تجزیہ 36

ترکی کے اطراف کے ممالک کی تازہ پیش رفت اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات

1484935
تجزیہ 36

امریکہ اور مغربی ممالک میں نمایاں سطح پر پستی کے ساتھ ’’لیبرل عالمی نظام‘‘ میں دراڑیں پڑی ہیں تو اس کی جگہ کسی متبال نظام  کا انضمام نہ کیے جا سکنے والے یہ  کسی مخلوط دور سے گزر رہے ہیں،متعدد جیو پولیٹک پٹیاں خطرات سے دو چار ہیں۔ ہم جھڑپوں اور افراتفری کے دور دورہ ہونے والے ایک درمیانی ماحول  میں ہیں۔ ان حالات میں خاصکر ترکی کے  گرد و نواح کے عراق، شام، لیبیا اور مشرقی بحیرہ  کی طرح کے متعدد مقامات پر  جنگی ماحول کا بازار گرم ہے جو کہ براہ راست ترکی کے قومی مفادات کو متاثر کر رہا ہے۔ ترکی ان حالات میں خارجہ پالیسیوں میں رد و بدل کرتے ہوئے نہ صرف مغربی اداکاروں کے ساتھ بلکہ بیک وقت روس اور چین کی طرح کی بلندی کی جانب مائل عظیم طاقتوں کے ساتھ  نئی شراکت داریاں قائم کرتے ہوئے قومی مفادات کو ممکنہ حد تک بلند ترین سطح تک لیجانے کی کوششوں میں ہے۔

سیتا ، خارجہ پالیسیوں کے محقق جان آجون کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔

حالیہ برسوں میں ترکی کی خارجہ پالیسیوں کا تعین کرنے والے چند اہم موڑ سامنےآئے ہیں۔ جن میں  15 جولائی کا ناکام بغاوت اقدام، مسئلہ شام اور مشرقی بحیرہ روم سر فہرست ہیں۔ سال 2016 میں بغاوت کی کوشش کے باعث دھچکہ لگنے والے  ترکی کو دہشت گرد تنظیم فیتو  کی مغربی ممالک میں پشت پناہی سے  سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ترکی نے اس صورتحال کے اتحادی تعلقات کے اعتبار سے ناقابل قبول ہونے کا اظہار کیا  تو متعلقہ ممالک بالخصوص امریکہ اور جرمنی کے طرح کے ممالک کے ساتھ باہمی  اعتماد کو سخت ٹھیس پہنچی۔ جس کے بعد شام میں مغربی ممالک کی جانب سے تنہا چھوڑے جانے کے وقت بیک وقت امریکہ  کی دہشت گرد تنظیم PKK  کی شام میں شاخ سے تعاون  کے ذریعے علاقے میں دہشت گرد ریاست قائم کرنے کی کوششوں کا مشاہدہ ہوا اور آخر کار چشمہ امن کاروائی کے ساتھ اس  صورتحال  میں براہ راست مداخلت کی گئی۔ اس تمام تر پیش رفت کے وقت  کسی متوازن پالیسی کی تشکیل کے نام پر روس کے ساتھ سیاسی و عسکری تعاون کا عمل شروع ہوا۔  اس دوران ایس۔400 فضائی دفاعی میزائل نظام کی خرید، شام میں امریکہ کو بے بس کرنے کا مقصد ہونےو الے سلسلہ آستانہ میں شراکت  داری  اورعوامی جمہوریہ چین کے ساتھ ایکو ۔ پولیٹک تعلقات کی کوششیں سامنے آئیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ترکی روس کے ساتھ ہر معاملے میں مطابقت قائم نہیں کرسکا ، ان دونوں ممالک کو مدِ مقابل لانے والے متعدد جیو ۔پولیٹک معاملا ت بھی موجود ہیں۔ روس کی اسد انتظامیہ کی حمایت، لیبیا میں جنرل خفتر کے ساتھ عسکری شراکت داری، مسئلہ کریمیا کی طرح کے اہم معاملات میں دونوں  فریقین کے درمیان نظریاتی تفریق موجود ہونے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ تا ہم ترکی کے   لحاظ سے امریکہ سمیت مغربی ممالک کی ترکی کو غیر فعال بنانے کی پالیسیاں  اور اس طرح دہشت گرد تنظیم فیتو ، شام اور مشرقی بحیرہ روم میں  ترکی سے عدم تعاون   اور اسی شکل میں روس کے ساتھ بھی بڑھنے والی  ان کی کشیدگی  نے ترکی اور روس کو کم ازکم بعض معاملات میں شراکت داری قائم کرنے پر مجبور کیا ہے۔

لبیرل دنیا نظام کے زوال پذیر ہونے  والے  تاہم اس کا متبادل تلاش نہ کیے جانے والے اس مخلوط دور  میں ترکی  اسوقت اپنے مفادات  کا مرکزی مقام بننے  کی شکل میں متوازن پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے درپے ہے۔  اس نکتے پر روس اور چین کے ساتھ باہمی تعلقات  فی الحال سٹریٹیجک سطح پر استوار نہیں  ہیں تو بھی ایسا لگتا ہے یہ تعلقات آگے بڑھنے کے عمل کو جاری رکھیں گے۔



متعللقہ خبریں