کیا آپ جانتے ہیں۔ 29

کیا آپ جانتے ہیں۔ 29

1455372
کیا آپ جانتے ہیں۔ 29

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اجوائن کا آبائی وطن مشرقی بحرِ روم کا علاقہ ہے۔ ترکی میں اس کی متعدد اقسام پیدا کی جاتی ہیں اور یہ کہ صحت کے شعبے میں اس کا وسیع استعمال کیا جاتا ہے؟

 

بیماریوں میں جڑی بوٹیوں کا استعمال اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ خود انسانیت کی تاریخ۔ اجوائن کو بھی عوامی طب میں ازمنہ قدیم سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یوں تو اس کے استعمال کے بہت سے طریقے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ عام استعمال ایک مصالحے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اجوائن روغنی اور مقّوی کھانوں کی لذت میں اضافہ کرتی اور ان کے ہضم ہونے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔

 

اجوائن کو بیماریوں میں شفا کے طور پر بھی عوام متعدد شکلوں میں استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً یہ پھیپھڑوں، برونکس، معدے اور انتڑیوں کی تکلیف دور کرنے میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ کھانسی اور بلغم کی صورت میں اس کی چائے پی جاتی ہے اور اس کے پانی سے غراغرے کئے جاتے ہیں۔ اجوائن جسم میں پیدا ہونے والی سوجن کو دور کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔ فشارِ خون کو متوازن کرتی اور خون میں شکر کی مقدار کو کم کرتی ہے۔ اجوائن انتڑیوں کے کیڑوں کے خلاف بھی نہایت فائدہ مند ہے۔ اپنی اینٹی سیپٹک خصوصیت کی وجہ سے اسے جلد کی بیماریوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

 

اگرچہ اجوائن کے بہت سے فوائد ہیں لیکن اس کا غیر محتاط استعمال نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ مثلاً تھرائڈ کے مریضوں یا پھر حاملہ خواتین پر اس کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اجوائن کا تیل پھیپھڑوں کے لئے نقصان دہ ہونے کی وجہ سے اس کے محتاط استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔



متعللقہ خبریں