھرنے کا متمنی ہے۔

دوسری جانب یونان انتہائی معمولی نوعیت کے جواز کے ساتھ کاروائیوں میں مصروف ہے۔ اگر ہم اس کی ترکی کے مرکز پر وضع کردہ ’آئیڈیالوجی ‘ ہیلنسٹک کو ایک طرف رکھیں تو  کہنا ممکن ہے کہ اس کا ہدف  تنہا نہ رہنے کے لیے کثیرالجہتی اتحاد کے ایک جزو کی حیثیت سے سودابازی کرنا ہے۔ امریکہ، اسرائیل، متحدہ عرب امارات، مصر، فرانس، سعودی عرب   سے مسلسل کٹھ جوڑ قائم کرنے کی وجہ یہی ہے۔  کیونکہ تنہا  رہ سکنے کا ایک ڈراؤنا خواب  یونان کے گہرے خدشات اور خوف کے دوبارہ سے جنم  لے سکنے کا موجب بن سکتا ہے۔

محدود رکھنے کی حکمت ِ عملی   فوجی عناصر سے تعلق رکھتی ہے۔ اس  مفہوم میں امریکہ۔ یونان  دفاعی تعاون  ترکی کے ساتھ فوجی توازن  قائم کرنے کا مقصد رکھنے کی حقیقت عیاں ہے۔ اس دائرہ کار میں  امریکہ کے حالیہ ایام میں اٹھائے گئے اقدامات  کو یہاں پر بیان کرنا ذی فہم ہو گا۔ جزیرہ کریٹ  میں واقع سودا فوجی اڈے کو وسعت دیتے ہوئے اس کو جدت دینا، لاریسہ ہوائی اڈے کی تجدید،  اسٹیفانوویکیو فوجی ہوائی اڈے کی گنجائش میں توسیع،  دیدے آچ بندرگارہ کی تجدید  ان اقدامات  میں سے اہم ترین ہیں۔  دوسری جانب امریکہ کا ایف۔35 کے معاملے میں یونان کو مثبت اشارہ دینا  اور یونان کا فرانس سے 18 عدد رفالے لڑاکا طیاروں کا عطیہ حاصل کرنا   ترکی کے سامنے عسکری توازن قائم کرنے کے حربوں میں شامل ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن انتظامیہ  کی جانب سے قبرصی یونانی انتظامیہ پر اسلحہ کی پابندی کو ہٹائے جانے کا اعلان بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ تا ہم  اس مرحلے پر امریکہ کی جانب سے اس  علاقے کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے کی توقع نہیں کی جاتی۔ کیونکہ ایسا حربہ  ترکی  کو ہاتھ سے کھونے اور قبرص پر ترک متبادل کو عملی جامہ پہنائے جانے کا مفہوم رکھنے  کا ہر کس تخمینہ لگا رہا ہے۔  اس نکتے پر سال 1997 کے بحران کی یا دہانی ذی فہم ہو گی۔ جب  قبرصی یونانی انتظامیہ   نے روس سے ایس۔300 میزائل نظام خریدنے کی کوشش کی تھی تو  ترکی کی جزیرے کا محاصرہ کرنے اور مداخلت کرنے  کے کارڈ کو دکھانے پر قبرصی یونانی انتظامیہ ان میزائلوں کو  یونان کے سپرد کرنے پر مجبور ہو  گئی تھی۔

ترکی کا گھیراؤ  کرنا اور اس کو محدود رکھنا فی الحاال ایک سیاسی منصوبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پر عمل درآمد سب سے زیادہ نیٹو میثاق کو نقصان پہنچائے گا۔ مشرقی بحیرہ روم   اس لحاظ سے ایک اہم امتحان کا مقام   بن چکا ہے۔ مشرقی بحیرہ رووم، اب کے بعد جیو پولیٹیک ، جیو اکانومک اور فوجی  تناؤ کا بار ہا سامنا کرنے والا  ایک اسٹیج بنے گا۔ اس تناؤ میں  عزم اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے والا فریق  کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔



متعللقہ خبریں