پاکستان ڈائری - 18

پاکستان اپنی ضرورت کا پانی صرف 13 فیصد  ذخیرہ کرتا ہے باقی  بحیرہ عرب میں گر جاتا ہے۔ بڑے شہروں میں پانی کا مسئلہ سنگین سے سنگین ہوتا جارہا ہے

1420508
پاکستان ڈائری - 18

پانی بہت قیمتی ہے جو پانی شہری حکومت کی طرف سے ہمیں ملتا ہے اس کو بے دریغ ضائع نہیں کرنا چاہیے۔زیر زمین پانی بہت نیچے چلا گیا ہے اور بورنگ کے باوجود پانی نہیں ٓاتا اس لئے زیادہ تر لوگ کا انحصار اس ہی پانی پر ہے جو دریاوں بارشوں کی وجہ ڈیم میں ذخیرہ ہے۔

تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان اپنی ضرورت کا پانی صرف 13 فیصد  ذخیرہ کرتا ہے باقی  بحیرہ عرب میں گر جاتا ہے۔ بڑے شہروں میں پانی کا مسئلہ سنگین سے سنگین ہوتا جارہا ہے،خاص طور پر کراچی جوکہ ملک کا معاشی حب ہے اس کے شہری صاف پانی کو ترس رہے ہیں ٹینکر مافیا کی بلیک میلنگ کا شکار ہیں۔لاہور فیصل آباد راولپنڈی میں بھی یہ ہی صورتحال ہے۔

 

ہر ملک کی بقا کے لئے ڈیم ضروری ہیں جیسے انسانی زندگی کی بقا کے لئے پانی ضروری ہے۔تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد ہم بڑے ڈیم نہیں بناسکے ۔کالا باغ ڈیم لسانی سیاست کا شکار ہوگیا ۔۔اس کے بعد دیامر بھاشا ڈیم معتدد بار تعطل کا شکار ہوا اس کے پیچھے بھارت کی مذموم سازشیں بھی شامل ہیں اور وہ گروہ شامل ہیں جو ملک میں صوبائی عصبت کو فروغ دیتے ہیں ۔

سندھ طاس کا معاہدہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہوا ۔مشرقی دریاوں میں راوی بیاس ستلج ہیں اور مغربی دریاوں میں سندھ جہلم اور چناب شامل ہیں۔مغربی دریاوں پر پاکستان کا حق ہے او مشرقی دریا بھارت کے حصے میں ٓائے۔اسکے ساتھ دریائے سندھ کا ۲۰ فیصد پانی بھی بھارت استعمال کرسکتا ہے۔

 چناب اور جہلم جوکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے ہیں ان پر بھی بھارت نے بڑے ٓابی منصوبے شروع کردئے۔نئ دہلی کی جانب سے مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر جارہی ہے۔بھارت کے دریائے چناب پر منصوبوں بہلگہار،دولہستی،سلال،پاکل دول ،کیرتھاری،برساسر،سوالکوٹ،رتلے،کروار،جیپسا ملا کر ۱۷ پروجیکٹ دریائے جہلم پر اڑی ، کشن گنگا قابل ذکر ہے۔دریائے سندھ  کل ملا کر مغربی دریاوں پر بھارت کے  ہیڈرو پاور چھوٹے اور بڑے ۱۵۵ کے قریب منصوبے ہیں

مشرقی دریا تو پہلے ہی بھارت کے پاس ہیں اب مغربی دریاوں پر اتنے منصوبے پاکستان کی معیشت کو تباہ کردیں گے۔بھارت کی ٓابی جارحیت جاری ہے ۔امریکہ کی واٹر کئری اوور کپیسٹی ۹۰۰ دن ہے ٓاسڑیلیا کی ۶۰۰دن ہے بھارت کی ۱۷۰ اور پاکستان کی صرف تیس دن اور منگلا تربیلا بلترتیب اپنی بیس سے ۳۵ فیصد ذخیرہ کی صلاحیت کھوچکا ہے۔

واپڈا نے حال ہی میں دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے ٹھیکہ ایف ڈبلیو او اور چین کی کمپنی پاور چائنا کو دیا ہے اور دونوں اشتراک سے ڈیم تعمیر کریں گے۔اس منصوبے کی لاگت۱۴۰۶اعشاریہ ۵ ارب روپے ہےیہ ڈیم ۸ سال میں مکمل ہوگا۔اس منصوبے سے ۱۶ ہزار سے زائد نوکریاں حاصل ہوگی اور اس سے ۴۵۰۰ میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔دیامر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر قائم کیا جائے گااس ۸ اعشاریہ دس ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

۔مئی ۲۰۲۰ میں جس روز دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے معاہدے پردستخط ہوئے اور اسکے تحت بھاشا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ڈائی ورژن سسٹم ،پل اور پن بجلی گھر کی تعمیر بھی شامل ہے۔اس کے اگلے روز ٹویٹر پر ایک ہیش ٹیگ بنا جو تھا نو ڈیمز ان انڈس ریور

# No dams on indus river

 شروع ہوا جس میں چار لاکھ ٹویٹس تھے ۔اس پر حیرانگی کی کوئی بات نہیں پیڈ اکاونٹس بوٹس کی مدد سے لاکھوں ٹویٹ کرسکتے ہیں ان میں معتدد اکاونٹس جعلی ہوتے ہیں بہت سے ٹویٹس کو کاپی پیسٹ کیا جاتا ہے۔صوبائی عصبیت کا شکار کچھ شخصیات،دیسی لبرل سماجی کارکنان  قوم پرستوں اور کچھ اینٹی ٓارمی اکاونٹس نے بھی اس ٹرینڈ میں ٹویٹ کئے۔ جن کی ٹائم لائینز پر پاکستان مخالف ٹویٹس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا باہر کے ممالک میں ان کا بھارتی وظیفہ صرف اس وجہ سے لگا ہوا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف منفی مہمات کا حصہ ہیں۔ بھارت نواز لابی ڈیم مخالف ہے کیونکہ وہ پاکستان کی ترقی کے خلاف ہیں۔

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی واپڈا کے چیرمین مزمل حسین نے ٹی آر ٹی اردو سروس کو بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم ۲۰۲۸ میں مکمل ہوگا اس ڈیم میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ۴۵۰۰ میگاواٹ ہوگی جس سے نیشنل گرڈ کو سالانہ ۱۸ ارب یونٹ کی بجلی ملے گی۔وہ کہتے ہیں پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کے لئے واٹر سیکورٹی بہت اہم ہے اس ہی طرح فوڈ سیکورٹی اور انسانی بقا اس کے ساتھ منسلک ہے۔تاہم پاکستان میں بڑے پانی کے وسائل ہونے کے باوجود ہم اسکو صیح طرح استعمال نہیں کرسکے۔بھاشا ڈیم منگلا اور تربیلا کے بعد پہلا میگا پراجیکٹ ہے جو پاکستان کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے ۔پاکستان اس وقت صرف دس فیصد پانی سٹور کرتا ہے ہمارا فریش واٹر کا جو ٹوٹل سالانہ فلو ہے ۱۴۵ ملین ایکڑ فٹ ہے اور ہم صرف ۱۳ ملین ایکڑ ذخیرہ کرتے ہیں۔یہ شرح بہت کم ہے اس لئے یہ بہت ضروری تھا کہ ہم پانی کا ذخیرہ کریں اور اس سے سستی بجلی پیدا ہو جو ہماری صنعتوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ ۔

چیرمین واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم کی فنڈنگ ماڈل کے حوالے سے بتایا کہ پراجیکٹ کے اختتام کے قریب ۳۰ فیصد فنڈنگ حکومت کرے گی۔باقی واپڈا خود اے کے ٹی، کمرشل فنانسنگ کے تحت فنڈ جنریٹ کررہا ہے۔جو فنڈ سابق چیف جسٹس نے جمع کیا تھا وہ بھی ہمارے پاس حکومتی سکیم میں موجود ہے اور گرو کررہا ہے وہ فنڈ بھی  پراجیکٹ کے ٓاخر میں استعمال ہوگا۔

بہت سے فوائد پورے ملک کو دیامر بھاشا ڈیم کے حاصل ہوگے جس میں سب پہلے تو اس کی بجلی کی صلاحیت ۴۵۰۰ میگا واٹ ہوگی، پانی کا ذخیرے کی کپیسٹی ۸ اعشاریہ ۲ملین ایکڑ فٹ ہے۔چھ اعشاریہ چار ملین ایکڑ فٹ اس کی لائیو اسٹوریج ہے جس کو ہم استعمال کرسکتے ہیں۔اس سے ون پوائنٹ ٹو ملین ایکڑ زمین سیراب ہوگی۔ دیامر بھاشا ڈیم سے ہماری صنعتوں کسانوں کو بہت فائدہ ہوگا۔بھاشا ڈیم کی وجہ سے پٹن دھاسو تربیلا چشمہ جناح انکی استعداد کارمیں اضافہ ہوگا۔تربیلا کی عمر میں ۳۵ سال کا اضافہ ہوجائے گا۔

انرجی پروڈوکشن میں سالانہ تین سو چالیس بلین روپے کا منافع ملک کو حاصل ہوگا۔ زراعت کے شعبے میں ون بلین ڈالر کا فائدہ ہوگا۔ اس ڈیم سے سب سے صوبہ سندھ کو ہوگا ان علاقوں تک پانی پہنچے گا جہاں اس وقت صوبہ سندھ میں پانی مسیر نہیں اور انڈس ڈیلٹا کو بھی اس سے پانی ملے گا۔ہم اس وقت سندھ بیراج پر بھی کام کررہے ہیں جوکہ صوبہ سندھ میں تعمیر ہوگا یہاں فریش پانی کی لیک بنے گی جس سے ڈیلٹا کو سمندری پانی کے نقصانات سے بچائا جائے گا۔بھاشا ڈیم کا فائدہ سب سے زیادہ صوبہ سندھ کو ہوگا۔

چیرمین واپڈا کہتے ہیں اگر حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں میں باہمی رضا مندی کے ساتھ معاملات طے پاجائیں تو واپڈا کالا باغ ڈیم پر بھی کام کرنے کو تیار ہے

وہ کہتے ہیں مغربی دریاوں پر بھارت کے ۱۰۰ منصوبے مکمل ہوگئے ہیں اور بھارت نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اس وقت انکے ۵۶ ڈیم زیر تعمیر ہیں جبکے اس پانی پر حق کا پاکستان کا ہے۔

 ۔پانی ہوگا تو ہمارے کسان خوشحال ہوگے ہماری صنعتوں کو سستی بجلی ملے گی اور ہمارے پاس پانی ذخیرہ ہوگا ہم جب چاہیے پانی اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کریں گے ۔اس طرح دریاوں کا بہاو بھی ٹھیک رہے گا اور انڈس ڈیلٹا بھی محفوظ رہے گا اس لئے میں کہتی ہو ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے اس کے ساتھ چھوٹے ڈیم سٹوریج کے لئے ذخیرے بنائے جائیں متبادل انرجی جیسے ہوا شمسی توانائی سمال ہیڈرو پلانٹس پر بھی کام کیا جائے۔ ۔ اس کے ساتھ پانی کی بچت کریں یہ میٹھا پانی اللہ کی نعمت ہے اسکی قدر کریں۔



متعللقہ خبریں