پاکستان ڈائری - 12

کرونا اور نفیساتی دباو

1382127
پاکستان ڈائری - 12

پاکستان ڈائری - 12

 کرونا اور نفیساتی دباو

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے خوف کا عالم ہے ہر کوئی پریشان ہے یہ بیماری ہر طرف پھیل رہی ہے اور اس کا کوئی علاج موجود نہیں۔دنیا بھر میں شہر بند ہورہے ہیں سکول دفاتر بند ہیں ۔فلائٹ بین لگ رہا ہے ، مالز سینما جم بند ہورہے ہیں لوگوں کو گھروں پر رہنے کی تاکید کی جارہی ہے اس طرح کی صورتحال میں لوگ مختلف مسائل کا بھی شکار ہوجاتے ہیں جن میں نفسیاتی بیماریاں عام ہیں۔اس ہی حوالے سے ٹی ٓار ٹی اردو نے نفسیات کے شعبے کے ماہرین کے ساتھ گفتگو کی تاکہ قارئین کو معلومات مل سکے اور وہ اس مشکل صورتحال میں نفسیاتی دباو کو کم کرسکیں۔

جب بھی کوئی وبا بیماری حملہ ٓاور ہوتی ہے تو انسان خوف زدہ اور مایوس ہوجاتا ہے۔پریشان اور بے چین ہوجاتا ہے اس لیے اپنے معالج سے فون پر مشورہ کرکے کوئی دوائی لکھوالینی چاہیے یا کوئی سانس کی مشق کرنی چاہیے تاکہ انسان پرسکون رہے اس کے ساتھ چہل قدمی ،ایکسائز،باغبانی ، یوگا،گھر والوں کےساتھ بات چیت بھی انسان پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔خاموش مت رہیں بات کریں اس سے انسان کا بوجھ کم ہوجاتا ہے۔

رابعہ خان ماہر نفسیات

رابعہ خان ماہر نفسیات ہیں اور این جی او ای سی ٓائی کے ساتھ وابستہ اور اے وی ٹی خیبر پر ہر جمعے کے روز مارننگ شو میں مینٹل ہیلتھ پر ٓاگاہی دیتی ہیں۔رابعہ خان کہتی ہیں کہ بچےبڑے سکول سے گھروں میں ہیں،سوشل ڈسٹنسنگ کا کہا جارہا ہے ،لوگ ایک طرح سے گھر میں قید ہیں،جو لوگ پہلے ہی نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں وہ مزید پریشانی کا شکار ہورہے ہیں۔وہ کہتی ہیں کرونا عالمی وبا ہے یہ انسانی جسم کے ساتھ نفسیاتی صحت پر حملہ ٓاور ہورہا ہےلوگ انزئٹی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ٹی وی ،واٹس ایپ ،فیس بک ، ٹویٹر پر ہر جگہ صرف کرونا کی بات ہورہی جس کی وجہ سےخوف پھیل رہا ہےلوگ اضطراب کا شکا ر ہیں۔پاکستان میں اس کے کیسز بڑھ رہے ہیں صرف احتیاطی تدابیر حل ہیں کوئی ویکسین موجود نہیں۔سب کی زندگی میں ایک جنگ کی سی صورتحال ہے اور نا امیدی ہے کیونکہ ہر طرف لوگ مررہے ہیں۔کرونا سے بچنے کی دوائی موجود نہیں تو سب نا امید اور بے بس ہیں۔کاروباری سرگرمیاں بند ہورہی ہیں کام نہیں ہیں لوگ کام نہیں کرپارہے انکو پیسے نہیں ملیں گےاس وجہ سےبھی پریشانی ہوگی۔

ہمارے ہاں قوت معدافت کم ہے اس سے بھی لوگ پریشان ہے جس کو کھانسی نزلہ ہورہا ہے اسکو لگ رہا ہے مجھے وائرس ہوگیا۔گھر میں بیٹھنے کا کہا جارہا ہے لوگوں سے ملنے سے روکا جارہا ہے۔یہ سب نفسیاتی دباو کا باعث ہے۔اسکو ڈیل کچھ اس طرح سے کرنا ہے کہ خود کو تھوڑا سوشل میڈیا اور میڈیا سے دور کرلیں ۔صرف مستند نیوز چینل کو دیکھیں اور انٹرینمٹ چینل بھی دیکھیں۔ہر خبر پر اعتبار نہیں کریں خاص طور پر واٹس ایپ نیوز پر دھیان نہیں دیں۔گھر میں رہتے وقت مختلف مشاغل کریں ۔اگر ٓاپ کی انزئٹی کنٹرول نہیں ہورہی تو اپنے معالج سے فون یا سکائپ پر رابطہ کریں۔انزائٹی سوچ کی بیماری ہے اس لئے ٓاپ حال میں جئیں اور اپنی منفی سوچوں کو مسترد کریں۔اچھی غذا کھائیں ،دھوپ میں ۱۵ منٹ بیٹھیں،واک کریں۔بچوں کا خاص خیال کریں وہ بھی اس صورتحال میں ڈر رہے ہیں سوال کررہے ہیں۔بچوں کو احتیاطی تدابیر بتائیں انکا خیال رکھیں۔انکو مختلف مشاغل میں مصروف رکھیں ان کے سوالات کے جوابات دیں انکو چپ نہیں کروائیں۔کرونا کے حوالے سے انکوعام فہم زبان میں معلومات دیں۔گھر سے ٓافس کا کام کرنا مشکل ہے کیونکہ گھر کا کام بھی ہوگا اس لیے اسکو اسپشل روٹین کے طور پر لیں۔سب مل کر کام کریں لیکن گھر میں بھی

مناسب فاصلہ رکھیں۔صبح اٹھیں ناشتہ کریں گھر میں کام کی جگہ بنائیں اور پہلے کام کریں پھر اسکے بعد گھر کے کام، کوئی مووی دیکھ لیں۔گھر کے وہ حصے صاف کرلیں جو ٓاپ ورک ورٹین میں نہیں کرپاتے۔بات کریں اس سے ٹینشن کم ہوتی ہے۔لائف تو تھوڑا سلو ڈوان کریں ماڈرن لائف نے ہمیں ربورٹ بنا دیا ہے اس لیے جتنے دن گھر میں رہیں ٓارام کریں اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزاریں۔نماز پڑھیں

اپنے اردگرد لوگوں کا خیال کریں غصہ نہیں کریں اور

مشکل کے وقت دیہاڑی دار مزدوروں کا بھی سوچیں انکی مدد کریں۔

ڈاکٹرسید کامران حیدر بخاری سیکاٹریسٹ

ڈاکٹرسید کامران حیدر بخاری پنجاب یوینورسٹی ہسپتال سے منسلک ہیں وہ گولڈ میڈلسٹ کنسلٹنٹ سائکاٹرسٹ ہیں ۔وہ ایم بی بی ایس کے ساتھ سیکالوجی میں پاکستان اور ٓائیرلینڈ سے ڈپلومہ ہولڈر بھی ہیں اور انہوں نے بیحیور سائینز میں ایم فل بھی کیا ہوا ہے،ڈاکٹر کامران دماغی امراض،نفسیات،منشیات،اعصاب مرگی اور جنسی امراض کو ڈیل کرتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ بہت سی

جسمانی علامات جیسے معدہ خراب ہونا،سینے میں درد،سانس لینے میں تکلیف،پٹھوں میں کچھاو،جسمانی کمزوری،خوف اور پریشانی کا نتیجہ ہیں۔ٓاج کل کرونا کی وجہ سے ڈپریشن انزائٹی گھبراہٹ وہم بہت عام ہورہا ہے ہم نفسیاتی امراض کا علاج دوائی اور کونسلنگ سے کرسکتے ہیں۔کرونا عالمی وبا ہے اسکے لئے علاج اور دوائی موجود نہیں اس لیے ہم سب کو احیتاطی تدابیر کرنا ہوگی۔مثبت سوچیں اس بیماری میں شرح اموات صرف ایک فیصد ہے اپنے اردگرد لوگوں کا خیال کریں۔صحت مند انسان اس بیماری سے ریکور ہوجاتا ہے اس لیے ڈرنے کی ٖضرورت نہیں صرف احتیاط کریں اور ہاتھ بار بار دھویں۔جن لوگوں کو نفیساتی امراض ہیں وہ اپنے معالج سے رابطے میں رہیں اور اپنی صحت کے بارے میں انکو ٓاگاہ کریں۔جو لوگ نزلہ زکام میں مبتلا ہیں وہ ماسک کا استعمال کریں۔چھینکتے وقت رومال یا کہنی منہ پر رکھیں۔پہلے سے بیمار لوگ اپنا زیادہ خیال کریں ۔احتیاط صرف انفرادی نہیں اجتماعی مقصود ہے اور یہ ہم سب کی صحت کی ضامن ہے۔

ڈاکٹر صدف عرفان عباسی ماہر نفسیات

ڈاکٹر صدف عرفان عباسی کنسلٹنٹ سائیکولوجسٹ اور سائیکو تھراپسٹ ہیں اور

معروف انٹرنیشنل اسلام ٓاباد کے ساتھ منسلک ہیں۔صدف کہتی ہیں کرونا عالمی وبا ہے سب ہی اسکو لیے کر پریشان ہیں ۔وہ کہتی ہیں اس کے بعد سے نفسیاتی امراض میں اضافہ ہوررہا ہے۔لوگوں میں ڈپریشن انزائٹی اور ذہنی دباو بڑھے گا ۔عام روٹین کی زندگی متاثر ہورہی ہے اور بہت سے اہم کام رک گیے ہیں۔لوگ بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔لوگوں میں ڈر پھیل رہا ہے موسم بدل رہا اور بہار ٓارہی اس وقت ویسے ہی سب کو فلو ہوتا ہے لوگوں کو الرجی ہوتی ہیں اب کوئی چھینک بھی رہا ہے یا کھانس بھی رہا ہے تو سب پریشان ہوجاتے ہیں۔بہت سے لوگ کرونا کے ٹیسٹ کرارہے ہیں۔معمولات زندگی رکنے سے لوگ پریشان ہیں۔انزائٹی کے مریضوں میں پہلے ہی یہ ہوتا کہ ہم مرنے والے ہیں تو انکو عام روٹین میں بہت ہوتا تو کرونا کی وجہ سے یہ زیادہ ہوگیا ہے۔لوگوں میں ذہنی دباو زیادہ ہورہا اس کے لئے ہمیں مختلف ٓاگاہی مہم چلانا ہوگی۔ٓان لائن سوشل میڈیا اور میڈیا پر مہم چلائی جایے انکوکرونا کے حوالے سے ٓاگاہی دی جائے لوگوں کی کونسلنگ کی جایے۔بار بار خبریں نہیں سنیں،میل جول کے بجائے رابطے کا زریعہ انٹرنیٹ رکھیں، اپنی صحت کا خیال

رکھیں نہایں با وضو رہیں ۔اپنے بہن بھائیوں دوستوں سے رابطے میں رہیں۔ہاتھ بار بار دھوئیں۔اپنے ٓاپ کو مصروف رکھیں کتابیں پڑھیں ،انڈور گیمز کھیلیں ،کوکنگ کریں ۔بچوں کے ساتھ پیار سے پیش ٓائیں انکو کو اعتماد دیں تاکہ وہ پریشان نہیں ہو۔

 



متعللقہ خبریں