پاکستان ڈائری - 13

کرونا کا مقابلہ کریں

1385473
پاکستان ڈائری - 13

کرونا کا مقابلہ کریں

کرونا وائرس دنیا بھر میں تباہ کاریاں پھیلا رہا ہے ۱۸ ہزار سے زائد افراد اسکی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ دنیا بھر میں ۱ لاکھ ۸ ہزار سے زائد افراد اس سے صحت یاب بھی ہوگئے۔چین کے شہر ووہان میں اب صورتحال قابو میں ٓارہی ہے۔چین میں اب تک اس موذی مرض سے تین ہزار سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔چین کے بعد اٹلی میں ہر طرف موت اور وحشت کا راج ہے ۔امریکہ،ایران ، اسپین ، سعودیہ عرب  ، فرانس ، جرمنی اور دنیا کے ۱۹۷ ممالک میں پھیل چکا ہے۔ کووڈ ۱۹ کی علامات میں تیز بخار ،گلے میں درد ،خشک کھانسی ،سانس لینے میں دشواری ، چکھنے اور سونگھنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا شامل ہے۔اس سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ ہاتھوں کو کم ازکم ۲۰ سیکنڈ تک دھوئیں،گندے ہاتھ ، ٓانکھ ،کان،ناک اور منہ پر نہیں لگائیں۔حٖظان صحت کے اصول اپنائیں ،رش والی جگہوں پر مت جائیں اور باہر جاتے وقت این نائن فائیو ماسک پہنیں۔

اگر ٓاپ بیمار ہیں تو گھر سے نا نکلیں ۔کھانستے اور چھینکتے وقت منہ پرٹشو رکھیں۔جن اشیا پر ٓاپ کا ہاتھ زیادہ لگتا ہو اس سطح کو جراثیم کش ملحول سے صاف کریں۔ کرونا وائرس کے خلاف نا ہی کوئی ویکسین ہے نا ہی کوئی دوائی اس لئے احتیاط ہی ہم سب کی صحت کی ضامن ہے۔کہا جارہا ہے یہ چمگادڑ اور چوہے کی وجہ سے انسانوں میں پھیلا ۔ووہان کی مارکیٹ مییں گدھے ، چمگادڑ ،خنزیر،چوہے ،سیے،سیوٹ،لومڑی،بھیڑے اور سانپ کا گوشت بھی فروخت کیا جاتا تھا ان جنگلی جانوروں کے گوشت کی وجہ سے یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوا اسکے بعد یہ انسانوں سے انسانوں میں پھیلا۔اس سے پہلے سارس ، مرس اور ایبولا بھی اس طرح پھیلے تھے۔

پاکستان میں بھی کرونا پھیل رہا ہے اور ہزار سے زائد افراد اس سے متاثر ہوگئے ہیں جبکہ ۱۹ افراد اس سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔ اس وائرس سے بچنے کا حل یہ ہے کہ سماجی کنارہ کشی اختیار کی جائے۔یہ ایک شخص سے دوسرے شخص کو ہوا میں قطروں کے زریعے لگتے ہیں یہ بیمار شخص کی کھانسی چھینک سانس اور مریض کی استعمال شدہ اشیا سے بھی لگ سکتا ہے۔

اس وائرس سے سب سے زیادہ خطرہ شوگر ، بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے عمر رسیدہ لوگوں کو ہے۔گھر پر رہا جائے دفتر کا کام بھی گھر سے کیا جائے۔ہر کام کرنے سے پہلے اور کام ختم ہونے کے بعد ہاتھ دھوئیں جائیں۔اپنے لئے راشن خریدتے ہوئے غریب لوگوں کے لئے بھی راشن لیا جائے۔غیر ضروی باہر نکلنے سے پرہیز کیا جائے۔ ہر شخص دوسرے سے ایک سے ۳ میٹر کا فاصلہ رکھے۔اگر کسی میں کرونا کی علامات دیھیں تو اس سے فاصلہ رکھیں اور اسکا ٹیسٹ کرائیں ۔حکومت کی ہیلپ لائن ہر بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

اس وقت موسم بدل رہا ہے اور بارش ہورہی ہے دوسرا یہ موسم پولن الرجی بھی ساتھ لاتا ہے تو ہر کھانسی نزلہ زکام کرونا نہیں ہے۔عام فلو ٓارام اور ادویات سے ٹھیک ہوجاتا ہے اس ہی طرح الرجی کے لئے بھی ادویات اسپرے اور نیبولایز کیا جاتا ہے اور ٓارام مل جاتا ہے۔تاہم کرونا میں سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔اس وقت صوبہ سندھ کروناسے سب سے زیادہ متاثر ہے گلگت بلتستان میں بھی اسکے کیسز تیزی سے سامنے ٓا ٓرہے ہیں ۔

اس وقت ۱۰۳۹ مریض کرونا میں مبتلا ہیں ،جبکے سات ہلاک ہوچکے ہیں۔پاکستان میں اس وقت جزوی لاک ڈوان ہے،فلائٹ ٓاپریشن معطل ہے جبکے تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ٓاج چین اور جیک ما کی طرف سے امدادی سامان بھی پاکستان پہنچا ہے جس میں فیس ماسک،ٹیسٹنگ کٹس، این ۹۵ ماسک اور طبی ٓالات شامل ہیں۔

اس وقت ہم کو مل اس بیماری کے خاف لڑنا ہوگا محکمہ صحت کے اصولوں پر کار بند رہیں ۔سماجی کنارہ کشی کریں اور گھر پر رہیں۔

--


ٹیگز: #کرونا

متعللقہ خبریں