تجزیہ 06

ادلیب کا بحران اور اس کے خطے پر اثرات

تجزیہ 06

ادلیب طویل  عرصے سے شامی  بحران کے اہم ترین محاذوں میں سے ایک  رہا ہے۔ روس اور اسد انتظامیہ نے ستمبر 2018 میں ماسکو اور انقرہ کے درمیان سوچی میں طے پانے والے  معاہدے کے  باوجود  ادلیب میں مخالفین اور سویلین کو ہدف بناتے ہوئے پیش قدمی کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ انتظامیہ کا ہدف ادلیب میں مخالفین کو بے بس کرتے ہوئے عسکری اعتبار سے کمزور بنانا اور اس طرح شام  کی خانہ جنگی میں  فوجی فتح کا اعلان کرنے پر مبنی ہے۔  ملکی انتظامیہ ادلیب کے جنوب میں واقع ترکی کی نگران چوکیوں   کے ساتھ چھیڑا خانی کرتے ہوئے انقرہ کی مزاحمت کو ختم کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ تین فروری کے روز شامی انتظامیہ نے ادلیب کے حملوں  کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا اور براہ راست ترک فوجیوں کو ہدف بناتے ہوئے  8 ترک فوجیوں کی شہادت  کا موجب بنی۔  جس نے ادلیب  بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

ادلیب  کی تازہ پیش رفت کا قریبی طور پر جائزہ لینے والوں کے لیے در اصل یہ ایک تعجب کی بات نہیں   ہے۔ طویل عرصے سے روس اور شامی انتظامیہ نے  ادلیب کے معاملے میں  اپنی  پالیسیوں کو قدم بہ قدم عملی جامہ پہنایا۔   اس چیز پر عمل پیرا ہونے کے چھوٹے بڑے متعدد اسباب موجود ہیں۔ ان میں سے پہلا سبب ادلیب کے مخالف عناصر  کے درمیان  یکجہتی  کے قیام میں ناکامی ہے۔ یہ صورتحال  حیات تحریر ِ الاشام  کی طرح کے ریڈیکل گروہوں کی  میدان میں حاکمیت قائم ہونے کا موجب بنی۔ دوسری وجہ روس کی جانب سے اسد قوتوں کی  جنگ کرنے کی استعداد میں اضافہ کرنے کے اقدام تھے۔  روس کے فوجی اداروں  نے  اسد انتظامیہ کی فوجی اعتبار سے مدد کی اور  ان کی مخالفین سے کس طرح جنگ کرنے کی  تربیت دی۔ علاوہ ازیں  روس کے فضائی حملےانتہائی سفاکانہ تھے۔ گروزنی ماڈل  کے حامل روسی فضائی حملے اولین طور پر  شہروں پر بمباری کرتے ہوئے انہیں انسانوں سے خالی کراتے ہیں  اور بعد میں مخالف گروہوں  سے مکمل طور پر صفایا کرنے کے لیے  ان شہروں کو ناقابل رہائش بناتے ہیں۔ تیسری وجہ علاقے میں روس اور اسد قوتوں کی حاکمیت قائم ہونے پرمبنی ہے۔  ملکی انتظامیہ نے  علاقائی سطح پر شامی بحران میں  دیگر ممالک کی عدم دلچسپی کو ایک موقع جانا اور ادلیب کو مکمل طور پر اپنے زیر کنٹرول لینے کی کاروائی کی۔

آیا کہ تین فروری کے واقع کے بعد ادلیب میں کیا  ایک نیا مرحلہ شروع ہوا ہے؟  اس سوال کا جواب در حقیقت اہم اور بحران کے مستقبل کو متاثر کرنے والے عناصر پر  محیط ہے۔ اس  مرحلے پر ترکی کی اب کے بعد کی حکمت ِ عملی  قدرے اہمیت رکھتی ہے۔  ترکی کے لیے ادلیب محض  ملکی سلامتی کا ایک معاملہ  نہیں۔  اس علاقے سے  مہاجرین کے نئے ریلے  ترکی کو مزید مشکلات سے دو چار کر سکتے ہیں۔ در اصل صدر رجب طیب ایردوان کے مطابق دس لاکھ کے قریب مہاجرین  ترکی کی سرحدوں کی جانب پیش قدمی کر رہے  ہیں۔  اس بنا پر ترکی مہاجرین  کے ترکی کا رخ کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے ادلیب  کی موجودہ صورتحال کا  از سر نو جائزہ لینے پر مجبور ہے۔

ترکی کے سامنے اس وقت 2 متبادل موجود ہیں۔  پہلا متبادل موجودہ صورتحال کو مزید   طول دینے  کا سد ِ باب کرنے کے زیر مقصد اسد انتظامیہ کے خلاف  سخت گیر فوجی پوزیشن سنبھالنا ہے ۔ ترک  فوجیوں  کی شہادت کے بعد ترک وزارتِ دفاع  کے مطابق  ترکی  نے شامی انتظامیہ کے 70 فوجیوں کو ہلاک کرتے ہوئے  ترک فوجیوں پر حملے کا جواب دیا۔  تا ہم یہ متبادل قابل دوام نہیں اور ترکی۔ روس تعلقات کو گہرائی سے متا ثر کر سکتا ہے۔ دوسرا متبادل موجودہ  صورتحال  کی وساطت سے ترکی اور روس  کے مابین  ایک  نئے ادلیب معاہدے کا قیام  ہے۔   اسوقت نہ تو ترکی اور نہ ہی روس باہمی تعلقات میں بگاڑ چاہتا ہے۔  دونوں اداکار  اس چیز سے  کسی  بھی فریق کو فائدہ نہ پہنچنے  بلکہ الٹا نقصان پہنچنے سے آگاہ ہیں۔ اس وجہ  سے  ادلیب  بحران دونوں ممالک کے بحران کے اعتبار سے   ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔

ادلیب  بحران کا انسانی پہلو   عالمی  برادری میں اس معاملے کا دوبارہ جگہ پانا ہے۔ یورپ اس بحران کے محض مہاجرین کے عنصر  میں  دلچسپی ظاہر کر رہا ہے اور در حقیقت ترکی کے کام کو آسان بنانے والے اور انسانی المیہ کا سد باب  کرنے والے کسی موقف سے دور  رہنے پر اکتفا کر رہا ہے۔  اُدھر امریکہ  ادلیب کے  معاملے میں محض سیاسی بیانات دیتے ہوئے  ترکی کی حمایت  کا مظاہرہ  کر ر ہا ہے۔ بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بچے، خواتین اور بوڑھے لوگ ہیں۔ اگر یہ بحران مزید طول پکڑتا گیا تو اس کا ہرجانہ نہ صرف ترکی بلکہ یورپ کو بھی ادا کرنا پڑے گا۔ اس وجہ سے    ادلیب کو محض ترکی کے  مسئلے کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے اور اس کے حل میں ترکی  کی صف میں شامل ہونا چاہیے۔



متعللقہ خبریں