تجزیہ 11

تیل کی قتیمتوں میں تاریخی گرواٹ اور اس کے دنیا بھر پر اثرات پر ایک جائزہ

1378206
تجزیہ 11

 اوپیک پلس کے نام  سے منسوب اوپیک  ارکان اور روس کی طرف سے تشکیل دیا  گیا   ایڈہاک  ایک طویل عرصے سے  مانگ و ترسیل کے توازن  کو وضع کرتے ہوئے تیل کے نرخوں کو ایک معینہ سطح تک رکھنے کی کوشش  میں تھا۔خاصکر امریکی راک پیٹرول پیدا کنندگان کی  جانب سے پیداوار میں اضافہ کرنے سے اوپیک پلس ارکان کے منڈی میں حصے میں گرواٹ  آنی شروع ہو گئی تھی ،  جو کہ تیل کے نرخوں  کا تعین کرنے میں گومگو  کا ماحول پیدا ہونے کے باوجود   یہ ارکان باہمی تعاون کو جاری رکھنے میں کامیاب رہے تھے۔ تا ہم کرونا وائرس کی نئی لہروں  کےتقریباً پوری دنیا کو متاثر کرنے  والے ایک دور میں عالمی  معیشت  شدید تنزلی کی شکار ہوئی  ہے ،  کسی نئے ریسسشن کے اثرات سامنے آنے سے  تیل کی منڈی کو مانگ کا دھچکہ لگا ہے  جس سے اوپیک پلس کے ارکان کے موجودہ تعاون کو جاری  رکھ سکنے  کو ایک طرف چھوڑیں  اس تنظیم کے نمایاں اداکار سعودی عرب اور روس کے درمیان رسٹ ریسلنگ  میں مد مقابل آ گئے ہیں۔

سیاست، اقتصادیات و سماج  تحقیقاتی انجمن سیتا  کے خارجہ  پالیسیوں کے محقق جان آجُن کا جائزہ۔۔۔

چینی شہر ووہان میں ظہور پذیر ہوتے ہوئے پوری دنیا میں  پھیلنے والے کرونا وائرس نے عالمی سطح پر  حفظان ِ صحت کا خطرہ ہونے  سمیت عالمی معیشت کوگہرائیوں سےمتاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ چین اور متعدد ترقی یافتہ ممالک کو اپنے زیرِ اثر لینے والے وائرس  کے جواز میں پیداوار  میں سرعت  سے کمی آئی ہے  تو قرنطینہ میں لیے جانے والے انسانوں نے  روز مرہ کے اخراجات میں سرعت سے کمی لانا شروع کر دی ہے۔ اس صورت  میں فطری طور پر تیل  سمیت تمام تر قیمتی دھاتوں  کے لین دین میں نمایاں حد تک   مندی  پیدا ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی  مالی ادارے اور بینکوں   کے  جائزوں کے مطابق   عالمی رسیسشن پیدا ہونے کا احتمال قوی  دکھائی دیتا ہے۔ ان حالات میں تیل کی پیداوار  میں سال 2020 بھر کے دوران اہم سطح کی گرواٹ آنے کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق یومیہ 3 تا 4 ملین بیرل پیٹرول کی مانگ میں  کمی آئے گی۔

 تیل کی مانگ میں اس  قدر وسیع پیمانے کی گرواٹ  کی توقع کی جاتی  ہے تو  ایک طویل عرصے سے امریکی  راک پیٹرول کی پیداوار میں اضافے کا عمل جاری  ہے۔ امریکہ نے یومیہ 12 تا 13 ملین بیرل تیل پیدا کرنا شروع کر دیا ہے۔ فروغ دیے گئے راک پیٹرول و گیس سے متعلق  ٹیکنالوجی،  پیداواری مالیت  میں بتدریج    کمی لاتی جا رہی ہے۔ مانگ وترسیل سے تعلق رکھنے والے ان اثرات نے  تیل پیدا کرنے والے ممالک    میں  پیش پیش سعودی عرب اور روس  سمیت دیگر متعلقہ ممالک کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔

سعودی  عرب نے اوپیک پلس معاہدے پر عمل  درآمد کو جاری رکھنے حتی ڈیڑہ ملین بیرل تک  گراوٹ کے ساتھ پیداواری  سطح میں کٹوتیا  ں لائے جانے کا مطالبہ پیش کیا ، جس پر روس نے ترسیل میں کٹوتیوں سے  امریکہ جیسے رقیب ممالک کو فائدہ پہنچنے  اور وقت کے ساتھ ساتھ مارکیٹ شیئر  سے ہاتھ دھونے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی نئے معاہدے  میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ ویانا میں منعقدہ اوپیک سربراہی اجلاس کے ناکامی کا منہ دیکھنے  پر  تلواریں میان سے باہر نکل آئیں۔ روس اور سعودی عرب نے اپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتے ہوئے  مارکیٹ شیئر میں اپنے اثرِ رسوخ  کو بڑھانے  کی راہ کو اپنانے کا اعلان کر دیا ۔ یہ پیش رفت تیل کے نرخوں میں یک دم تیس فیصد کی مندی آنے کا موجب بنی۔ متعلقہ ماہرین  کا کہنا ہے کہ تیل  کا بھاو  20 ڈالر فی بیرل تک گرنے کا امکان ہے۔ یہ سطح تیل پیدا کنندگان ممالک میں وسیع پیمانے کے مالی بحران  کو نا گزیر بنا دے گی۔



متعللقہ خبریں